Home » کالم » اورمضامین/کالم » سری لنکن سمندری حدود میں، بھارتی مداخلت بے نقاب
nasir-kazmi

سری لنکن سمندری حدود میں، بھارتی مداخلت بے نقاب

علاقائی سامراجیت کے زعم میں مبتلا بھارت نے خطہ میں اپنی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ذریعے پڑوسی ملکوں کو ہراساں کرنے ‘ اُن کے اندرونی سیاسی وسماجی معاملات میں عدم استحکام پیدا کرنے علاوہ اُنہیں ’اقتصادی مشکلات ‘ میں گھیرے رکھنے کی مذموم پالیسی کیسے جاری رکھی ہوئی ہے اِس کا اندازہ جنوبی ایشیائی ممالک کے اُن اقتصادی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کو یقیناًہوگا جو انگریزی اخبارات ‘ جرائد اور میڈیا سے وابستہ ہونگے انگریزی کے معروف و معتبر اخبار’ڈیلی مرر‘ کی20 دسمبر 2016 کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سری لنکا کے وزیر برائے فشریز ’امیندراویرا‘نے اپنے ایک بیان میں جب یہ انکشاف کیا کہ ’سری لنکا کی فشریز کی صنعت کو 9000 ملین ڈالرز کا سالانہ نقصان بھارت کی جانب سے سری لنکا کے سمندری حدود سے چرائی جانیوالی مچھلیوں سے اٹھانا پڑ رہا ہے ‘سری لنکا کے پانیوں میں آئے روز بھارتی ماہی گیروں کے بڑے بڑے ٹرالزز رات گئے اچانک گھس آتے ہیں، ماہی گیر ی کے لئے استعمال ہونے والے بھارتی ٹرالرز اُس وقت تک سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر نہیں نکلتے جب تک سری لنکا کی بحریہ اور کوسٹ گارڈزمتحرک نہیں ہوتیں اور وہ اُن کی ’سرکوبی ‘ کے لئے آگے نہیں بڑھتیں یہ یقیناًیہ سری لنکا کا جائز استحقاق ہے مگر’ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ‘ یہ بھارتی وطیرہ رہا ہے اپنے ہر پڑوسی ممالک کے ساتھ ‘ تقسیمِ ہند کے بعد سے آج تک ہم یہی تماشا دیکھتے چلے آ رہے ہیں بھارت خطہ میں امن کے ساتھ نہ خود رہنا چاہتا ہے اور نہ پڑوسی ممالک کو اقتصادی ومعاشی ترقی کرتے ہوئے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے پاکستان اور چین کے علاوہ بھارت کے پڑوسی ملکوں کی حالت قابلِ دید ہے ایک سرسری سا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرہ نما ریاست سر ی لنکا جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک‘ جو بھارت کے جنوب مغرب میں بحیرہ ِٗ ہند پر واقع ہے بھارت کے دیگر ہمسایہ ملکوں میں مالدیب ‘ تھائی لینڈ کے علاوہ انڈو نیشیا کے چند سمندری جزائر ملحق ہیں چین‘ نیپال اور بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان جیسا ایک نہایت ہی مضبوط ومستحکم نظریاتی ایٹمی ملک پاکستان بھی بھارت کے ہمسایہ ممالک میں شامل ہوتا ہے، یہ سبھی جنوبی ایشیائی ممالک کہلاتے ہیں اِن جنوبی ایشیائی ممالک میں رائج جمہور ی طرزِ انداز کو ’ اعلیٰ و پسندیدگی‘ کے معیار پر جانچنے کے وہ ’پیمانے ‘امریکا اور مغربی دنیا کی نظروں میں نجانے کیا ہیں جو اُنہیں یعنی امریکا اور مغربی ممالک کو اگر جنوبی ایشیائی ممالک میں سے کسی ایک ملک میں اگر کہیں دکھائی دیتے ہیں، تو وہ ملک صرف اور صرف بھارت ہی کیوں ہے ؟بھارتی جمہوریت کیا اِس قدر ارفع واعلیٰ مانی جاسکتی ہے جیسی جمہوریت جنوبی ایشیا کے کسی اور ملک میں رائج امریکا اور مغربی دنیا کو کہیں نظر نہیں آتی ‘جمہوریت کی اوّلین نمایاں تعریف تو یہی ایک ہے نا کہ ’انسانی حقوق ‘کا احترام واجب گردانا جائے 1948 میں کشمیری عوام کی رائے اور اُن کی مرضی ومنشا کے خلاف بھارت نے جب اپنی فوجیں مقبوضہ وادی میں بھجیں تو کیا اُس نے کئی لاکھ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا کوئی خیال رکھا تھا آج کتنی دہائیاں بیت گئیں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو بھارت نے غصب کیا ہوا ہے‘ 1971 میں پاکستان کے مشرقی حصہ میں اپنی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ذریعے سے مسلح ایجنٹس نئی دہلی نے مشرقی پاکستان میں بھیجے تاریخ کی بہت بڑی قتل وغارت گری ہوئی لاکھوں پاکستانیوں کو بھون کر رکھ دیا گیا بھارتی جمہوریت کا’’ سرنامہِِ انسانی حقوق‘ دنیا کو کہیں نظرآیا کشمیر اور پاکستان کے ساتھ آجکل جو کچھ بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور نئی دہلی کی جنونی متشدد مرکزی قیادت نے ’اندھیر نگری ‘ سی مچا ئی ہوئی ہے بھارتی فوج کا ایک حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو جوکہ بھارت کا ایک جاسوس تھا اُسے ایران کے بارڈر پر آئی ایس آئی نے گرفتار کیا اُس نے جو اعترافی بیانات دئیے اُس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بھارت اس خطہ میں کسی ملک کو مسلسل اور متواتر امن و آشتی کے ساتھ ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا یہ تمام ثبوت حال ہی میں پاکستانی حکومت نے اقوامِ متحدہ کو دیدئے ہیں، پھر بھی امریکا اور مغرب کی بھارتی ’چہتی جمہوریت ‘کا دنیا کیا اچار ڈالے گی بنگلہ دیش بن جانے کے باوجود مسلم بنگلہ دیش کے ساتھ بھی صرف ’مذہبی منافرت ‘ کی بناء پر سرحدی اختلافات کو بھارت نے جوں کا توں رکھا ہوا ہے۔ نیپال کو بھارت سے بڑی سنگین شکایات ہیں جن کا براہ راست تعلق انسانی بنیادی حقوق کو غصب کرنے سے ہی ہے نئی دہلی حکومت جب چاہتی ہے وہ نیپال کو سمندر تک رسائی نہ دیکر اُس کی معاشی ناکہ بندی کردیتی ہے مالدیپ جیسے پُرامن چھوٹے سے جزئیرے کو بھارت نے اپنے ’پیروں کی جوتی ‘ سمجھاہوا ہے مستقبل کی ابھرتی ہوئی عظیم سپرپار عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ بھارت کے سرحدی تنازعات دنیا کے سامنے ہیں یہاں آج اِس تمہید کا خاص مقصد قارئین کو یہ آگاہ کرنا ہے کہ عالمی طاقتیں ‘ چاہے آپ اُنہیں کسی نام سے پکاریں، امریکا اور مغربی دنیا نے جنوبی ایشیائی عوام سمیت ایشین پیسفک ممالک کے کروڑوں عوام پر بھارت کو ’چوکیدار ‘ بنانے کا جو سنگین فیصلہ کیا ہوا ہے ایشیائی عوام امریکا کا یہ فیصلہ قبول کر نے بالکل آمادہ نہیں ہیں ایشیا ئی براعظم کا ہر ایک ملک آزاد وخود مختار ہے ہر ایک ملک اقوامِ متحدہ کے چارٹرز کی روشنی میں اپنی اپنی اقتصادی و ثقافتی ترقی کی راہیں خود طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے امریکا کی شہ پر بھارت کو جنوبی ایشیا سمیت ایشیاء کا کوئی ملک یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ کبھی بنگلہ دیش ‘ کبھی پاکستان ‘ کبھی مالدیپ ‘ کبھی نیپال ‘ کبھی چین یا کبھی سری لنکا کے اندرونی معاملات میں اپنے سینگ پھنسائے 80 اور90 کی دہائیوں میں نئی دہلی نے کولمبو حکومت کے لئے کیسے سنگین پہاڑ نما دہشت گردی کے مسائل کھڑے نہیں کیئے رکھے ،سری لنکا کے خالص قوم پرست بدھسٹوں اور سری لنکن مسلمانوں کے خلاف بھارتی خفیہ ایجنسی ’ر‘ کی ’جافنا اور ہنی کلاں‘ کی بدنام زمانہ سازش 1983 میں جب خوب بے نقاب ہوئی تو نئی دہلی کے ایوانوں کا جنونی پاگل مزید ہیجانی کیفیت میں ظاہر ہو ا یوں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد یکم مارچ 1985 کو بھارتی فوج ایک ’مشکوک معاہدے ‘ کی آڑ میں سری لنکا میں اتاردی گئیں، جسے سری لنکا کے عوام میں پسندیدگی کی نظر سے بالکل نہیں دیکھا گیا تھا نئی دہلی کو یہ اصل بات اب اچھی طرح سے جان لینی چاہیئے کہ وہ جنوبی ایشیاء میں جنگل کے قانون کی مراجعت سے باز آئے علاقائی اور پڑوسی ممالک کو دبانے ‘اُن کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور خطہ کے پڑوسی ملکوں کی ترقی کی راہوں میں رکاوٹ ڈالنے جیسے متشددانہ حربوں سے گریز کی پالیسی اختیار کرئے خود بھی امن سے رہے اور دوسروں کو بھی امن وخوشحالی سے جینے دے ۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative