Home » کالم » سخت احتساب ۔۔۔مگرپراسیکیوشن پر توجہ دی جائے
adaria

سخت احتساب ۔۔۔مگرپراسیکیوشن پر توجہ دی جائے

کرپشن کے خلاف حکومت نے بھرپوراقدامات کا آغاز کررکھا ہے اس میں جوبھی ملوث ہو، چاہے وہ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہواس سے تحقیقات اورتفتیش لازمی ہوگی، جس کی واضح اور تاریخی مثال موجود ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسا واقعہ خال خال ہی پیش آیا ہو، کہ بیک وقت کسی بھی دنیا کے ملک میں اپنے دور کا ایک صدر مملکت اور دوسابقہ وزرائے اعظم پابندسلاسل ہوں اور تیسرے وزیراعظم کے بارے میں تحقیقات چل رہی ہوں ، ان اقدامات سے واضح نظر آتا ہے کہ حکومت ’’نو کرپشن ‘‘کے فارمولے پرگامزن ہے ،نوازشریف پہلے ہی گرفتار اور جیل میں بند ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی مقیدہے، خاقان عباسی کوگزشتہ روز گرفتارکرلیاگیا جبکہ تیسرے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کاکیس چل رہاہے اگر وہ بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو گرفتار ہوجائیں گے، حکومت واضح کرچکی ہے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہے وہ اس سلسلے میں جوابدہ ہے تاہم حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ کمزور پراسیکیوشن احتسابی عمل پر سوالات اٹھانے کاموقع دیتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پراسیکیوشن کے عمل پرتوجہ دی جائے تاکہ احتساب کے جاری عمل کے نتاءج نکل سکیں ۔ نیب نے مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی اسکینڈل میں گرفتار کرلیا،شاہد خاقان پر قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے، نیب نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کردیاہے،سابق سیکرٹری پیٹرولیم عابد سعید وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں ،شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ(ن)کے صدر شہبازشریف کی پریس کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں احسن اقبال کے ساتھ لاہور جارہے تھے، اُدھر سندھ ہائی کورٹ نے(ن) لیگی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ایل این جی کیس میں 7 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے ۔ سابق وزیر خزانہ اور لیگی رہنما مفتاح اسماعیل ایل این جی کیس میں نیب گرفتاری سے بچنے کےلئے صبح 7 بجے ہی سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، نیب نے جب بھی طلب کیا میں وہاں گیا ہوں تاہم گرفتاری کا خدشہ ہے لہذا حفاظتی ضمانت دی جائے ۔ مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کے وکلا نے حفاظتی ضمانت درخواستیں سننے کی درخواست دائر کی جس کو عدالت نے منظور کرلیا ۔ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق کی حفاظتی ضمانت 7 روز کے لیے منظور کرلی تاہم دونوں کو 5 ،5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے اور متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے مفتاح اسماعیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تاہم وہ گھر کے اندر موجود نہیں تھے ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شاہد خاقان کوان کی خواہش پر گرفتار کیاگیا،شہباز شریف کے چہرے کا اڑتا رنگ بتارہا تھاکہ قانون اپنا رنگ دکھا رہاہے ۔ وزیرداخلہ اعجاز شاہ کاکہناکہ وزیراعظم وہ کام ضرور کرینگے جو ملکی مفاد میں ہو، پاکستان کی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے، جس نے جو کیاوہ ضرور بھگتے گا ۔ وزیرریلوے شیخ رشید نے کہاکہ جو زیادہ چیخ رہا ہے اس کی اگلی باری ہے، ایل این جی کیس میں ابھی بہت گرفتاریاں ہونگی،90روز میں بڑے فیصلے ہونگے ۔ فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ گرفتاری پر شہباز شریف کا واویلا قوم کو گمراہ نہیں کر سکتا ۔

ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے

وزیراعظم نے پھراعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ ادارے آزاد ہیں وہ کام کریں ، حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی،جب ادارے آزاد ہوتے ہیں تونظام بھی بہترین چلتاہے مگراس آزادی کو جانچنے کے لئے ایک واضح اوردوٹوک پیمانہ ہے کہ اگرکوئی بھی ادارہ کسی کے خلاف کارروائی کرتاہے تواس میں اقرباء پروری یاکسی قسم کی سیاسی جھلک نظرنہیں آنی چاہیے ،کیونکہ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ ادارے آزاد ہیں تووہ ادارے اپوزیشن سے ہٹ کراُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں جو کہ حکمران نیت میں بیٹھے ہوئے ہیں ، وزیراعظم نے لاہوردورہ کے موقع پرمختلف ملاقاتیں کیں جن میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگراہم شخصیات بھی شامل تھیں کے علاوہ اجلاس کی صدارت بھی کی، عمران خان نے کہاکہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، اس کی بدولت روزگار میسر ہو گا اور ملک میں دولت بڑھے گی، 1960 کی دہائی کا پاکستان ایشیا میں بھرپور ترقی کر رہا تھا جس کی وجہ صنعتی ترقی تھی، بدقسمتی سے ہم ایک منفی مائنڈ سیٹ کا شکار ہو گئے اور خطے کے دوسرے ممالک ہم سے ;200;گے نکل گئے، وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں ;200;سانی اور کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے شرکا کو ;200;گاہ کیا اور کہا جلد ہی کاروباری حضرات اس ضمن میں حکومتی کاوشوں کے نتاءج سے مستفید ہوں گے،وزیر اعظم نے انڈسٹریل زوننگ اور ٹاءون پلاننگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے ;200;لودگی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور دوسرے سماجی مسائل نے جنم لیا ۔ وزیر اعظم نے اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ لاہو رچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان نے موجودہ حکومت کے جانب سے معیشت کو باقاعدہ دستاویزی شکل میں لانے اور ٹیکس اصطلاحات کے اقدامات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ نمائندگان نے انڈسٹرئیل زوننگ ، کاروبار کو سہل بنانے اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم کو ;200;گاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے ، مہنگاء پر قابو پانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔ ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے تاجر اورعوام حکومت کاساتھ دیں ، قانون سب کے لئے برابر ہے، ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کو شعبہ صحت کی بہتری کے سلسلے میں موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔ سیکرٹری ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن مومن آغا نے وزیراعظم کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے جاری منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ سرکاری ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے،انصاف صحت کارڈ کا دائرہ کار صوبے کے پسماندہ علاقوں میں مزید بڑھایا جائے، عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا جامع نظام متعارف کروایاجائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative