Home » کالم » ستمگر ستمبر اور الطاف حسین قریشی کی کتاب

ستمگر ستمبر اور الطاف حسین قریشی کی کتاب

ایک کتاب منظر عام پر آنے والی ہے ۔ اس کی تفصیلات تو بعد میں بتائیں گے مگر دو باتوں کا ذکرکردیں کہ اس کتاب کا تعلق بھی ایک صحافی شخصیت سے ہے اوردوسرا اس کتاب کے آنے کے بعد عوام کو علم ہوگا کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کالم نگار رہ چکے ہیں مگر انہیں کالم نگار بنانے میں اہم کردار کس نے ادا کیا اور وزیراعظم عمران خان کیسے کالم نگار بنے یہ بات جاننے کیلئے انتظارکرنا پڑے گا ۔ اس وقت معروف صحافی الطاف حسین قریشی کی کتاب’’ جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ پربات کرنا مقصود ہے ۔ اس کتاب کا انتساب سرفروش افواج اورحوصلہ مند عوام کے نام ہے مگر اس انتساب میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ سرفروش افواج، حوصلہ مند عوام اور عظیم حکمرانوں کے نام اور ہمارے حکمرانوں کیلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے ۔ کتاب میں الطاف حسین قریشی نے بتایا کہ پہلی بار جنرل ضیاء الحق نے جنگ ستمبر کی مستند تاریخ مرتب کروانے پر توجہ دی چنانچہ میجر جنرل شوکت رضا نے ;84;he ;80;akistan ;65;rmy 1965 تحریر کی اس کے برعکس ایک برطانوی محقق الاسیٹرلیمب نے جو کتاب لکھی اس کے بارے میں الطاف حسین قریشی لکھتے ہیں کہ’’ مسٹر لیمب کی سال ہا سال کی تحقیق نے وہ بنیادہی منہدم کردی جس پر سیکولر جمہوری اور سوشلسٹ بھارت کے وزیراعظم نہرو نے بدترین دغا بازی کی عمارت کھڑی کی ۔ الطاف صاحب ! اسی لئے ہمارے محققین اور صحافیوں کو بھی کتاب لکھنے اورتاریخ کو محفوظ کرنے کا کام کرنا چاہیے ۔

’’معرکہ ستمبر کی یادیں ‘‘موجودہ حالات میں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور ہ میں وہ ولولہ انگیز یادیں تازہ کرنے اوردہرانے کی ہ میں ضرورت آپڑی ہے کیونکہ ہندوستان پر اب مودی کا تسلط ہے اور مودی نے ہماری توقعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کی نئی داستان رقم کرنے کی ابتداء کردی ہے ۔ اب دیکھیں کہ ستمبر میں ہی ٹرمپ کی مودی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں ہیں اب یہ ملاقاتیں کیا گل کھلاتی ہیں ۔ مگر قوم ہر قسم کے مشکل حالات کیلئے تیار ہے ذہنی طور پر اس تیاری کے ساتھ قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے اورپھر جنگ ستمبر جیسا ماحول بنانے اوربرقرار رکھنے کی اہمیت ہے ۔ 1965 کے جو واقعات قابل غور ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب غیر ملکی صحافی آتے تھے تو عوام کے حوصلوں پر عش عش کیا کرتے تھے کیونکہ منظر یہ تھا کہ شہروں اور قصبوں میں فوجی قافلے گزرتے تو بچے بوڑھے ، نوجوان ان پر گل پاشی کرتے ۔ خون دینے کیلئے نوجوانوں کی قطاریں لگی رہتیں ۔ لاہور کے چھت آباد ہوگئے تھے جہاں وہ پاکستانی ہوا بازوں کی ’’ڈاگ فائیٹ‘‘ شوق سے دیکھتے تھے ۔ اور پھر ریڈیو پاکستان کیسے آباد رہتا تھا ۔ جہاں وہیں کے وہیں نغمات لکھے جاتے، دھنیں ترتیب دی جاتیں اور پھر نور جہاں اورمہدی حسن جیسے گلوکار اپنی آواز کا جادو جگانے کیلئے تیار رہتے ۔ الطاف حسین قریشی نے بڑی درست بات لکھی کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران جو عظیم اور روحانی تجربے ہوئے وہ افسانہ نگاروں کے افسانوں کا موضوع بنے ۔ الطاف حسین قریشی کی کتاب کا ایک اہم موضوع شروع میں ہی شامل ہے جس کا عنوان ہے ’’تصادم کے بنیادی محرکات ‘‘ اور ان محرکات کو تاریخ کے آئینے میں تفصیل سے دیکھا گیا ہے ۔ باقی تاریخ کو چھوڑ کر اگر ہندوستان کی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کے زمانے کو دیکھیں کہ جب گاندھی جی کے زیر اثر اور علی برادران کی پرجوش قیادت کے بعد مسجدوں میں ہندو آنے جانے لگے اور مسلمان مندروں میں جانے لگے تو ایک چھوٹے سے گاءوں ’’ چورا چوری‘‘ میں خون ریز تصادم ہوا اور سب کچھ ختم ہوگیا اور ہندو مسلم اتحاد کافور ہوگیا ۔ پرانے تنازعات پھر سے زندہ ہوگئے ۔ دراصل یہ اتحاد مستقل بنیادوں پر ہونا ناممکن تھا اور پاکستان کا علیحدہ وجود ضروری تھا اور اب مقبوضہ کشمیر میں مودی کا تجربہ بھی گاندھی جی کے تجربے کی طرح ناکام ہوگا ۔ گاندھی تو مودی سے بہت بڑے لیڈر تھے وہ ایسا کام نہ کرسکے تو مودی مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت میں لاکر بھی یہ سازش کامیاب نہیں کرسکے گا ۔ اگر ٹرمپ کے دباءو کے بعد کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی کوشش ہوئی تو بھی ناکام ہوگی لہٰذا تاریخ کے اس نازک موڑ پر درست فیصلہ کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو مکمل مشاورت دینے کی بھی اہمیت ہے اور یہ مشاورت تاریخی پس منظر میں دی جانی چاہیے تاکہ وہ حقائق کو سامنے رکھ کر اصولی موقف اختیار کریں ۔ مسلمان ہندوستان میں اقلیت بن کر نہیں رہے تو پھر مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ہندوءوں کے ساتھ بھی اقلیت بن کر نہیں ر ہیں گے ۔ الطاف حسین قریشی نے مغلیہ تاریخ کے کشمیر کی تاریخ کا بھی جائزہ پیش کیا ہے اور یہ صورتحال مجھے اپنی کتاب ’’ کشمیر 2014‘‘ میں بھی پیش آئی تھی جب میں نے علامہ اقبال ،قائداعظم اور تحریک پاکستان سے کشمیر کی بات شروع کی تھی اور پھر کشمیر کی قدیم تاریخ کا تذکرہ کیا تھا ۔ دراصل یہ سارا کچھ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے کیونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد ’’دو قومی نظریہ‘‘ ہے جس کو مودی سرکار نے پھر سے زندہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اس بنیادی حصار سے باہر نہیں نکلا جاسکتا ۔ دو قومی نظریہ آنے والوں زمانوں میں بھی جبر کی قوتوں کے سامنے زندہ کرتا رہے گا ۔ کتاب میں بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 فروری 1947 کو ہند کی سیاست میں ایک فیصلہ کن واقعہ ہوا جب وزیر خزانہ لیاقت علی خان نے مرکزی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ۔ اس سے عبوری حکومت میں شدید بحران ہوا اس بجٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ ٹیکس چوروں سے لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلئے خودمختار کمیشن قائم کیا جائے ، دوسری تجویز نمک پر محصول ختم کرنے کی تھی ۔ مرکزی اسمبلی میں اسے غریب کا بجٹ قرار دیاگیا مگر اس کے خلاف کانگریس کے سرمایہ کار متحد ہوگئے ۔ انہوں نے سردار پٹیل سے کہاکہ مسلمان سماجی انصاف کے نام پر ہندوءوں کی دولت میں حصہ پانے کا تقاضا کررہے ہیں ، سردار پٹیل کو محسوس ہوا کہ لیاقت علی خان نے وزیر خزانہ بن کر اسے بے بس کردیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تقسیم ناگزیر ہوگئی ہے اور نئے حالات سے نبردآزما ہونے کیلئے لارڈ ماءونٹ بیٹن کو بلا لیا گیا اس قسم کے اہم واقعات کے ساتھ کتاب میں محاذوں کی طرف کے سفر اور جنگ کے چشم دید واقعات موجود ہیں ۔

وقت گزر گیا ہے آج ستمبر ہے وہ بھی ستم گر ستمبر تھا ۔ کشمیر آزادی کی دہلیز پر ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستان آزادی کی دہلیز پر تھا ۔ ہندوستان کی سیاست میں وزیر خزانہ کا ٹیکس چوروں اور دولت مندوں پر ہاتھ ڈالنا بھی ایک فیصلے کی حمایت کا باعث بنا تھا ۔ ہندو بنیا سرمایہ کار ہے اور کاروباری ذہن اور سوچ کے مالک ہیں ۔ دنیا اس وقت اسی سوچ کی اسیر ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کی ذات بھی موجود ہے ہندو کو دولت کا خطرہ تھا اور نمک اس وقت بھی زیر بحث تھا ۔ ہمارے پنک نمک پر آج بھی ہندوستان دولت کمارہا ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالنا مشکل بات نظر آتی ہے مگر ایسی کتابیں موجود ہیں اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں جو ملک و قومی مسائل میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔ ایک اور کتاب بھی ملکی و قومی معاملات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ اس میں خود وزیراعظم عمران خان بحیثیت کالم نگار موجود ہیں اور اس میں وزیراعظم عمران خان کو کالم نگار بنانے والے موجود ہیں ۔

کالم کے آخر میں ایک واقعہ کہ ستمبر1949 جب ریاست جموں کشمیر میں بھارت نے اپنی گرفت مضبوط کی تھی تو پاکستان کو فوجی اور معاشی لحاظ سے نقصان پہنچانے کیلئے مسلسل تصادم کی فضا برقرار رکھی تھی انہی دنوں برطانیہ نے پاءونڈ کی قیمت کردی تھی جس کے جواب میں بھارت نے اپنے سکے کی قدر میں کمی کردی ۔ مگر پاکستان نے اپنے روپے میں استحکام برقرار رکھا ۔ آج ہماری معاشی حیثیت میں ہندوستان ویسی ہی چالاکی دکھا رہا ہے اور جنگی ماحول بنا کر فائدے اٹھا رہا ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مکار دشمن پر بھروسہ کسی بھی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative