Home » کالم » سندھ کے سیاسی حالات،وزیراعظم کا مستحسن فیصلہ
adaria

سندھ کے سیاسی حالات،وزیراعظم کا مستحسن فیصلہ

وفاق اور سندھ حکومت سیاسی میدان میں آمنے سامنے آچکے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی اہلیت کو چیلنج کررہے ہیں۔ وفاق اس بات پر کمربستہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے جبکہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر آصف علی زرداری اشارہ کریں تو وہ وفاق کی حکومت کو ایک سیکنڈ میں گرا سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم اور وزیراطلاعات کی ایک طویل ملاقات ہوئی جس میں سیاسی حالات زیر بحث آئے اور وزیراعظم نے ای سی ایل لسٹ میں ڈالے گئے 172 ناموں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فی الحال فواد چوہدری کا دورہ کراچی بھی ملتوی کردیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کیونکہ اس اقدام کے اٹھانے سے صرف سیاسی انارکی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اپوزیشن اس بات پر بھی کمربستہ ہے کہ وہ چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد تحریک لائے گی اور اس کے بعد وہ وفاق کو نشانہ بنائے گی۔ اس سلسلے میں گو کہ جوڑ توڑ بھی جاری ہے مگر نتائج کچھ اچھے برآمد نہیں ہونگے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس نے جمہوریت اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے جو ترجیحات متعین کی ہیں ان کا حصول کیا جائے اگر جمہوریت میں اسی طرح کی محلاتی سازشیں ہوتی رہیں تو حکومت متعین کردہ سمت سے بے راہ روی کا شکار ہو جائے گی اور اصل مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ لہذا یہاں پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔ویسے انہوں نے اپنے وزراء کو سندھ کی صورتحال کے حوالے سے بیان دینے سے بھی روک دیا ہے۔ یہ بھی ایک اچھا فیصلہ ہے ، ہم تو متعدد بار حکومت کو یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ باقاعدہ ایک حکومتی ترجمان مقرر کرے جو حکومت کا موقف عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرے، جب ہر وزیر یا حکومتی ایم این اے اپنے تئیں اپنی اپنی بولی بولتے رہیں گے تو پھر نتائج اسی طرح کے حاصل ہونگے جس سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچے گا بلکہ حکومت کی پوزیشن بھی ڈانواڈول رہے گی۔ لہذا تعمیری سیاست کرنے کیلئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑے گا ۔وفاق تمام اکائیوں کے اتحاد کا مظہر ہوتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔ اپوزیشن تنقید کیلئے ہوتی ہے لیکن اسے بھی تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر کرنا چاہیے۔ جہاں حکومت کوئی غلط قدم اٹھاتی ہے تو اس کی ضرور نشاندہی کرے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے کو حل کرے نہ کہ آپس میں ذاتی عناد سمجھ کر ایوان کا ماحول پراگندہ نہ کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ملاقات کی جس میں وزیراطلاعات کا دورہ سندھ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ملاقات میں فواد چوہدری کے دورہ سندھ کے آغاز سے قبل وزیر اعظم سے سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فواد چوہدری نے سندھ میں اتحادیوں سے رابطوں پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ وزیراعظم کا ملاقات میں کہنا تھا وہ سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ابھی ہمیں سندھ حکومت کے معاملات پر صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے دورہ ملتوی کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے مزید کہا معاملے پر پارٹی کے دیگر رہنماں کیساتھ بھی مشاورت کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ پر حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ سمیت صوبائی وزراکے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر اظہار برہمی کیا گیا اور عدالت کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کو کیس پر تبصرے سے روک دیا گیا جس کے بعد وزیراعظم اور وزیر اطلاعات سمیت دیگر وفاقی وزراکے درمیان سندھ حکومت کے معاملے پر مشاورت کی گئی اور اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ وزیراطلاعات و نشریات کو اپنا دورہ فی الحال ملتوی کردینا چاہیے۔اِ دھرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آصف زرداری اجازت دیں تو ہم حکومت کو ایک ہفتے میں گرا سکتے ہیں اور حکمرانوں کو جیل بھجوا سکتے ہیں۔ہم ماتحت عدالت میں اپنا کیس لڑیں گے، جے آئی ٹی رپورٹ پر قانون کے مطابق لڑیں گے جو چاہتے ہیں عوام کے مسائل حل نہ ہوں وہ چاہتے ہیں وزیراعلیٰ سندھ تبدیل ہو، آصف زرداری کے خلاف کتنے کیسز بنائے گئے ،وہ ان سب کیسز میں بھی سرخرو ہوں گے۔ حکومت اور جے آئی ٹی کا گٹھ جوڑبے نقاب ہو گیا ہے،حکومت کی ہرسازش کا مقابلہ کریں گے، پی ٹی آئی کوسیاست کے ساتھ حساب بھی نہیں آتا۔ ہماری توجہ دہشت گردی جیسے سنجیدہ مسئلے پر ہونی چاہئے۔ سندھ حکومت گرانے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔ پی ٹی آئی کو سیاست آتی ہے نہ حساب آتاہے۔ سندھ اسمبلی میں ہمارے 99 ارکان ہیں۔ حکومت گرانے کیلئے انہیں 55 ارکان توڑنے پڑیں گے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، احسن اقدام
حکومت نے عوام کو سال نو کا تحفہ دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ گوکہ یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے مگر حکومت کو اس جانب بھی دھیان دینا ہوگا جیسا کہ اس نے کہا ہے کہ منی بجٹ آئے گا، یہ نہ ہوکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سارا نزلہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پر مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اس سے بھی زیادہ سستی ہیں، یہاں پر ہم وزارت پٹرولیم اور حکومت کی خدمت میں ایک نکتہ ضرور عرض کریں گے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستقبل میں ہمیشہ روپوں کی مد میں کم یا زیادہ کی جائیں کیونکہ سکہ رائج الوقت میں پیسہ یا ٹکہ تو ملتا نہیں لہذا لیٹر میں جو 20,25پیسے بچتے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں ہوتا اگر ان پیسوں کی ملکی سطح پر جمع تفریق کی جائے تو یہ کروڑوں روپے بنتے ہیں جو عوام اپنی جیبوں سے دیتی ہے لیکن اس کا صلہ اسے کوئی نہیں ملتا۔
وائٹ کالر کرائم معاشی دہشتگردی
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی(تمغہ امتیاز) کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں سابق وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم ایک قسم کی معاشی دہشتگردی ہے،اسکی روک تھام کیلئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے،وزیراعظم عمران خان تبدیلی کے ویژن میں مخلص ہیں میں دل سے انکے جذبے اور خلوص کی قدر کرتا ہوں،اومنی گروپ کا کیس ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ “وائٹ کالر کرائم “یا بلیو کالر کرائم میں فرق یہ ہے کہ اس میں ویپن آف افنس قلم ہوتا ہے،وائٹ کالر کرائم میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ سسٹم کو بیٹ کیسے کرنا ہے ،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم میں ملوث افراد کوشش کرتے ہیں کوئی ٹریل باقی نہ رہے،اس کوشش میں اب تک کو ئی کامیاب نہیں ہوا،وائٹ کالروائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لئے اسپیشلسٹ افراد کی ضرورت ہوتی ہے ،وائٹ کالر کرائم میں جتنے گواہ زیادہ ہونگے اتنی کنفیوڑن ہو گی ،وائٹ کالر کرائم کیلئے ڈاکومنٹس کو سامنے رکھیں ،وائٹ کالر کرائم کی روک تھام کیلئے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاعمران خان تبدیلی کے وژن میں مخلص ہیں ،میں دل سے خان صاحب کے جذبے اور خلوص کی قدر کرتا ہوں ،پانامہ جے آئی ٹی میں ڈاکومینٹری ایویڈنس کم تھے،جعلی اکاونٹس والی جے آئی ٹی میں ڈاکومینٹری ایویڈنس زیادہ ہیں،اومنی گروپ کا کیس ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل ہے

About Admin

Google Analytics Alternative