Home » کالم » سیاست پرایک نظر

سیاست پرایک نظر

اس میں کوئی دوراے نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں جمہوری نظام ہائے حکومت میں سیاسی جماعتیں کلیدی اہمیت کی حامل قرار پاتی ہیں یہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر جمہوری ملک وقوم کے سیاسی طرزحکمرانی میں جمہوریت کی نشوونما سیاسی جماعتوں کی کلی کارکردگی اور سیاسی جماعتوں کی سینٹرل کمیٹی سے ابھرنے والی قیادت سے نتھی ہوتی ہے یہ ہمارالمیہ ہے کہ قیام پاکستان کے صرف نوبرس بعد اکتوبر1958 کوفوج کے کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کرنا پڑا یہ انتہائی اقدام فوجی سربراہ نے کیوں اْٹھایا یقینا یہ ایک غلط اور غیر جمہوری اقدام تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر کوئی یہ بتلائے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم شہید لیاقت علی خان کے بعد پیدا ہونے والا قیادت کا سیاسی خلاپْر کیوں نہیں ہوسکا;238; بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح;231; کے انتقال کے بعد سویلین بیوروکریسی نے کیسے اور کیونکر سیاسی حکمرانی کا رول پلے کرنا شروع کردیا;238; وزارت خزانہ کے سیکرٹری غلام محمد اور چودھری محمد علی اورمحمد علی بوگرا کے علاوہ وزارت دفاع سے ریٹا ئرڈ میجر جنرل اسکندرمرزا وغیرہ کیسے جنوبی ایشیا میں قائم ہونے والے ایک نئی ریاست کرتادھرتا بن گئے;238; جو نوبرس تک ملک کو سیاسی پارلیمانی جمہو ری پٹڑی پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئے، جس پر بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو نے ایک زور دار طنز کیا تھا جو آج بھی ہ میں یاد ہے نہرو نے کہا تھا کہ میں اتنی جلدی پاجامے نہیں بدلتا جتنے جلدی پاکستان میں وزیراعظم بدل جاتے ہیں افسوس! مسلم لیگ ایک منظم سیاسی جماعت نہ بن سکی تو پھر ملک میں مستحکم سیاسی قیادتیں کیسے ابھرتیں ;238; قائداعظم کے قول واقوال تواب صرف سننے سنانے کےلئے باقی رہ گئے ہیں قائداعظم اور قائدملت کے بعد جاگیردار مسلم لیگی لیڈر ایک دوسرے سے الجھ پڑے جبکہ مشرقی پاکستان کی مسلم لیگی لیڈرشپ کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ہی نہیں گیا مغربی پاکستان کی ہوشیار اور چالاک بیوروکریسی نے ملکی سیاسی قیادت کا جنازہ نکال دیا مگر اس ملک نے تو آگے چلنا تھا, اب معلوم ہوا کہ واقعی اگر قائداعظم سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے تھے;238; صحیح معلوم دیتی ہے اگر اْس وقت مسلم لیگ کے پاس ملک گیر مقبولیت کی حامل ایک بڑی ذمہ داراور دیانت دار سیاسی کیڈر موجود ہوتا جو ملکی اور قومی امنگوں کے منشور اور نظریات کے سیاسی‘ ثقافتی وجمہوری افکارسے لیس ہوتا ابتدا کی لیگی قیادت اْن کی خدمات سے استفادہ کرتی ایسا کیوں نہ ہوا;238;سیاسی اور جمہوری بالغ النظری کا فوری فیصلہ کرنے کا یہی وقت توتھا، جو اْس وقت کی لیگی قیادت نے گنوا دیا اور یوں اسکندرمرزا کے ایک جلدباز فیصلہ نے اس وقت کی فوج پر یہ ذمہ داری ڈال دی کہ وہ ملک کا انتظام وانصرام چلائے، امریکا میں بیٹھے ہوئے، برطانیہ میں براجمان ہمہ وقت فوج پر تنقید وتنقیص کے تیروتبر چلانے والی چاہے ڈاکٹرعائشہ صدیقی ہوں یا سرمد ماروی ایچ حقانی ہو یا ان جیسے کوئی اور وہ ملکی سیاسی تاریخی حقائق کو توڑمروڑ کر مسخ نہ کریں ، اس ملک کا نمک اْن کے لہو میں گردش کررہا ہے حد ہوتی ہے پاکستان دشمنوں کے مفادات کے خاطر سودے بازیاں کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی، امریکا میں بیٹھے ہوئے ایچ حقانی جیسوں نے چندہفتوں پیشتر غیرملکی میڈیا میں یہ گھسا پٹا راگ الاپنا شروع کیا ہے کہ پاکستان کی سویلین سیاست کو سب سے زیادہ نقصان پاکستانی فوج کے پہلے کمانڈرانچیف جنرل ایوب خان نے پہنچایا جنہیں قائداعظم بالکل پسند نہ کرتے تھے، یہ بہت بڑاجھوٹ ہے، کاش!ان سطور پر ہم وہ تصویر دکھا سکتے جب قیام پاکستان کے فوراً بعد ایک عسکری تقریب میں قائداعظم بحیثیت گورنرجنرل ایک پلاٹون کو قومی پرچم دے رہے ہیں اْن کے برابر ایک قدم پیچھے جنرل محمد ایوب خان کھڑے ہوئے ہیں قیام پاکستان سے قبل بحیثیت بریگیڈئیرایوب خان کی اے سی آر پر سوالات اْٹھانے والوں کے پاس کیا ثبوت ہے کہ اْن کی اے سی آر خراب تھی;238; بس صرف تنقید کرنی ہے سوکردی گئی;238; یہ جو سی آئی اے کا ایجنٹ ایچ حقانی ہے کاش اس کا باپ زندہ ہوتا تو یہ اْن سے پوچھ لیتا;238;مگر خفیہ ہاتھوں سے بے پناہ ملنے والی دولت اچھے خاصے آدمی کی حکمت کوداغدار کردیتی ہے اور اپنی ساری توانیاں منفی سرگرمیوں میں بسرکرنے پر رضامند ہوجاتا ہے ڈاکٹرعائشہ صدیقی اور سرمد ماروی نے نام نہاد روشن خیالی کے لبادے میں سماجی بے راہ روی کی جس گمراہی کا اپنے لئے انتخاب کیا ہے جلد یا بادیر خود ہی مکافات عمل کے خودتکنیکی انجام کو پاکستان مخالف یہ گروہ ضرور دیکھ لیں گے مرحوم جنرل ایوب خان نے اکتوبر 1958 میں سیاسی جماعتوں کے خلاکو بہت قریب سے دیکھا یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملک کو ہرقیمت پر آگے ضرور لیجانا ہے، یہی نہیں بلکہ اْنہوں نے پاکستان کے اْس وقت کے سیاسی سسٹم کے فلاپ ہونے کے اصل سبب کو پھانپ لیا تھا مثلاً اْنہوں نے بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو کے اْس ایک اہم تاریخی فیصلے کے مثبت نتاءج پر ٹھنڈے دل ودماغ سے جائزہ لیا ،جس میں نہرو نے بھارت بھرسے بڑے جاگیرداری سسٹم کو فی الفور ختم کردیا بھارت آج جس مضبوط جمہوری نظام پر قائم چلا آرہا ہے وہ وہاں کے ظالم وسفاک جاگیرداری کے نظام کے خاتمہ کی وجہ ہے1958 اکتوبر میں مارشل لا نافذہوا کوئی خون خرابہ نہیں ہوا ،اس وقت آئین بھی ملک میں نہیں تھا، ایسے میں کیسے نظام حکومت چلایا جاتا، جنرل ایوب خان کے چاروں اطراف میں جو مسلم لیگی طواف کررہے تھے وہ سب کے سب پنجاب سے لیکر سندھ تک بڑے بڑے جاگیردار تھے، جنرل ایوب خان نے پھربھی اپنی ہمت نہیں ہاری پہلے دوتین برس جنرل ایوب خان کو بھرپور عوامی مقبولیت حاصل رہی، آج ملک میں جو دوبڑے ڈیمز تربیلا اور منگلا ڈیم قائم ہوئے ہیں ، یہ جنرل ایوب خان کے زمانہ حکمرانی کے قیمتی تحفے ہیں ، پاکستان کو ہنگامی فیصلوں کے نتیجے میں جنرل ایوب خان مرحوم کے عہد میں صنعتی شعبہ میں اپنی نمایاں کارکردگی دکھانے کے مواقع میسر آئے، اور یادرہے کہ راقم ابتدا میں تسلیم کرچکا ہے کہ قو میں اورممالک جمہوری طرز حکمرانی کے درپے طرز عمل کی بدولت ہراقسام کی ترقی کرتی ہیں فوج کی جانب اپنی متعصبانہ تنگ نظری کی فرسودہ سوچ کو ہمہ وقت بڑھاوادینے والوں کے پاس کوئی جواب ہے کہ پاکستان کی گزشتہ چالیس پچاس سالہ سیاسی تاریخ میں کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت کانام بتادیں سوائے جماعت اسلامی کے’ راقم کے اس سیاسی کم جماعت کے بارے میں تحفظات اپنی جگہ’ جس سیاسی جماعت نے عوام کی جڑوں سے متوسط طبقے کے قدآورسیاست دان نمایاں کیئے ہوں ;238; مثلاً ذوالفقارعلی بھٹو بے شک ایک قدآور لیڈرتھے اْن جیسا اْن کے خونی رشتہ داروں کے علاوہ کوئی اور بڑا لیڈر کیوں نہیں آسکا;238; چلیں اْن کی بیٹی بے نظیر بھٹو میں اپنے باپ جیسی اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت وصلاحیت تھی اور بس اْن کے بعد کس نے پارٹی قیادت سنبھالی;238; مانیں تسلیم کرلیں کہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ نون سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں ان میں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کم مذہبی عنصر زیادہ رکھنے والی جماعت کہہ لیں یہ سب کے سب اپنے آباءواجداد کے نام اور اْن کی کارکردگیاں عوام میں فروخت کررہے ہیں کیا یہ قابل غور المیہ نہیں ہے یہاں صرف پاکستان کے پہلے مارشل لا پر بات ہورہی ہے مرحوم جنرل ایوب خان سے کئی غلط سیاسی فیصلے بھی ہوئے پھر تین مارشل لا اور ملک میں لگے غلط بالکل غلط لگے مگر کیا سیاسی جماعتوں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی متحد پاکستان کے دولخت ہونے کے تلخ تاریخی حقائق کو نظرانداز کردیا جاتا ہے اوریہ یادنہیں رکھاجاتا کہ جب سیاسی مفادات باہم ٹکراتے ہیں اور ہرفریق کے ذاتی پسندوناپسند کے مطالبات پر ضرب یازد پڑتی ہے تو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے بھی اور پارلیمنٹ کے باہر کے سیاسی پریشر گروہ باہم الجھ پڑتے ہیں ہاں مغرب میں ایسا ہوتا ہے مگر وہاں کے سیاست دان مطلق ان پڑھ نہیں ہوتے اکثریت اْن میں قانون دانوں کی یا قانونی موشگافیوں کی برابر سمجھ بوجھ ہوتی ہے وہ اپنے سیاسی یا پارلیمانی جھگڑوں کی کشمکش میں ہر قیمت پر دوسروں کو نیچا دکھانے کےلئے عوام کو ملک کی سڑکوں پر گھیراءو جلاءو پر نہیں اکساتے جیسا آج پاکستان میں ہورہا ہے یا ہونے جارہا ہے اکتوبر1958 سے اب تک پاکستان اسی صورتحال سے دنیا کو دوچار نظرآرہاہے پاکستان کا ایک واحد مسئلہ ملک میں قانون کی عدم بالادستی یعنی عوام کو انصاف کی عدم فراہمی کا سنگین مسئلہ قیام پاکستان سے آج تک درپیش ہے عدالتیں تو کسی نہ کسی صورت انصاف کردیتی ہیں اْس انصاف کے نتیجے میں بے گناہ آزاد ہوجاتے ہیں اور مجرمان کو سزائیں دینے والے ہی اگر مجرمان کے حماءتی بن جائیں تو عوام کہاں جائے;238; اسی لئے بعض اوقات عوام کی اکثریت سمجھتی ہے ملک کے جغرافیائی تنازعات،سرحدی خطرات اور اندرونی امن وامان پر اگر کوئی فورس بخوبی قابو پاسکتی ہے تو وہ صرف ملک کی فوج ہے بقول عوام کے’ملکی فوج کو اقتدار کے منابع سے الگ نہیں رہنا چاہیئے مگر اس کے باوجود آج کی پاکستانی فوج نے دوٹوک فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ملکی آئینی حدود سے ایک قدم آگے نہیں جائے گی پاکستان کے عوام اب سیاست دانوں پر اپنا پریشر بڑھائیں اپنے اسٹیڈی سرکلز قائم کریں پارلیمنٹ میں جانے والے معززارکان کےلئے تعلیمی قابلیت کے ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے علاوہ ملکی معیشتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے اہم پیشہ ورانہ امور پر دسترس حاصل ہونی چاہیئے، یہی ایک واحد راستہ باقی بچا ہے پاکستان میں جمہوری پارلیمانی سسٹم کو ترقی یافتہ اور متمدن جمہوری معاشروں سے ہم آہنگ کرنے کا راستہ، جس پر گامزن ہوکر پاکستان اور مزید جمہوری ملک بن کر خطہ میں اپنا علاقائی کردار ادا سکے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative