Home » کالم » سابق وزیراعظم کی وطن واپسی قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے
adaria

سابق وزیراعظم کی وطن واپسی قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے

adaria

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لندن سے وطن واپسی نے ایک بار پھر مسلم لیگ(ن) میں جان ڈالی ہے ایک طرف ان کے استقبال کیلئے کارکن پرجوش ہیں تو دوسری طرف گرفتاریوں کا عمل بھی جاری ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے انتظامات کرلئے ہیں۔ نواز شریف اورشہباز شریف کارکنوں کی گرفتاریوں کودھاندلی قرار دے ر ہے ہیں جبکہ چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی گرفتاری یقینی بنائیں گے رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی گرفتاری کیلئے نیب کی 16 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ رینجرز کی تعیناتی کردی ، اڈیالہ جیل میں انتظامات مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ پیمرا نے نواز شریف کی وطن واپسی پر براہ راست کوریج پر پابندی عائد کردی ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کٹھ پتلی اور نگران حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ مل گئی ہر صورتحال اپنے قائد کا استقبال کریں گے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کے استقبال کرنے والوں کو گدھا قرار دیدیا اور کہا ہے کہ جعلی منڈیلا کا استقبال کرنے والے بے ضمیر ہوں گے شہباز شریف اندر سے خوش ہیں کہ نواز شریف پکڑا گیا ، نواز شریف 300 ارب روپیہ باہر لے کر گئے تھے یہ لاہور میں ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں شریف خاندان کا علاج ہوسکے ، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ جیل اور پھانسی میرے قدم نہیں روک سکتے ۔ جیل کی کوٹھڑی اپنے سامنے دیکھ کر بھی ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے کیلئے پاکستان جارہا ہوں ، قوم مشکل میں ہے اس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں وہ ضرور وطن واپس آئیں اور اپنے خلاف فیصلہ پر اپیل کا حق استعمال کریں پانامہ کے ہنگامہ میں ان کو جو رسوائی ملی اس کا ازالہ ممکن نہیں نواز شریف بار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے اور اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے عدلیہ اوردیگر اداروں کیخلاف مورچہ زن ہیں ان کا معاملہ چور مچائے شور والا ہے سابق وزیراعظم کا بیانیہ ان کے گلے میں پڑچکا ہے ۔ سابق وزیراعظم عدالت میں ثبوت پیش کرتے اور اپنی بے گناہی ثابت کرتے تو آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا لیکن یہ مکافات عمل ہے نواز شریف کے دورحکومت میں کرپشن میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور کوئی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن سے بچ سکا ہو بیرونی قرضے دھڑا دھڑ لئے گئے اور قومی خزانے کو بیدردی سے لوٹا گیا جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہوکر رہ گیا ، سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک مسائل و مصائب کی دلدل میں پھنس گیا بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ امن و امان کی صورتحال غیر تسلی بخش رہی عوام کا معیار زندگی تنزلی کا شکار ہوا لوگوں کی جان و مال کی حفاظت بھی سوالیہ نشان بنی رہی ۔ تعلیم و صحت کے مسائل جوں کے توں رہے ۔ صاف پانی کی عدم دستیابی پٹرول و گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ ہوتا رہا جس نے لوگوں کی زندگی کو دوبھر کرکے رکھ دیا اس کیفیت کو بھانپتے ہوئے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیے اور عوامی حقوق کی بحالی اور نا انصافی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کیے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوئے چیف جسٹس نے مسائل زدہ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے دن رات ایک کررکھاہے ۔ بلا شبہ چیف جسٹس کا کردار ایک مسیحا جیسا ہے عوام اس کو سراہا رہے ہیں فوری انصاف کی فراہمی سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن صد افسوس کہ سابق وزیراعظم ایک آزاد و خودمختار عدلیہ پر بھی حرف گیری کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور عدلیہ کو متنازع بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں اور اپنے خلاف سزا کو انتقامی قرار دے رہے ہیں لیکن عوام جانتے ہیں کہ حقائق کیا ہیں کس نے ملک کو لوٹا اور قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ، عوام جانتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں معصوم بچوں اور شہریوں کے ساتھ کیا سفاکی کا کھیل کھیلا گیا ، لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کی سازش کس نے کی ذاتی مفاد کس نے حاصل کیا آج ملک ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے جس کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں جن کی ناقص پالیسیوں نے یہ حشر نشر کیا سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی سزا کیخلاف اپیل کریں اور سزا بھگتیں، عوام کو نہ اکسائیں اداروں کی ساکھ اور وقار کو مجروح نہ کریں۔ سابق وزیراعظم اگر مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماؤں کے صائب مشوروں پر عمل کرتے تو آج بند گلی میں داخل نہ ہوتے انہوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے، عوام صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں یہی ان کیلئے بہتر ہے ، سابق وزیراعظم سزا یافتہ ہیں ان کا استقبال سمجھ سے بالاتر ہے ۔ خدارا کارکنوں کو اشتعال انگیزی نہ دلائیں یہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ راستہ ہے ذوالفقار علی بھٹو عوام کی خاطر پھانسی چڑھ گیا مگر رویا نہیں اور نہ ہی صدر سے اپیل کی بینظیر بھٹو کو لاٹھی چارج عقوبت خانے قید و بند کی صعوبتیں ان کا راستہ نہ روک سکیں اور ملک و قوم کی خاطر انہوں نے اپنی جان قربان کردی لیکن ان کی سعی جمہوریت کیلئے تھی ، ڈکٹیٹروں کیخلاف تھی لیکن سابق وزیراعظم تو سزا یافتہ ہیں اس پر ان کے آنسو بہانا عجوبہ سے لگتے ہیں۔
آصف زرداری کو الیکشن تک شامل تفتیش نہ کرنے کاحکم
سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو الیکشن تک شامل تفتیش نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ عدالت نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا نہ ہی ان کو ذاتی حیثیت ہیں طلب کیا گیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے علاوہ تمام ملوث افراد کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6 اگست تک ملتوی کردی اور قرار دیا کہ الیکشن کے بعد ایف آئی اے دونوں کو تفتیش کیلئے طلب کرسکتی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پتہ نہیں یہ تاثر کیسے لیا گیا کہ ہم نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرایا ہم نے تو پیراگراف نمبر 4 میں شامل نامزد ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا لیکن اعتزاز احسن نے پریس کانفرنس کی اگر عدالت کے حکم میں ابہام تھا تو درستگی کیلئے عدالت سے رجوع کرلیتے جو عدالت کاحکم ہی نہیں تھا اس پر شور مچا ہواہے ہر شخص کا اپنا وقار ہے کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے ۔ ایسا حکم نہیں دیں گے جس سے کسی کا حق متاثر ہو ۔ عدالتی وضاحت کے بعد آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے تحفظات دور ہو جانے چاہئیں، عدالت آئین و قانون کے مطابق حکم دیتی ہے سپریم کورٹ نے جب ایسا حکم نہیں دیا تو پھر یہ تاثر دینا غلط ہے کہ عدالت نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا ہے ۔ تاہم کرپشن ایک ناسور ہے اس کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز کاررائی ازحد ضروری ہے اس کے بغیربدعنوانی کے مرتکب قانون کے شکنجہ میں نہیں آسکیں گے ۔ سپریم کورٹ کرپشن کیخلاف جو احکامات دے رہی ہے وہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے کرپشن ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے جب تک اس کی روک تھام نہیں ہوگی اس وقت تک اداروں میں ترقی نہیں ہو پائے گی۔ کرپٹ مافیا کیخلاف موثر کارروائیوں کی ضرورت ہے ان کارروائیوں میں شفافیت ہونی چاہیے نیب اور دیگر ادارے بلا امتیاز کارروائیاں کریں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative