adaria 53

سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکی نگرانی کے لئے نئے رولزکی منظوری

وفاقی کابینہ نے شتر بے مہمار سوشل میڈیا کو کسی ضابطے قاعدے میں لانے کے لئے نئے رولزکی منظوری دیتے ہوئے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت نے قومی سلامتی ، دہشت گردی ، انتہا پسندی، نفرت انگیز تقریر، بدنامی اور جعلی خبروں سے متعلق آن لائن مواد کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے سٹیزن پروٹیکشن(اگینسٹ آن لائن ہارم)رولز 2020کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے ۔ اس کے تحت اب یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر سمیت تمام کمپنیاں رجسٹریشن کرانے کی پابند اور کمپنیوں کیلئے 3 ماہ میں وفاقی دارالحکومت میں دفتر قائم کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے،جبکہ انہیں ایک سال میں ڈیٹا سرور بھی بنانا ہوں گے، علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے ۔ سوشل میڈیاکمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کےلئے نیشنل کو;200;رڈی نیشن اتھارٹی بنائی جائے گی، جو ملکی اداروں کو نشانہ بنانے، ممنوعہ مواد اور ہراسگی کی شکایت پر اکاوَنٹ بند کر سکے گی ۔ اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کےخلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی ۔ سوشل میڈیاکمپنیوں کی طرف سے عدم تعاون اور قوانین کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں ان پر پچاس کروڑ روپے کا جرمانہ ہو سکے گا، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی طرف سے جاری ایس آر او میں کہا گیا ہے کہ سٹیزن پروٹیکشن کا اطلاق فوری طور پر ہو گا ۔ بلا کسی شک و شبہ گزشتہ کچھ عرصے میں انرائیڈ موبائل فون اور انٹرنیٹ تک آسان رسائی ممکن ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ جس سے جہاں رابطوں میں تیزی، حقوق سے آگاہی سمیت کئی مثبت سماجی پہلو سامنے آئے ہیں وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا جھوٹی خبروں ، نفرت انگیزی پھیلانے اور لغو پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر بھی اس کے استعمال میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے،اس وقت اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر بلا کسی خوف و خطرے کے ذاتی و سیاسی مقاصد کی تشہیر ، مذہبی منافرت پھیلانا اور کسی کی عزت و ناموس کو نشانہ بنانا کتنا ;200;سان ہے ۔ جس کی نگرانی کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی،اسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو یہ اقدام اٹھانا پڑا ہے، جو وسیع تر ملکی مفاد میں بہتر ہے،دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین سخت کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے جبکہ کئی ممالک میں اس پر سخت پابندیاں بھی عائد ہیں ۔ مثلاًچین کے ;200;ن لائن صارفین کا شمار دنیا کے زیرک ترین سوشل میڈیا کے صارفین میں ہوتا ہے ۔ انٹرنیٹ کے چینی صارفین کی تعداد 800 ملین سے زیادہ ہے ۔ تاہم، چینی حکومت نے اس حوالے سے سخت قوانین بنا رکھے ہیں ۔ امریکہ کے سلامتی کے ادارے دہشت گردی کے حوالے سے امریکی شہریوں اور ذراءع ابلاغ اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی نگرانی کرتے ہیں ۔ بجائے اس کے منفی پہلو اجاگر کرنے کے تمام سیاسی جماعتیں ، سنجیدہ و دانشور حلقے اور میڈیا حکومت کے ساتھ مل کر ان قوانین کو موثر بنانے میں تعاون کریں تاکہ مذہبی منافرت،جھوٹے الزامات من گھڑت خبروں اور ;200;زادی اظہار کے نام پر جو ہڑبونگ مچا ہوا ہے اس بروقت اور موثر ترین سدباب ہو سکے ۔ اس سے نہ صرف ملک کا وقار بلند ہو گا بلکہ ;200;ئندہ نسلیں بھی تباہی سے بچ سکیں گی ۔ ماہرین کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ سوشل میڈیا طلبہ کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے اس لئے سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی اس ضمن میں والدین کےلئے زیادہ حوصلہ افزاء ہے ۔

وزیراعظم کانوجوانوں سے خطاب

بدھ کو نیشنل انکیوبیشن سینٹر اسٹارٹ اپس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اِس امید کا اظہار کیا کہ اللہ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے اور ہمارے پاس سونے، تانبے کے ذخائر ہیں ، بلوچستان میں سو نے اور تانبے کے ریکوڈک منصوبے پر ماہرین تیزی سے کام کر رہے ہیں ، انہیں ملک و قوم کے بہتر مفاد میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ انشا للہ پاکستان پورے خطہ کی قیادت کریگا ۔ بلاشبہ پاکستان بے پناہ قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے مالا ہے اور انہیں صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جائے تو کوئی دشمن پاکستان کی طرف میلی ;200;نکھ سے دیکھنے کی جراَت نہیں کرے گا ۔ وزیراعظم نے تقریب میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں ، ان کو مواقع کی فراہمی ضروری ہے ۔ آئی ٹی کے شعبہ کی مکمل طور پر سرپرستی کریں گے،انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو ناکام ہونے سے ڈرتا ہے وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ آج کے دور میں سب سے بڑا ظلم ذہنی غلامی ہے، ناکامی کا خوف انسان کو بزدل بنا دیتا ہے ۔ نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ سرکاری نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں ، ایسی نوکریاں صلاحیتوں کو تباہ اور انسان کو سہل پسند بنا دیتی ہیں ، جدوجہد ختم ہوجائے تو آپکی زندگی ختم ہوجاتی ہے ۔ بدھ کے روز وزیراعظم نے پارٹی ارکان اور تجارتی وفود سے بھی ملاقات کی ۔ ان وفود سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرعظم نے کہا کہ کرپشن اور مافیازسے تنگ عوام تحریک انصاف کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے ۔ پاکستان طویل المدتی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک بن چکا ہے ۔ وزیراعظم جس طرح جوانوں کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور انہیں آگے لانا چاہتے ہیں وہ قابل قدر سوچ کی عکاسی ہے ۔

حافظ سعید کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات کے جرم میں 11 سال قید کی سزا اور ساتھ ہی 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ حافظ سعید کے خلاف یہ مقدمات پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج کیے گئے تھے ۔ انہیں گزشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ گوجرانوالہ میں درج کرائے گئے مقدمے کی ابتدائی سماعت گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر کیس کو لاہور منتقل کردیا گیا ۔ دونوں کیسز کے ٹرائل کے دوران عدالت میں 23گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے ۔ انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت سزا سنائی گئی ۔ انکے ساتھ ساتھ الانفال ٹرسٹ کے سیکریٹری ملک ظفر اقبال کو بھی اسی جرم میں یکساں سزا سنائی گئی ہے ۔ جس وقت جج نے سزا سنائی اس وقت جماعت الدعوہ کے سربراہ بھی کمرہ عدالت میں موجودتھے ۔ جہاں سے انہیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ۔ حافظ سعید عرصہ دراز سے ایسے الزامات کی زد میں چلے ;200; رہے تھے ۔ اس حوالے سے پاکستان کو عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کا سامنا رہتا تھا، بعض ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان اگر ایف اے ٹی ایف کی گرفت میں ;200;یا ہے تو اس کی کئی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ حافظ سعید کا معاملہ بھی تھا، امید ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد ملے گی اور پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں