Home » بزنس » سول ایوی ایشن اتھارٹی میں بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی کا امکان

سول ایوی ایشن اتھارٹی میں بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی کا امکان

کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو ریگولیٹری اور ایئرپورٹ سروسز ڈویژن میں تقسیم کرنے کے متعلق غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے چنانچہ شہری ہوا بازی کے ادارے کی جانب سے شروع کیے گئے طریقہ کار کو ملازمین کی تعداد میں کمی کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے سی اے اے کو نجکاری پروگرام کی فہرست میں شامل نہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا شمار ملک کے ان چند خودمختار اداروں میں ہوتا ہے جو 1984 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک منافع بخش رہے ہیں۔

تاہم سی اے اے میں افرادی قوت کے تعین کے لیے ذیلی کمیٹی کے قیام سے ہزاروں افراد کے ملازمت سے برطرف ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سی اے اے کے سینئر حکام کو 6 ستمبر کو بذریعہ خط ’ افرادی قوت کے تعین کے لیے ذیلی کمیٹی کے قیام‘ سے آگاہ کیا تھا جو سول ایوی ایشن ہیڈکوارٹر میں تمام ڈائریکٹوریٹ کے لیے افرادی قوت پر غور کرے گی جس میں مختلف مقامات اور ہیڈکوارٹر میں تعینات متعلقہ افرادی قوت بھی شامل ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی کو رائٹ سائزنگ کے نام پر ڈاؤن سائزنگ کی جانب پہلے قدم کے تحت سی اے اے کی تمام شاخوں میں اضافی عملے کی نشاندہی کا کام سونپا گیا ہے۔

15 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ایوی ایشن سیکریٹری اور سی اے اے ڈائریکٹر جنرل شاہ رخ نصرت کی جانب سے سول ایوی ایشن کو ریگولیٹری اور ایئرپورٹ سروسز ڈویژن میں تقسیم کرنے سے متعلق پیش کیا گیا منصوبہ منظور کیا تھا۔

وزیراعظم نے سی اے اے کے ریگولیٹری محکمے کی علیحدگی کے تحت افرادی قوت کے تعین کی منظوری بھی دی تھی۔

تاہم 18 جولائی کو وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا تھا کہ سی اے اے کی تقسیم کے بعد اس میں کسی ڈاؤن سائزنگ یا رائٹ سائزنگ کی تجویز نہیں دی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سی اے اے کی تقسیم کے منصوبے کو خفیہ طریقے سے نافذ کیا گیا اور افسران، ملازمین کی ایسوی ایشنز سمیت اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اکثر ملازمین غیر یقینی کا شکار ہیں انہیں اندازہ نہیں کہ یہ منصوبہ ان کی ملازمتوں پر کیسے اثر انداز ہوگا۔

سی اے اے سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ تقسیم کا فیصلہ بہتری کے لیے کیا گیا تھا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ منافع بخش ادارے کی کبھی کوئی غیر مطمئن کارکردگی تھی، اگر ایسا ہے تو آمدن کے علاوہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا سب سے زیادہ منصفانہ طریقہ کیا ہے؟‘

ذرائع نے کہا کہ سی اے اے کی 70 فیصد آمدن ریگولیٹری سے ہوتی ہے جس میں ایئر ٹریفک کنٹرول، لائسنس اور فلائٹ اسٹینڈرڈ وغیرہ شامل ہیں جو عملے کے 30 فیصد حصے پر مشتمل ہیں جبکہ 70 فیصد عملے پر مشتمل ایئرپورٹ سروسز آمدن میں 30 فیصد کردار ادا کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس لحاظ سے ایئرپورٹ سروسز سے منسلک ملازمین رائٹ سائزنگ کا شکار ہونے کا واضح امکان ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative