Home » صحت » سرحد پار سے بیماریوں کی منتقلی روکنے کے لیے ایئرپورٹس پر تھرمل اسکینر نصب

سرحد پار سے بیماریوں کی منتقلی روکنے کے لیے ایئرپورٹس پر تھرمل اسکینر نصب

وزارت برائے قومی صحت سروسز (این ایچ ایس) نے سرحد پار بیماریوں کی منتقلی سے بچاؤ کے لیے ایئرپورٹ اور دیگر داخلی مقامات پر تھرمل اسکینرز نصب کیے ہیں۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے دورے کے دوران وزیر برائے قومی صحت سروسز عامر محمود کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شعبہ صحت اور ڈائریکٹوریٹ آف سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ (سی ایچ ای) کو تمام داخلی مقامات خاص طور پر ایئرپورٹس پر مضبوط بنارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ وزارت صحت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور تمام بین الاقوامی سرحدوں پر بہتری کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں‘۔

سی ایچ ای پر ملک بھر میں بین الاقوامی صحت اصلاحات کے عمل درآمد کی ذمہ داری عائد ہے تاکہ سرحد پار سے آنے والے افراد میں موجود بیماریوں کی منتقلی سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کیے جاسکیں۔

اس مقصد کے لیے پولیو، یرقان اور گردن توڑ بخار ( مینیجائٹس) کی ویکسینیشن بھی دی جاتی ہیں۔

مقامی امراض کی تشخیص کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں کی اسکریننگ کی جاتی ہے، مشتبہ مسافروں کو علیحدہ کردیا جاتا ہے اور مرض کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تمام بندرگاہوں کو صاف ستھرا رکھا جاتا ہے۔

عامر محمود کیانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین کے دورے کے دروان سرحد پار بیماریوں کی منتقلی سے بچاؤ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے بعد اسلام آباد،پشاور، لاہور اور کراچی کے ایئرپورٹس پر تھرمل اسکینر نصب کیے گئے ہیں۔

یہ تھرمل اسکینر ملک کے تمام داخلی مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ سی ایچ ای جلد ہی بہتر نیٹ ورکنگ سے لیس ہوجائے گا، مزید برآں صحت سے متعلقہ مسائل سے آگاہی کے لیے جلد ہی ایک ویب سائٹ تیار کی جائے گا اور تمام ایئر پورٹس پر مریض کو علیحدہ رکھنے کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

ایمرجنسی صورتحال میں بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو پولیو ویکسینیشن فراہم کی جاتی ہے اور اس عوامی خدمت کے پیغامات کے ذریعے اس سہولت سے متعلق آگاہ بھی کیا گیا ہے۔

وزیر صحت نے تمام بین الاقوامی سرحدوں صحت سے متعلق بہتری کے لیے اقدامات لینے کی ہدایات جاری کی ہیں اور تمام بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر صحت کی بہتر سہولیات کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے، آلات اور یونیفارمز میں بہتری کے لیے ہمیں وزارت قومی صحت سروسز کی جانب سے فنڈز مختص کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوجاتی ہیں، 2014 میں افریقہ میں ایبولا وائرس کی وبا پھیلی تھی جس کے بعد تمام بین الاقوامی پروازوں کو مغربی افریقا سفر کرنے والے افراد سے متعلق معیاری آپریشن طریقہ کار اپنایا تھا۔

پولیو بھی اسی طرح کا ایک وائرس ہے، اس حوالے سے پولیو سے متعلق انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئیں ہیں پاکستان سے بیرون ملک جانے والی ہر شخص کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔

اسی طرح 2016 میں زیکا وائرس سے متعلق برزایل کےلیے ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، زیکا وائرس مچھروں کے ذریعے پھیلا تھا۔

About Admin

Google Analytics Alternative