Home » صحت » سندھ کے گاؤں وسایو میں ایڈز کے مرض سے خوف کی فضا قائم

سندھ کے گاؤں وسایو میں ایڈز کے مرض سے خوف کی فضا قائم

رتوڈیرو: سندھ کے گاؤں وسایو میں سیکڑوں بچوں کے والدین ایچ آئی وی /ایڈز میں مبتلا ہونے کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔

صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کے مضافات میں واقع گاؤں وسایو میں گزشتہ ماہ سے 5 مختلف اسکریننگ رومز میں سے ایک میں موجود خاندان افرا تفری کا شکار تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صحت حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں 400 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی جن میں بچوں کی کثیر تعداد شامل ہے۔

ماہرین نے اکثر اتائی ڈاکٹروں کی جانب سے مضرِ صحت آلات کے استعمال سے ملک بھر میں ایڈز کے شکار مریضوں کی شرح میں خطرناک اضافے سے خبردار کیا ہے ۔

عارضی کلینک میں موجود ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ‘ مریض درجنوں کی تعداد میں آرہے ہیں،مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے علاج کے لیے عملہ اور آلات کی کمی ہیں’۔

اس وبا کا بدترین شکار گاؤں کے غریب افراد غم و غصے میں مبتلا ہیں جسے حکام کی جانب سے مقامی بچوں کے ڈاکٹر کی جانب سے غفلت یا مذموم مقاصد قرار دیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں ایچ آئی وی کے 20 ہزار کیسز سامنے آئے تھے اور اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کی تیزی سے بڑھتی شرح والے ممالک میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی دہائیوں سے طبی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے غریب طبقہ اور دیہاتی علاقے نااہل معالجین کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔

یواین ایڈز کے بیان کے مطابق ‘ بعض سرکاری رپورٹس کے مطابق ملک میں 6 لاکھ اور سندھ میں 2 لاکھ 70 ہزار اتائی ڈاکٹر کام کررہے ہیں۔

صوبائی طبی حکام کے مطابق ایسے کلینکس میں مریضوں کو مختلف وائرس اور بیماریوں لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں بنیادی علاج کے طور پر اکثر انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے صوبائی مینیجر سکندر میمن نے کہا کہ ‘ پیسے بچانے کی خاطر اتائی ڈاکٹر کئی مریضوں کو ایک ہی سرنج لگاتے ہیں، جو ایچ آئی وی مرض پھیلنے کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے’۔

کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں ماہر صحت بشرہ جمیل نے کہا کہ ناقابل ڈاکٹروں کی بڑی تعداد، سرنج کا دوبارہ استعمال، خون کی غیر محفوظ منتقلی اور دیگر غیر محفوط طبی معمولات کی وجہ سے حالیہ چند سالوں میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی موثر نگرانی کے بغیر بے قابو ہوتا علاج کا غلط طریقہ کار پاکستان میں بار بار ایسے مسائل کی وجہ بن ر ہا ہے۔

سندھ میں اس وبا کے بے قابو ہونے سے متعلق تحقیق کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ جس ڈاکٹر پر الزام عائد کیا گیا تھا ان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔

رتو ڈیرو کی جیل میں قید ڈاکٹر نے دانستہ طور پر مریضوں کو ایچ آئی وی کا شکار بنانے کے الزامات کو مسترد کیا جبکہ عادی مجرموں کے ساتھ رکھے جانے سے متعلق شکایت بھی کی۔

تاہم جن بچوں میں حال ہی میں اس مرض کا انکشاف کیا گیا ہے ان کے لیے یہ تحقیق کوئی معنی نہیں رکھتی اگر وہ اس وائرس کو ختم کرنے میں مددگار ضروری ادویہ اور بہتر معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

حال ہی میں ایچ آئی وی کے مرض کا شکار ہونے والی بچی کی والدہ نے کہا کہ ‘ ہم بے بس ہیں، مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے باقی بچوں کو بھی یہ بیماری نہ لگ جائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ ہمارے بچوں کے لیے کچھ دوائیاں بھیجیں تاکہ ان کا علاج ہوسکے، اگر نہیں تو ہم سب کے بچے مرجائیں گے’۔

About Admin

Google Analytics Alternative