Home » کالم » اداریہ » سیاست میں ریاستی اداروں کو گھسیٹنے کی روایت اچھی نہیں
adaria

سیاست میں ریاستی اداروں کو گھسیٹنے کی روایت اچھی نہیں

اداروں کو سیاست میں گھسیٹنا اچھی روایت نہیں اس طرح کی الزام تراشیوں سے حالات دگرگوں ہونے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور وہ بھی ایسا ادارہ جس کے ساتھ پوری قوم کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے ۔ گرمی ہو یا سردی، دھوپ ہو یا چھاءوں ، جنگ ہو یا امن غرض کہ جو بھی حالات ہوں ان کی خدمات پیش پیش ہوتی ہیں ،یہ ملکی سرحدوں اور وطن کی سالمیت کے ضامن ،عوام کی زندگیوں کے امین ہیں ، اپنی جانیں قربان کرکے وطن کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ایسے میں انہیں موردالزام ٹھہرانا کہاں کی خام خیالی ہے لہذا ایسے بیانات سے قطعی طورپر احتراض کرنا چاہیے اسی سلسلے میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا دھرنا سیاسی سرگرمی ہے اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں ۔ فوج سیکورٹی اور دفاع میں مصروف ہے، الزام تراشیوں کا جواب دینے کی فرصت نہیں ۔ الیکشن میں آرمی کو نہ بلایا جائے تو نہیں جائے گی ۔ آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ ایسا نظام بنائیں انتخابات میں فوج کا عمل دخل زیرو ہوجائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک ہی محدود رہیں گے اور ایک انچ آگے نہیں جاسکتے ، کرتارپور راہداری یکطرفہ راستہ ہے اور کرتارپور میں ملکی سکیورٹی یا خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا تاہم سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد قانون کے مطابق ہو گی ۔ فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں اور وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں ‘ انہیں اس بات کا باخوبی اندازہ ہے کہ دھرنے کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور پاکستان کے امیج پر اس کا کیا اثرپڑاہے‘ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا ۔ حکومت اور فوج اپنے طور پر کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہی ہیں ‘مسئلہ کشمیر کا کرتار پور راہداری سے کوئی تعلق نہیں ‘اس کوسیاسی مسئلہ نہ بنایاجائے،فوج 20 سال سے ملکی سکیورٹی اور دفاع کے کاموں میں مصروف ہے جو ہ میں یہ اجازت نہیں دیتے کہ خود کو اس طرح کی چیزوں میں ملوث کریں یا الزام تراشیوں کا جواب دیں ‘جو بیان دیتا ہوں فوج کے ترجمان کی حیثیت سے دیتا ہوں ۔ سیاست میں شاید ایسا ہوتا ہو کہ بیان دیں اور بعد میں کہیں یہ میرا ذاتی بیان تھا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی چاہتے ہیں کہ الیکشن میں پاک فوج کا عمل دخل کم سے کم ہو، آرمی چیف چاہتے ہیں ایسا الیکشن پراسس تیار کیا جائے جس میں فوج کا کردارنہ ہو ۔ ہ میں اداروں کا احترام کرنا چاہیے، صرف اپنی سیاست چمکانے کیلئے یا کسی کی ٹانگیں گھسیٹنا کوئی اچھا اقدام نہیں ، سیاست دانوں کی آپس کی سیاسی مخالفتیں ہوتی ہیں مگر ان میں بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس مخالفت کی وجہ سے کہیں ملکی نظام کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا اسی پر انگوشت نمائی کرنے سے قبل اپنے گریباں میں خود جھانک لینا چاہیے کہ صرف زبان کی چاشنی یا سیاسی ماحول کو گرمانے سے اس کے کیا دوررس نتاءج نکل سکتے ہیں ۔ منفی حالات پیدا کرنے سے ملک و قوم کی خدمت نہیں کی جاسکتی ۔ لہذا تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ مثبت سیاست کی جانب گامزن ہوں ، جب آرمی چیف نے کہہ دیا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس میں فوج کی مداخلت زیرو فیصد ہو تو پھر اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں ۔ حکومت آخر کار انتخابات میں فوج کو ریکوزٹ ہی کیوں کرتی ہے ۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق اگر حکومت بلاتی ہے تو وہ آئین و قانون کے مطابق آتے ہیں ایسے میں یہ کہنا کہ فوج مداخلت کرتی ہے سراسر غلط ہے خود دعوت دی جائے یہ الزام بھی سیاستدانوں کے سر ہی آتا ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ایک کام کی بساط خود بچھائی جائے اور الزام کسی محترم ادارے پر عائد کردیا جائے ۔

قیمتوں میں اتار چڑھاءو کی رپورٹ روزانہ کی بنیادوں پر وزیراعظم آفس بھیجنے کی ہدایت

مہنگائی اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اس کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت رات دن تگ و دو ہے، اسی وجہ سے وزیراعظم نے اجلاس اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے ۔ نیز انہوں نے ایک اور تقریب سے خطاب میں کہاکہ ہ میں مستقبل کی نسل کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، ماحولیاتی تبدیلی ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اس کےلئے ہنگامی بنیادوں پر دنیا کو کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان قدرتی خوبصورتی اور حسن سے مالا مال ہے ۔ پاکستان میں گھنے جنگلات، طویل صحرا‘ بلند ترین پہاڑی سلسلے ہیں جبکہ شہروں میں رہنے والے زیادہ تر افراد پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتے ہیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں انہیں وفاقی دارالحکومت کے نئی مقامی حکومت کے مجوزہ نظام پر بریفنگ دی گئی جس کے مطابق نئے نظام میں میئر کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا ، نئے نظام میں میئر کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا، دارالحکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ کے معاملات کی ذمہ داری میئر کو سونپی جائےگی ۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کےلئے مقامی حکومت کے نئے نظام کے حوالے سے تجاویز کو سراہا اور کہا کہ پی ٹی ;200;ئی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام عوام کو با اختیار بنانے میں انقلاب برپا کرے گا ، مقامی حکومتوں کے نئے نظام کا مقصد اختیارات کولوکل سطح پر منتقل کرنا ہے تاکہ تعمیر و ترقی اور مسائل کا حل مقامی طور پر ممکن بنایا جا سکے، وفاقی دارالحکومت کےلئے تجویز کردہ مقامی حکومت کے نئے نظام کا مقصد میئر کی سربراہی میں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو مکمل طور پر با اختیار بنا کر ایک ایسا نظام راءج کرنا ہے جو وفاقی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کو یقینی بنا سکے ۔ نیزوزیراعظم کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ۔ عمران خان نے کہا کہ روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں ۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام یقینی بنائی جائے، گندم، آٹا اور فائن میدے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ کو مزید موثر بنایا جائے اسمگلرز اور ان کی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسل لوڈ موخر ہونے کے بعد گھی کے قیمتوں میں کمی یقینی بنائی جائے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر تحصیل میں کاشت کاروں کیلئے ایسی جگہ مختص کی جائے گی جہاں وہ فیس یا اخراجات کے بغیر اپنی اجناس فروخت کر سکیں گے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں درست دام ایپ کے ذریعے اشیا کی عوام کی دہلیز تک مناسب نرخوں پر فراہمی کا نظام پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی اور ملتان جبکہ خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، پشاور، مردان اور ڈی آئی خان میں فوری متعارف کرایا جائے ۔ عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے یوٹیلیٹی اسٹورز کا بھر پور استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔

آزادی مارچ، سردی میں شدت، حکومت کی جانب سے طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہمی کا مستحسن اقدام

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا اس وقت سردی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے، وزیراعظم نے مثبت اقدام اٹھاتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو سردی کی شدت سے بچانے اور طبی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کرے ۔ گوکہ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے اس پیشکش کو مسترد کردیا لیکن حکومت کی جانب سے یہ ایک احسن اقدام ہے ۔ کیونکہ راولپنڈی اسلا م آباد میں بارش ہونے کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے مجموعی طورپر اب تک تین اموات ہوچکی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دھرنا جاری رہے گا اور 12ربیع الاول کو سیرت کانفرنس بھی ہوگی ۔ ادھر چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد کچھ نہ کچھ برف پگھل رہی ہے ، حکومت نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو مکمل اختیارات دے دئیے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ملک بچانے ;200;ئے ہیں ملک بچانا ہے تو نا اہل حکمرانوں کومزیدایک دن بھی نہیں دیا جاسکتایکطرفہ احتساب نہیں چلے گا اورجسٹس فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپس لینا ہوگا ہم ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جو;200;ئین پاکستان کاعکاس ہو ، نا اہل حکومت خاءف ہے پوری قوم نے انکو مستردکردیاہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative