Home » کالم » سیاست نہیں کرکٹ
uzair-column

سیاست نہیں کرکٹ

uzair-column

ہمارے یہاں سیاست ایک ایساشعبہ ہے جس میں کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھل سکتی ہے مگراس کا نشہ اتنا برا ہے کہ جس کو ایک دفعہ لگ جائے تو وہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا چونکہ سیاست میں سیاسی قلابازیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس وقت کون سا سیاستدان کہاں چلا جائے ،کس کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہوجائیں ،انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد کس کی حمایت کرے ،مفادات اٹھانے کیلئے کس کا دامن تھام لے ،اس ہی کو سیاست کہتے ہیں ۔سیاست سے ہی ملتا جلتا ایک اورکھیل ہے وہ سیاسی کھیل نہیں کرکٹ کا کھیل ہے ۔کیونکہ کرکٹ میںبھی گگلی چلتی ہے اور گگلی کا پتہ نہیں چلتاکہ گیند کہاں سے کیسے گھوم کر وکٹ کو جا ٹکرائے پھر کبھی ان سوئنگ ہوتی ہے،کبھی آﺅٹ سوئنگ ہوتی ہے،کبھی یارکر ہوتا ہے ،کبھی باﺅنسر ہوتا ہے تو کبھی گیند سیدھی رہتی ہے ،کبھی وائڈ ہوجاتی ہے ،کبھی سنک ہوجاتی ہے ،کبھی کاٹ بیہائینڈ ہوجاتا ہے ،مطلب اورمقصد یہ ہے کہ کسی بھی آنیوالے بال کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ کھلاڑی آﺅٹ کرے گی،اس کو چوکا لگا،اس کو چھکا لگے گا ،یہ نو بال ہوجائے گی یا پھر وائڈ یا کھلاڑی اس کو کھیلتے وقت کیچ آﺅٹ ہوجائیگا۔اسی طرح سیاسی حالات ہیںکہ آنیوالے لمحے کے بارے میں سیاستدان کچھ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کس وقت اس کی اورکہاں پر پگڑی اچھل جائے ۔وہ بھی جذبات سے سیاسی میدان میں نعرے لگا لگا کر شور مچا رہا ہوتا ہے اور کھلاڑی بھی پچ پر کھڑا ہوکر پوری طاقت سے شارٹ کھیل رہا ہوتا ہے ۔یہ تو سیاست اورکرکٹ کا موازنہ ۔اب بات دراصل یہ ہے کہ کون کہاں کامیاب ہوتا ہے ،ابھی تک پاکستان کے حصے میں ایک ورلڈ کپ آیا ہے جو کہ 1992ءمیں جیتا گیا اور اس کا سہرا عمران خان سرجاتا ہے ۔بس اسی جیت نے کپتان کا دماغ خراب کردیا اور انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے گیارہ افراد کی ٹیم سے ورلڈ کپ کو جیت سکتے ہیںتو وہ کیوں نہ سیاست کی دنیا میں چھلانگ لگائیں اسی طرح وہ ملک کا انتظام وانصرام چلا سکتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ کرکٹ ٹیم کو چلانا اور ملک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ایک اچھا منیجر وہی ہوتا ہے جو اپنی زندگی کو مینج کرے اور پھر آگے نکلتا چلا جائے ۔بہرحال کپتان نے سیاست میں قدم رکھا پاکستان تحریک انصاف بنائی ۔خراماں خراماں سفر طے کرتے رہے پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کیا وہیں سے کپتان نے محسوس کیا کہ اب اس کے مقابلے کا اس ملک میں کوئی نہیں ۔بس پھر پی ٹی آئی کی ہوا چلی ،اس ٹرین میں لوگ سوار ہوتے چلے گئے ،جاوید ہاشمی جیسے بھی زیرک سیاستدان کپتان کے ساتھ مل گئے ۔مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ کپتان یہ جان لے کہ میں باغی ہوں اور پھر وہی ہوا کہ جاوید ہاشمی نے بغاوت کردی ۔عمران خان کو معاملات سمجھ نہ آئے اور وہ چلتے رہے ان کی پارٹی میں لوگ شامل ہوتے گئے ۔اس زوعم میں انہوں نے دھرنا بھی دیا ،طاہرالقادری کی جانب بھی قدم بڑھایا ،مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا ۔ایوانوں کا بائیکاٹ کیا ،استعفے دئیے ،این اے 122میں دھاندلی ثابت کرنے کیلئے اتنا شوروغوغا مچایا کہ وہاں پر آخر دوبارہ الیکشن ہوئے مگر پھر بھی منہ کی کھانا پڑی ۔شاید کپتان یہ سمجھ رہاتھا کہ یہ کوئی بھی ورلڈ کپ جیسا میچ ہے مگراس سیاسی وکٹ پر بڑے بڑے مہاپُرش کھلاڑیوں سے واسطہ پڑا انہوں نے عمران خان کو ایسی ایسی گگلی کرائی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ گیند کہاں سے گھوم کر کیسے آرہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ این اے 122میں انہیں باﺅنسر لگا تو غلط نہ ہوگا۔اب جہاں تک آزاد امیدواروں کی بلدیاتی انتخابات میں کامیابیوں کی کہانی ہے تو ان میں سے بھی اکثریت ن لیگ ہی کی طرف جارہی ہے ۔گو کہ عمران خان کرکٹ کی ٹیم کیلئے کامیاب کپتان ہوں گے لیکن سیاست کی پچ پر نوازشریف نے عمران خان کو باﺅنسر پر باﺅنسر مارے ،قدم قدم پر کلین بولڈ کرتے رہے ،ان سوئنگ کرا کر وکٹ کے پیچھے کیچ آﺅٹ بھی کیا ،ان سے چھکے بھی لگوائے مگر باﺅنڈری پر پھر کیچ کرلیا مقصد یہ ہے کہ پی ٹی آئی گراﺅنڈ کے اندر بھاگتی رہی ن لیگ نے اس کو خوب فیلڈنگ کرائی ،تھکا تھکا کر اتنا دوڑایا کہ آخرکار کپتان کو یہ تسلیم کرنا ہی پڑا کہ اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے ۔اس بیان کے بعد تو کم از کم کپتان کو یہ چاہیے تھا کہ وہ اس سیاسی دنیا کو خیرآباد کہہ دیتے کیونکہ یہ بھی جان لینا چاہیے تھا کہ وہ اس سیاست کیلئے ان فٹ ہیں ۔لہذا عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس سیاسی پچ کو خیر آباد کہہ دیں اوربہتر تو یہ ہے کہ دنیائے کرکٹ میں واپس جاکر نئے آنیوالے کھلاڑیوں کی کوچنگ کریں کیونکہ اس وقت کپتان کی عمر لگ بھگ 62سال کی ہوچکی ہے ۔2018ءکے ہونیوالے انتخابات میں وہ 65سال کے ہوجائیں گے اور جب 2023ءکے انتخابات ہوں گے تو وہ ستر سال کے ہوچکے ہوں گے ۔2018ءمیں تو ایسا کوئی چانس نظر نہیں آرہا کہ وزارت عظمیٰ کا تاج عمران خان کے سر پر سجے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مخلوط حکومت بنے اور اس مرتبہ وزارت عظمیٰ کا تاج شہباز شریف کے سر پر سجے ۔پنجاب کے حالات بھی کچھ اسی طرح ہونگے ۔2023ءمیں تو حالات پھر کچھ اور ہی فیصلہ کریں گے لہذا یا تو کپتان سیاست کو خیرآباد کہیں یا پھر 2018ءکے انتخابات میں کچھ وزن بنانا ہے تو کے پی کے پر جاکر بھرپور توجہ دیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative