Home » کالم » سانحہ گولڈن ٹیمپل ۔ نئی دہلی کےلئے رستاہو ا ناسور

سانحہ گولڈن ٹیمپل ۔ نئی دہلی کےلئے رستاہو ا ناسور

بھارت کے شمال مغرب میں پنجاب کا ایک بڑاحصہ جس پر بھارت گزشتہ ستراکہتر برسوں سے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک قابض ہے تقسیم ہند کے موقع پرکانگریسیوں نے سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو وقتی طور پر تسلی دلادی تھی کہ وہ بٹوارے کے جھمیلوں کے بعد سکھوں کی علیحدہ ریاست کی مانگ کو پورا ضرور کریں گے یاد رہے کہ اْس وقت ماسٹر تارا سنگھ نے انگریزوں اور کانگریسی لیڈروں سے پْزور مطالبہ کیا تھا کہ’’سکھ تشخص‘‘ کو جدیدیت اورہندومت کے سیلاب میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے اْن کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ سکھوں کو سرکاری طور پر ایک الگ قوم تسلیم کیا جائے اْنہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے قوم پر ست ہیں تو قوم کی خاطر سکھوں قوم کو بھی عزت سے رہنے دیں قوم پرستی کے نام پر اگرآپ سکھوں کی امتیازی شناخت کو ختم کرنے کی اپنی ناپاک کوشش کرتے ہیں تویہ آپ کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، ہم سکھ قوم اپنی عزت کوبہت اہمیت دیتے ہیں اگر ہماری الگ سے شناخت نہ ہو تو ہمارے پاس فخر کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں بچتا’’ اگرسکھ رہنما ماسٹر تاراسنگھ سے کانگریسیوں اور برطانوی سامراج نے یہ وعدہ کیا تھا تو اْنہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا سقوط حیدرآباد سقوط جونا گڑھ اور مقبوضہ کشمیر کی طرح سے سکھوں کے علاقہ کو بھی زبردستی بھارتی حدود میں شامل کرلیا گیا جبھی اپنے کالم کی ابتدا میں ہم نے ‘بھارتی زیر کنٹرول پنجاب’ کی استبدادی اصطلا ح کو استعمال کیا ہے جناب والہ!یہ علاقہ جب تک خالصتان کا وجود پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچتا بھارتی انتظامی کنٹرول والا علاقہ کہلایا جانا چاہیئے اسی بھارتی پنجاب کے دارلحکومت کانام’’چندی گڑھ‘‘ ہے اور چندی گڑھ سے دوسوسترہ کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستانی باڈر شروع ہوجاتا ہے یعنی پاکستانی پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور سے صرف اٹھائیس کلومیٹرکے فاصلے پربھارت کے مشرق کی جانب امرتسر واقع ہے امرتسر کی آبادی دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق گیارہ لاکھ تینتیس ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے امرتسر شہر میں سکھ مت کا روحانی مقام ‘ہرمندر صاحب’ واقع ہے ہرمندرصاحب یا دربارصاحب کوعام طور پر‘گولڈن ٹیمپل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اوراس مقام کو سکھوں کی اہم مقدس عبادت گاہ کادرجہ حاصل ہے جیسا بین السطور تاریخی حقائق کے دلائل کی روشنی میں اشارتا ًگفتگو کی گئی کہ سکھوں نے اپنے ثقافتی وسماجی کلچر کو ہندومت میں شامل کرنے والوں کے خلاف تقسیم ہند کے بعد سے 36برس تک پرامن جدوجہد جاری رکھی نئی دہلی کی ہٹ دھرمی کو چیلنج کرتے رہے ہڑتالیں اور مظاہرے کرتے رہے چارجولائی انیس سوپچپن کا دن بھی سکھوں کے لئے کبھی نہ بھلایا جانے والا دن ہے جس روز جب نئی دہلی کے حکم پر اکالی دل اور شرومنی کمیٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کے لئے مسلح پولیس کے کمانڈوز کے دستے گولڈن ٹیمپل کے سامنے سڑک کے پارواقع ہوسٹل کمپلکس میں داخل ہوگئے امرتسر کے عوام کو جونہی اس کی اطلاع ملی تو ہزاروں اکالی واہ گرو کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اس مقام پر جمع ہوگئے یوں بھارتی حکمرانی کی استبدادی تاریخ میں یہ دن بھی سکھوں کے نزدیک ایک یادگار دن کا مقام حاصل کرگیا اْس روز کچھ کم نہیں ہوا تھا پولیس کمانڈوز نے شدید لاٹھی چارج کیا بے تحاشہ آنسوگیس کے گولوں کی بوچھاڑ کردی گئی تھی آنسو گیس کے یہ گولے گولڈن ٹیمپل کے مقدس تلاب تک پہنچے یہ گولڈن ٹیمپل کی پہلی بار بے حرمتی کی گئی اور یوں سکھوں میں براہمن ہندوجاتی کی سامراجیت کے خلاف مزاحمتی تحریک ابھر کر سامنے آگئے اور سردار بھنڈرانوالے سکھوں کی اس مزاحمتی تحریک کے قائد بن گئے پہلے اْنہوں نے گولڈن ٹیمپل کے سامنے واقع اسی مقام کو اپنا ہیڈکواٹر بنالیا اور نئی دہلی نے نیم فوجی دستوں کو ہمیشہ کے لئے اسی ہیڈکواٹر کے سامنے اپنی چوکیاں قائم کرنے کاحکم دیدیا یوں وقت بیتا رہا سکھ قوم اپنے ملی تشخص کے حصول کے لئے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے خیالات سے متفق ہونے لگی امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر اندراگاندھی نے فوجی کشی کرنے کا خطرناک فیصلہ کیوں کیا ایک ملکی خبررساں ایجنسی کے نمائندے کی اس بارے میں لکھی گئی یادداشت پڑھنے کا راقم کو موقع ملا جس میں وہ لکھتا ہے ‘‘یہ 1984 کی بات ہے جب میں ابھی کالج میں ہی تھا اتنے زیادہ ٹی وی چینل نہیں تھے جتنے اب ہیں بلکہ پی ٹی وی کے علاوہ صرف امرتسر ٹی وی ہی لاہور میں دیکھا جا سکتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب موسم صاف ہو نہ ہی خبر حاصل کرنے کے لیے کوئی سوشل میڈیا تھا اس لیے اچھی اور بری خبریں دھیرے دھیرے ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچا کرتی تھیں گھر میں امرتسر ٹی وی آتا تھا لیکن یہ خبر وہاں سے نہیں ملی یہ خبر ملی پاکستانی اخباروں ، پی ٹی وی اور ریڈیو سے ملی کہ سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر تین جون 1984 کو بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہے اور اس میں کئی سکھ جاں بحق ہوئے اس وقت یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت ایک ہی عمارت کا نام ہے یا یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں اس فوجی آپریشن کو ’آپریشن بلیو سٹار‘ کا نام دیا گیا تھا’’ا;63;گے چل کر اْس نے لکھا کہ‘‘مجھے یاد ہے میری اور میرے جیسے بیشتر پاکستانیوں کی ہمدردیاں فوراً سکھ برادری سے ہو گئیں اور کم از کم پاکستان میں یہ سمجھا جانے لگا کہ کیونکہ اب بھارتی فوج نے سکھوں کے مقدس مقام پر حملہ کیا ہے اس لیے سکھ اسے کبھی نہیں بھولیں گے’’ اورہماری یہ سوچ آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ہم بالکل صحیح سوچ رہے تھے تین جون سے آٹھ جون تک ہندو فوجی جوانوں اور افسروں نے مقدس اکال تخت سمیت گولڈن ٹیمپل کے سفید دودھیا جیسے سنگ مرمر کے تلاب اور صحن کو سکھ مردوں ’ عورتوں اور معصوم بچوں کے خون سے لال سرخ کردیا تھا گولڈن ٹیمپل میں مزید پانچ دن خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی بھارتی فوجیوں کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جاں بحق ہوگئے سکھ قوم کی تاریخ میں امر ہوگئے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد چار سو سکھوں اور تراسی فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں اور یہی صحیح ہے سانحہ گولڈن ٹیمپل کے بعد امرتسر سمیت بھارتی زیر کنٹرل پنجاب کئی ہفتے تک سوگ میں ڈوب گیا ہر طرف سوگ سکھ قوم کے ہر فرد میں ایک غصہ تھا جو دبا ہوا تھا یہ غصہ اس واقعہ کے صرف چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنھیں ان ہی کے سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اوریوں گولڈن ٹیمپل پربلاوجواز فوج کشی کا بدلہ لے لیا گیا، لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں کم از کم تین ہزار سکھ ہلاک کر دیے گئے سنہ 2012 میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی انڈین فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل سے واپس آ رہے تھے کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انھیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے سکھ قوم کی تیسری نسل اپنے ملی سکھ تشخص کی بقا کے لئے بہت تیزی سے متحدہونے لگی ہے بھارت کو آج نہیں تو کل لیکن بہت جلد ہی مقبوضہ کشمیر سمیت سکھوں کو بھی اْن کا حق خود ارادیت ہر صورت میں دینا ہی پڑے گا اور نئی دہلی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ’’سانحہ گولڈن ٹیمپل آج بھی اُس کے چہرے کا ایک رستہ ہوا ناسور ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative