Home » کالم » سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کی نظیرنہیں ملتی

سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کی نظیرنہیں ملتی

کئی لوگ سیاست کو عبادت کہتے ہیں مگر میں پاکستان کی موجودہ سیاست کو عبادت نہیں ، تجارت سمجھتا ہوں ۔ بلکہ یہ ایسی تجارت جس میں جائز اور ناجائز کا بُہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس تجارت میں لوگ سرمایہ کاری کرکے اقتدار میں آکر کسی نہ کسی طریقے سے کئی گنا کما لیتے ہیں ۔ ان میں اکثر خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار میں آکرصرف اپنا حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام کرتے ہیں ۔ گوکہ اُن میں اکثر کا تعلق مین سٹریم بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہوتا ہے مگر وہ ہمیشہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کےلئے یہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں پھر وہ ملک اور صوبے کی سیاست نہیں بلکہ اپنی ذات اور خاندان کی سیاست کرتے ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے لئے اور آئندہ آنی والی نسلوں کےلئے صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں سیٹ پکی کرلیں ۔ جہاں تک پیسے کا سیاست میں عمل دخل کاتعلق ہے وہ تو تقریباً سارے سیاست دان کرتے ہیں کیونکہ فی الوقت تیسری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں سیاست پیسے کے بغیر کی نہیں جا سکتی ۔ وطن عزیز میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کےلئے 4 سے 5 کروڑ روپے اور قومی اسمبلی الیکشن لڑنے کےلئے 10 سے 15 کروڑ روپے تک ضرورت ہوتی ہے ۔ کئی بڑے سیاسی خاندانوں کے بچے بچیاں میرٹ یا سیلف فناس سکیم کے تحت میڈیکل ، انجینئرنگ یا دوسرے پیشہ ورانہ کالجوں میں چلے جاتے ہیں اور جو پڑہائی میں اچھے نہیں ہوتے وہ ان نالائق اور نکٹو قسم بچوں کو سیاست میں لاتے ہیں ۔ اورکہتے بھی ہیں کہ فلاں بیٹا یا بیٹی پڑھائی میں ٹھیک نہیں انکو سیاست میں لایا جائے گا ۔ ویسے تو اکثر و بیشتر سیاست دان ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیتے ہیں مگر خیبر پختون خوا میں کچھ ایسے مُنتخب نمائندے ، وزیر اور سپیکر ہوتے ہیں جو صرف اپنے انتخابی حلقوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہی سیاسی خاندان جو ہمیشہ حکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں اور جو کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہوتے ہیں الیکشن جیت جاتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ان خاندانوں میں سلیم سیف اللہ خاندان اور ارباب فیملی سرفہرست ہیں اور اب جو خاندان اسی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسد قیصر خاندان ہے ۔ ارباب جہانگیر سے ایک دفعہ گاءوں کے لوگوں نے پوچھا کہ آپ پارٹیاں کیوں تبدیل کرتے ہیں تو اسپر ارباب جہانگیر نے کہا کہ آپکو کام چاہئے یا میری پا رٹیاں بدلنا ۔ مُجھ سے پارٹیوں کے بدلنے کے بارے میں مت پوچھیں مجھ سے کام کے بارے میں پو چھیں ۔ مندرجہ بالا دو خاندان یعنی ارباب اور سلیم سیف اللہ فیملی ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اقتدار میں ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ اپنا حلقہ انتخاب میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور خیبر پختونخوا کے دوسرے حلقوں کی طرف اتنی زیادہ توجہ نہیں دیتے جتنی توجہ یہ اپنے انتخابی حلقوں کی طرف دیتے ہیں ۔ جن جن وزارتوں کے یہ وزیر ہوتے ہیں اُن میں دھڑا دھڑ اپنے علاقے کے لوگوں کو کھپاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی مثا لیں ہمارے سامنے ہیں ۔ موجودہ دور میں اسد قیصر قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں مگر اسد قیصر کے بارے عام لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اسد قیصر اپنے آبائی حلقے جس سے وہ خود قومی اسمبلی اور اُنکے بھائی صوبائی اسمبلی کےلئے مُنتخب ہوئے ہیں ، اُنکے ترقیاتی کام صرف ان دو حلقوں میں اپنے علاقے تک محدود ہے ۔ اے این پی کے سابق دور میں صوابی میں شہید بے نظیر یو نیور سٹی بنائی گئی تھی اور سپیکر صاحب اب اس یونیورسٹی کو اپنے حلقہ انتخاب میں شفٹ کیا تاکہ انکے حلقے کے عوام خوش ہوں اور آئندہ الیکشن اُن کو ووٹ ملے ۔ حالانکہ جس وقت یونیورسٹی کےلئے فیزیبلٹی رپورٹ اور پی سی ون تیار کیا جا رہا ہوگا تو ماہرین نے فزیبلٹی اور پی سی ون رپوٹ پر 100 دفعہ سوچ لیا ہوگا کہ کیا یہ یونیورسٹی کےلئے لوکیشن ٹھیک ہے کہ نا ۔ اور کافی سوچ و بیچار کے بعد یونیورسٹی بلڈنگ اور دوسرے اہم اُمور پر کام شروع ہو چکا ہوگا ۔ یہ یو نیو رسٹی جس مقام پر ہے یہ ایک انتہائی اچھی اور;65;ccessibleلوکیشن ہے اور مردان روڈ اور جہانگیرہ روڈ پر ضلع کے جتنے بھی گاءوں اور مضافات ہیں وونوں اطراف سے اس یونیور سٹی تک آسانی تک پہنچا جا سکتا ہے ۔ مگر یہاں پر قومی مفادات کا نہیں بلکہ ذاتی مفادات کا سوچا جاتا ہے ۔ سپیکر صاحب کے بارے لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ اسد قیصر نے جتنے بھی سولر لاءٹس اور ٹیوب ویلز لگائے ہیں وہ زیادہ تر انکے حلقہ انتخاب میں لگے ہیں ۔ اگر ہم غور کرلیں تو ۷۴۹۱ سے لیکر اب تک خیبر پختونخوا کے 21 وزرائے اعلیٰ اور 30 گورنر رہ چکے ہیں ۔ اگر ہم خیبر ختونخوا کے ماضی قریب اور بعید کے وزیر اور وزرائے اعلیٰ کی کا ر کر دگی کا جائزہ لیں تو اُن میں خیبر پختونخوا کے امیر حیدر خان، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ فضل حق ،سردار حسین بابک، فضل علی حقانی اور موجو دہ وقت میں صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان ایسے وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزیر ہیں جنہوں نے و ریر خیبر پختونخوا میں تعمیراتی کام کئے ہیں ۔ فضل حق اورا میر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا میں جتنے ترقیاتی کام کئے اُنکی نظیر نہیں ملتی ۔ امیر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا کے ہر حصے میں کالج یونیورسٹی اور سکول بنائے ۔ اس طر ح مرحوم فضل حق نے اپنے دور اقتدار میں صوبے ہر علاقے میں ترقی یافتہ کام کرائے تھے، موجودہ دور میں وزیر بلدیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بے تحاشہ ترقی یافتہ کام کرائے ہیں ۔ ان سب کو انکی اچھی اور شاندار کار کر دگی پریاد رکھا جائے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative