Home » کالم » سستے بازارمردہ ضمیر

سستے بازارمردہ ضمیر

آج کل ملک بھر میں مہنگائی کا بول بالا ہے اورہرسُو اسی کے چرچے ہیں اور اگر رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہو تو پھر مہنگائی لازم و ملزوم سمجھی جاتی ہے ۔ اس مہنگائی کے خاتمے یا مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک کے مہینے میں وفاق اور پنجاب میں سستے بازاروں کا انعقاد کیا ہے جس میں دکانداروں نے ایک ماہ کیلئے سٹالوں کی جگہ لیکر سبزی و پھلوں کی عارضی دکانیں قائم کیں ۔ تجارت کو دین اسلام میں انتہائی باعزت اور مبارک عمل قرار دیا گیا ہے ۔ حضور پاکﷺ بھی تجارت کے پیشہ سے وابستہ رہے اور تجارت کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت بھی تجارت ہی کیا کرتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر جائز تجارت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے منافع کو اپنے فضل سے تعبیر فرمایا ہے جس سے اس عمل کی اہمیت و برکت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ ’’ پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو زمین میں پھیل جاءو اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو ۔ اگر کاروبار و تجارت میں اسلامی احکام، شرائط و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے تو یہ عمل عبادت ہے ۔ رسول پاک حضرت محمد مصطفیﷺ سے ایک صحابی نے پوچھا کہ سب سے پاکیزہ و بہترین ذریعہ معاش کونسا ہے;238; آپﷺ نے فرمایا کہ ہاتھ کی کمائی اور ہر وہ تجارت یا کاروبار جو شرعی لحاظ سے جائز ہو، امانت و صداقت کو محلوظ خاطر رکھا جائے جھوٹ، دھوکہ ، خیانت ، زیادتی اور حرام کا شائبہ تک نہ ہو ۔ شریعت میں تجارت سے متعلق رہنما اصول طے کردئیے گئے ہیں جس میں لوگوں کیساتھ نرمی ، آسانی کیساتھ پیش آنا، بلند اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرنا ، سخاوت کو اختیار کرنا ، مجبور و کمزور لوگوں پر نرمی ، شفقت و احسان رکھنا ،سختی و تنگی نہ کرنا اور جائز منافع سے زائد نہ کمانا وغیرہ شامل ہیں ۔ اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں چند دن سے حکومت کے قائم کردہ سستے بازاروں میں ناجائز منافع خوری اور اشیاء خوردونوش کے کم معیار بارے خبریں اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں جن پر مجھے مقرر کردہ نرخوں سے زائد وصول کرنے بارے خبروں پر زیادہ یقین نہیں آتا تھا کیونکہ میں سوچتا تھا کہ ریٹ لسٹ تو سامنے آویزاں ہوتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سامنے نرخ آویزاں ہوں اور دکاندار اس سے زائد وصول کررہا ہو لیکن میں اس وقت غلط ثابت ہوا جب میں نے پہلی بار ریٹ لسٹ دیکھی اور اپنی خریدی اشیاء کی قیمتوں کیساتھ موازنہ کیا ۔ میرا اتفاق جی سیون سروس موڑ کے سامنے گرین بیلٹ میں قائم سستے بازار میں جانے کا اتفاق ہوا وہاں پر خربوزے ، آم ، تربوز اور لیموں کے نرخ ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں سے زائد دکاندار دھڑلے سے وصول کررہے تھے باقی اشیاء خوردونوش بھی مہنگی ہونگی مگر میرا تجربہ انہی چار اشیاء بارے ہی تھا ۔ جب میں نے مختلف سٹال ہولڈروں سے زائد قیمت وصول کرنے کی وجہ پوچھی تو تقریباً سب نے خاموش رہنے کا کہا پہلے تو ڈھیٹوں کی طرح کہاکہ یہی نرخ مقرر ہیں جب میں نے انہیں ریٹ لسٹ پر انکے وصول کردہ نرخ دکھانے کو کہا تو انہوں نے مجھے خاموش رہنے کیلئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیا تاہم میں نے انہیں ناجائز منافع خوری سے منع کیا تو وہاں پر موجود دیگر صارفین نے میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دکاندار کے بتائے نرخوں پر ہی پھل خریدنا شروع کردئیے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ قوم صرف سوشل میڈیا پر شور مچاسکتی ہے اورلمبے لمبے لیکچر دے سکتی ہے مگر عملی میدان میں ہماری کارکردگی صفر ہے ویسے بھی تھوڑی سی تکرار پر آپ کو تو مقرر کردہ نرخوں پر پھل یا سبزی مل جاتی ہے مگر جب آپ باقیوں کیلئے آواز بلند کرتے ہیں تو کوئی ساتھ نہیں دیتا اور دکاندار بھی کہتا ہے کہ آپ نے لینا ہے تو لیں ورنہ شور نہ مچائیں اور پھر انکے لئے صارفین میں سے ہی ہمدرد پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور آپ کو اپنا آپ ہی غلط محسوس ہونے لگتا ہے ۔ ضلعی حکومت کے سستے بازاروں میں ضلعی انتظامیہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہوتا جبکہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں موجود ہوتا تھا جسکو آپ موقع پر شکایت لگا کر دکانداروں کو ناجائز منافع خوری سے روک لیتے تھے مگر اس تبدیلی کی حکومت میں تو جیسے ہر کسی کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں محض اعلیٰ حکومتی افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے چند دکانداروں کے چالان اور ان پرجرمانے عائد کردئیے جاتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہر سطح پر ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور آفرین ہے موجودہ حکمرانوں پر کیونکہ انہی کی ایما پر موجودہ بیوروکریسی کام کررہی ہے اگر حکمران اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تو نا اہل بیورو کریسی کی جگہ ایماندار اور محنتی افسران کو تعینات کیا جاتا ۔ اس قوم میں اخلاقیات، دیانت، صداقت ، امانت اور صلہ رحمی نام کی کوئی چیز نہیں خواہ وہ بحیثیت دکاندار اپنا کردار ادا کررہا ہو یا پھر بطور صارف ظالمانہ نظام کا حصہ بنا ہوا ہو ۔ اسی طرح سستے بازار میں کچھ پھل خریدا مگر میرے ہاتھ کا چنا پھل دکاندار نے لفافے میں ڈالتے وقت تبدیل کرکے ٹھیک کی جگہ خراب پھل لفافے میں ڈال دیاجس کا مجھے گھر جاکر معلوم ہوا تو اگلے روز میں نے محض احساس دلانے کیلئے دکاندار کو جاکر شکایت کی کہ آپ نے گزشتہ روز ایسا کیا آپ کو کم ازکم رمضان المبارک کے مہینے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے جس پر دکاندار طنزیہ ہنستے ہوئے بولا جی رمضان میں ایسا نہیں کرنا چاہیے دکاندار کی طنزیہ ہنسی نے مجھ پر بجلی سی گرا دی تب میں نے سوچا کہ جو ہورہا ہے شاید ٹھیک ہی ہورہا ہے کیونکہ جس قوم کے ضمیر مردہ ہوچکے ہوں اور حکمران تخت و تاج کے مزے لینے میں مصروف ہوں اور عوام بخوشی کرپٹ نظام کا حصہ بنے ہوئے ہوں تو پھر ملک میں مہنگائی اور لوٹ مار کا ہی راج ہی ہوگا ہر کوئی کسی نہ کسی طرح دوسرے کو دھوکہ دینے میں مصروف عمل ر ہے گا ۔ یہاں پر حکمرانوں سے التجا ہے کہ قانون کی عملداری کو ہرصورت یقینی بنائیں کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگر اس کیلئے حکمرانوں کو بھی جاگنا ہوگا کیونکہ اس قوم کے تاجروں نے باعزت اور مبارک عمل تجارت کو ناجائز منافع خوری کیلئے بھی نہیں بخشا تو پھر وہاں ڈنڈے کا قانون ہی کام کرے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative