Home » کالم » سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چیئرمین سینیٹ کی توہین
Azam-Khan

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چیئرمین سینیٹ کی توہین

Azam-Khanسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دئیے جانے والے اردو زبان کے حق میں تاریخی فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر کا یہ عالم ہے کہ جس دفتر میں جائیں وہاں پہ کلرک سے لیکر آفسر اعلیٰ تک مقتدرہ قومی زبان کی شائع کردہ کتاب ” دفتری اردو“کے مطالعے میں غلط دکھائی دیتے ہیں اور ٹائپسٹ و کمپیوٹر حضرات اردو تختہ پہ تختہ مشق دکھائی دیتے ہیں اور ہو ں بھی کیوں نہ کہ حکم سب سے بڑی عدالت کا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ تمام تر عدالتی کارروائی اور سرکاری دفتری کارروائی اردو زبان میں ہونی چاہیے ۔ اردو زبان کے ساتھ برصغیر میں سوتیلی والا سلوک اس وقت شروع ہوا تھا جب انگریز بہادر نے مسلمان حکومت کا بسترا گول کرکے یہاں پر اپنے راج کا جھنڈا گاڑا چونکہ مسلمان شکست خوردہ تھے اس لئے ان کی زبان میں بات کرتے ہوئے انگریز بہادر اپنی تضحیک محسوس کیا کرتے اس لئے اردو کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئے انگریزی زبان کی گڈی چڑھائی گئی ، جگہ جگہ فروغ انگریزی زبان کے سکول کھولے گئے جسے اس وقت کے شرفاءفرنگی سکول سمجھتے تھے اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم دلوانا معیوب تصور کرتے تھے اس پیدا ہونے والے حلا ءکا فائدہ بنیاءجی نے اٹھایا اور اس نے انگریز کے ساتھ اپنی قربت کو بڑھانا شروع کردیا ۔ آزادی سے پہلے برصغیر پاک و ہند کی سرکاری زبان اردو ہی تھی جسے اردو معلیٰ کہا جاتا تھا مگر جب یہ معتوب ٹھہری تو پھر آہستہ آہستہ ، رفتہ رفتہ پس منظر میں جاتی گئی ۔ قیام پاکستان کے بعد اصولاً تو سرکاری زبان ،دفتری زبان ، عدالتی زبان اردوہونا چاہیے تھی مگر انگریزوں کی صحبت میں اپنے ایام گزارنے والے سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس طرح کیا کہ سرکاری زبان کو ٹھہری انگریزی اور قومی زبان کا درجہ اردو کو دے دیا گیا یہ بات کرتے ہوئے مجھے سکھوں کا لطیفہ بھی یاد آرہا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل امرتسر میں ایک خالصہ کالج بنایا گیا جہاں سکھوں کو ان کی مذہبی و دنیاوی تعلیم دینے کا اختتام کیا گیا تھا اس پر لاہور جہاں سکھوں کی کثیر آبادی قیام پذیر تھی اس فیصلہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے شور مچایا کہ ہمیں بھی خالصہ کالج کا حصہ چاہیے اس پر سردار صاحبان کے گورو سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ کیا کہ کالج تو امرتسر میں ہی رہے گا البتہ لاہور کے سکھوں کیلئے لاہور میں اس کالج کا ہاسٹل بنا دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ طے کیا گیا کہ 25برس کے اندر اندر اردو سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرلے گی مگر یہ 25برس کبھی پورے ہونے میں نہ آئے ۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایک آزاد ریاست جموں وکشمیر کی حکومت نے سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ریاست کی سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان اردو قرار دے دی گئی چنانچہ آج وہاں پر بڑی کامیابی کے ساتھ یہ کام ہورہا ہے ۔ اردو زبان کے ساتھ ہمارے حکمران کس قدر مخلص ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں اردو زبان کے فروغ کیلئے بنائے جانے والے قومی ادارے کے دفتر کے باہر جو بورڈ نصب کیا گیا ہے وہ انگریزی زبان میں تحریر ہے اور اس پر جو تحریر درج ہے وہ کچھ یوں ہے ” نیشنل لینگویج اینڈ پروموشن اتھارٹی“ جب فروغ قومی زبان کا ادارہ انگریزی استعمال کرے گا تو ایک عام آدمی بھلا اردو سیکھ کر اپنا وقت کیوں ضائع کرے گا۔ مگر گزشتہ سے پیوستہ روز ایک اور عجیب واقعہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی چیئرمین سینٹ کی درخواست پر وہاں تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنا خطاب اردو زبان میں کیا یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ میزبان رضا ربانی صاحب جوٹھیٹ لاہوری کلچر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی قابلیت کا اظہار انگریزی زبان میں تقریر کرکے کیا۔ چیئرمین سینیٹ کو انگریزی زبان سے شاید لگاﺅ زیادہ ہے اسی لئے جب جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انہوں نے سینٹ کے ممبر کے طورپر حلف لینا تھا تو پہلے وہ احتجاج کرتے رہے کہ میں حلف نہیں لوں گا جب سب ارکان نے حلف اٹھا لیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اب اپنا حلف انگریزی زبان میں اٹھاﺅں گا۔ اکبر آلہ آبادی نے بہت عرصہ پہلے شاید ان جیسے لوگوں کیلئے کہاتھا۔
سنا ہے بہشت بریں میں زباں ہے عرب کی
اور ہم نے تو سیکھی ہے انگلش غضب کی
اپنی زبان کو نظر انداز کرکے کسی دوسری زبان کو فوقیت دینا یا اس زبان میں بات کرنااحساس کمتری کی علامت ہے ۔ چیئرمین سینٹ کو چاہیے تھا کہ وہ معزز مہمان کے احترام میں اپنی قومی زبان میں ہی بات کرتے تو اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کا پہلو بھی نہ نکلتا اور شاید میرے اس کالم کے لکھنے کا جواز بھی نہ بنتا۔

About Admin

Google Analytics Alternative