Home » کالم » سمندروں کی حفاظت!

سمندروں کی حفاظت!

کائنات کی وسعت پر سوچیں تو خوف ناک صورت حال سامنے آتی ہے ۔ یہ زمین ایک معمولی سیارہ ہے ۔ اس سے کہیں بڑے سیارے ،زمین کے ہمراہ سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں ۔ ان سیاروں کے اپنے چاند بھی ہیں ۔ جیسے زمین کا چاند ،زمین سمیت سورج کے گرد گھوم رہا ہے ایسے ان سیاروں کے چاند بھی ان کے ساتھ سورج کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ اس کی خوفناک بات یہ ہے کہ سورج اپنے ان سب سیاروں کے ساتھ کسی اور مرکز کے گرد گھوم رہا ہے ۔ یہ سورج اور اس کے سیارے انہیں انسانوں نے نظام شمسی کا نام دیا ۔ ایسے بے شمار نظام اور ہیں ۔ جن کی وسعت کا اندازہ اتنی سائنسی ترقی کے باوجود نہیں کیا جا سکا ۔ اسی طرح ایک خوفناک صورت حال پانی کے بارے میں بھی ہے ۔ یہ زمین جو ہے اس پر تین گنا پانی اور ایک حصہ خشکی ہے ۔ اسے تو ہم جانتے ہیں ۔ ویسے پانی کا تین گنا ہونا کتنا لرزا دینے والا ہے اب مزید سنیں ماہرین ارضیات ہمیشہ اس کھوج میں رہے ہیں کہ سمندروں میں اتنا زیادہ پانی کہاں سے آتا ہے ۔ جس کا جواب حال میں ہی ملا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس میں پانی کی مقدار کرۃ ارض پر تمام سمندروں کے پانی سے تین گنا زیادہ ہے ۔ (خیال رہے کرۃ ارض پر پہلے ہی پانی ،خشکی سے تین گنا زیادہ ہے ۔ سمندروں کے اجتماعی پانی سے تین گنا زیادہ پانی زیر ز میں ہے )یہ پانی زیر زمین چٹانوں کی کئی پرتوں کے بعد 700 کلومیٹر گہرائی میں نیلی چٹانوں کے اندر موجود ہے ۔ زمین کے اس اندرونی حصے کو مینٹل کہا جاتا ہے ۔ زیر زمین یہ پانی ماءع ، برف یا بخارات کے بجائے ایک چوتھی شکل میں موجود ہے جس سے ہم آشنا نہیں ہیں ہماری زمین کے اندر پانی کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے اندر یہ پانی کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے ۔ ہماری اس زمین پر اتنا پانی ہے ۔ یہ پانی سمندوروں میں ،زمین کی گہرائیوں میں پایا جاتا ہے ۔ سمندروں کی اہمیت اور ان بارے معلومات فراہم کرنے کے لیے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر کے ممالک میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد انسان کے لیے سمندروں کی اس کے پانی کی ،آبی جانوروں کی اور سمندر سے جڑے ماحول کی اہمیت بیان کرنا ہے ۔ عوام الناس میں اس کا شعور پیدا کرنا کہ سمندری آلودگی سے نوع انسانی کو خطرہ ہے ،سمندری آلودگی جسے آبی آلودگی کہنا چاہیے اسے کم کرنے کی مہم چلانا وغیراس مقصد کے لیے اس دن دنیا بھر میں سیمینار ،تقاریب،کانفرنسیں ،ٹی وی پر پروگرام ،اخبارات میں کالم و آرٹیکل لکھے جاتے ہیں ۔ یہ دن 1992 ء میں ;34; ریوڈی جینرو;34; میں زمین کے نام سے منعقد کی جانے والی کانفرنس سے منانے کا آغاز ہوا ۔ اقوام متحدہ کے تحت 2008 ء سے ہر سال سمندر کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لئے منایا جاتا ہے ۔ انسان کو سمندر سے 40 فیصد تازہ پانی ،50 فیصد سے زائد آکسیجن حاصل ہوتی ہے پانی اور آکسیجن پر تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار ہے ۔ سمندری علوم کے ماہرین زمین پر پھیلے وسیع و عریض سمندروں کو معدنی ذخائر کا بھی ایک بے بہا خزانہ سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا کی 40فیصد آبادی سمندروں کے نزدیکی ساحلوں پر رہتی ہے ۔ یہ ساحل ان افراد کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں ۔ انسانوں کی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو سمندر روزگار فراہم کرتے ہیں ۔ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ کی ضروریات کا انحصار سمندری حیات اور اس سے وابستہ کاروبار پر ہے، اس لیے سمندروں کا ماحول انسان اور اس کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ سمندر ماحول پر ایسے بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ موسموں کا نظام سمندروں سے بدلتا ہے ،بارشیں سمندر کے دم سے ہوتی ہیں ۔ کیونکہپانی بھاپ بن کر اوپر اٹھتا ہے جو اوپر جا کر ٹھنڈا ہوتا ہے ۔ ہوائیں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتی ہیں ۔ مناسب حرارت کی کمی بیشی سے بارش برستی ہے ۔ اس لیے سمندروں کی حفاظت اور اسے آلودگی سے پاک رکھنا سب کی قومی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ جو آلودگی سیوریج پانی کے ذریعے دریاءوں تک پہنچتی ہے وہی دریاءوں سے سمندر کا حصہ بن جاتی ہے ۔ پاکستان کا ساحل سمندر 1050 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ پاکستان ہر سال سمندر سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آبی اشیاء بیرون ممالک فروخت کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ 45لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں ۔ پاکستان کے سمندری حدود میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ جہازوں اور لانچوں کا بہنے والا گندا تیل اور بغیر صفائی کے فیکٹریوں سے آنے والا فضلہ،زہریلے کیمیکل وغیرہ ہے ۔ پاکستان کی صنعتوں اور رہائشی علاقوں کا استعمال شدہ نصف سے زائد پانی سیوریج کے ذریعے ندیوں ،دریاءوں سے ہوتا ہوا سمندر میں بہایا جاتا ہے ۔ جس سے سمندر آلودہ ہوتے ہیں ، سمندری آلودگی سے آبی حیات بری طرح متاثر ہوتی ہے ، خاص طور پر سمندرسے حاصل ہونے والی خوراک، مچھلیاں ، جھینگے ، کیکڑے وغیرہ اس کے علاوہ سمندری نباتاتی حیات پر بھی منفی اثر پڑتا ہے ۔ الغرض آلودہ سمندروں سے کرۃ ارض کے ماحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کے براہ راست منفی اثر ات انسانی حیات پر بھی پڑتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذراءع ہیں یعنی دریاءوں کی ا ٓلودگی،شہروں اور صنعتوں سے خارج ہوتا گندا پانی وغیرہ ہے ۔ سمندر نمکین پانی کے ایک بڑے پھیلاوَ کو کہتے ہیں ۔ یہ بعض اوقات کسی (عموماً نمکین) جھیل کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جس سے پانی کے اِخراج کے لئے کوئی راستہ میسّر نہ ہو ۔ دنیا میں پانچ بڑے سمندرپائے جاتے ہیں ۔ جن کے بارے میں مختصر معلومات یہ ہیں ۔ ;34;بحر الکاہل;34; دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے ۔ اسے یہ نام پرتگیزی جہاز راں فرڈیننڈ میگلن نے دیا تھا،جس کا مطلب;34; پرسکون سمندر;34; ہے ۔ بحر الکاہل زمین کے کل رقبے کے ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے، جس کا کل رقبہ 179;46;7 ملین مربع کلومیٹر (69;46;4 ملین مربع میل) ہے ۔ ;34;بحر اوقیانوس ;34;دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے5;223;1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے ۔ اس کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے ۔ اٹلانٹک کا مطلب ;34;اطلس کا بیٹا;34; ہے ۔ ;34;بحر ہند ;34;دنیا کا پانی کا تیسرا بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس میں دنیا کا تقریبا 20 فیصد پانی ذخیرہ ہے ۔ ;34;بحرمنجمد جنوبی;34; دنیا کا چوتھا سب سے بڑا بحر ہے ۔ اس نے چاروں طرف سے براعظم انٹارکٹکا کو گھیرا ہوا ہے ۔ ;34; بحر منجمد شمالی;34; دنیا کے5 سمندروں میں سب سے چھوٹا اور کم گہرا ہے ۔ حالانکہ بین الاقوامی تنظیم برائے آبی جغرافیہ (آئی ایچ او) اسے بحر تسلیم کرتی ہے لیکن ماہرین بحریات اسے بحیرہ آرکٹک کہتے ہیں ۔ قطب شمالی اسی سمندر میں واقع ہے ۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہم تو سمندروں کے عالمی دن کے حوالے سے لکھ رہے تھے ۔ یہ کہنا تھا کہ نسل انسانی کے لیے سمندروں کی کیا اہمیت ہے، اس سے صاف پانی،آکسیجن ،خوراک ،روزگار،معدنی ذخائر حاصل ہوتے ہیں ۔ سمندروں کے اندر اتنے وسائل ہیں کہ ان کا لاکھواں حصہ بھی انسان دریافت نہیں کر پایا ۔ خیرسمندر وں سے موسم تبدیل ہوتے ہیں ۔ یہ بھی کہنا تھا کہ سمندری آلودگی سے انسانوں کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے ،سمندری آلودگی انسان کی وجہ سے پھیل رہی ہے اور اسے کم کرنے کے لیے انسانوں کو ہی کوشش کرنا ہوگی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative