Home » کالم » سیاسی فریب اورجمہوری نظام

سیاسی فریب اورجمہوری نظام

جمہوری سیاست پر پاک فوج کا کنٹرول ہے یہ کنٹرول کل بھی تھا اور آج بھی ہے اصل میں یہ ایک سوچا سمجھا مذموم ‘نعرہ’ ہے جس میں حقیقتاً کوئی حقیقت نہیں ہے، ملکی جمہوری سیاست نے اس’نعرے’یا یوں کہہ لیں کہ’سیاسی مفروضہ’کی آڑمیں اپنی سیاسی ذمہ داریوں سے فرارکا راستہ تلاش کرنے کے حیلے عذر اور بہانے تراشے ہوئے ہیں جب عوام کا اپنے جمہوری حکام پر اپنے انسانی حقوق کا پریشربڑ ھتا ہے جوان کا بنیادی حق ہے انہیں گزشتہ چالیس برس میں کسی جمہوری عہد میں میسر نہیں آیا چاہے وہ عہد کسی فوجی آمر کا عہد ہی کیوں نہ ہو 10-15 برس گزر گئے ایوان اقتدارتک پہنچنے والے ہر سابق حکمرانوں نے گڈ گورننس کے فوائد عوام کی دہلیزتک پہنچانے میں بہت بری کارکردگی دکھائی یہی نہیں بلکہ عوام کو تشفی وشافی امن وامان تک نہ دے سکے’ روزگار’ پانی’ بجلی اورصحت کی ضروریات اپنے الیکشن وعدوں کے مطابق عوام کے دروازوں تک پہنچانے میں ناکام رہے عدل کے نظام اور تھانہ کچہری کلچرمیں بہتری کے ساتھ تیزی لانے میں یہ سب ناکام ہوئے تو ظاہرہے عوام جواب طلب کرنے لگتے ہیں جو حکمرانوں کے پاس ہوتا نہیں ہے توپھر بہا نوں کی آڑ میں یہ باورکرایا جاتا ہے انہیں توحکومت کرنے ہی نہیں دی گئی اصل اقتداران کے پاس تھا ہی نہیں اقتدارتو راولپنڈی کے پاس تھا؟ ‘اول تو یہ بتایا جا نا چاہیے کہ اصل اور عارضی اقتدارکیاہوتا ہے ؟ اقتدار اقتدار ہوتا ہے ا گرالیکشن کے نتیجے میں اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو مکمل اقتدار کبھی ملا ہی نہیں توہر بار جیتنے کے بعد پانچ برس تک یہ سیاسی جماعتیں ایوان اقتدارمیں کیوں بیٹھی رہتی ہیں؟ حکومتی مراعات کو چھوڑ چھاڑ کے عوام کے پاس کیوں نہیں آجاتیں یہ کیا ہوا کہ پانچ برس لگاتار اقتدار کے مزے بھی لو ٹے جائیں جب جوابدہی کا مرحلہ آئے توکہہ دیں ‘ہمارے پاس تواصل اقتدارتھا ہی نہیں’واہ جناب واہ ! یہ خوب ہوئی’ ملک کی سیاست پر فوج کا کنٹرول ہے یہ کنٹرول کل بھی تھا آج بھی ہے’ یہ مذموم ‘نعرہ’ یہ ‘سیاسی مفروضہ’ بھارت میں اگر آج گونج رہا ہے یہ کہانتیں کسی اور نے نہیں گھڑیں صاحبو! وفاق میں یکے بعد دیگر ڈٹ کر جم کر حکومتیں کرنے والے سابق حکمرانوں نے اپنے آپ کو اب کیا کہیں ‘تماشا’بنانے کیلئے کیسی سازشیں کرکے دوڈھائی برس قبل یہ فضول کی دہائی گھڑیں تھیں جو ایک انگریزی اخبارمیں شائع ہوئی تھی جس کا باقاعدہ کیس ملک کی معززعدالت میں زیرسماعت ہے دنیا کی ہر ملک کی طرح پاکستانی فوج اپنے فرائض سے غافل نہیں اسے ایسے ہر واقعہ پر نظررکھنی پڑتی ہے جیسے چند برس پیشترامریکی جاسوسوں کے گروپ کا اسلام آباد میں آنا’ بلیک واٹرکے سفاک ایجنٹوں کی پاکستان میں آمد کا معاملہ’ریمنڈ ڈیوس اپیسوڈ’ میمو گیٹ سکنڈل یہ معاملات معمولی نہ تھے پاکستانی فوج اپنی پیشہ ورانہ آئینی ذمہ داریوں سے کیسے کیونکر لاتعلق رہ سکتی ہے ۔گزشتہ دس برس کے دوران اگرپاکستانی فوج نے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے متعلق معاملات پر گردپڑنے سے خود کو بری الزمہ قراردینے کیلئے کبھی کبھار کوئی ادارہ جاتی صفائی پیش کی تو پاکستان کی سوالیہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونے کی باتیں سوالیہ جمہوریت سے راقم کی مراد یہ کہ ہمارا جمہوری نظام عوامی جڑوں کو جمہوری فوائد سے سیراب آخر کب کرئے گا؟فوج نے ملکی سیاست سے اپنے آپ کوعلیحدہ کرکے اپنے فرائض تک خود کو محدود کیا ہوا ہے تو پھر جمہوریت کے نام پر جمہوری ثمرات پر دن دیہاڑے لوٹ مارکا بازار گرم کیوں ہے ملک کے اندرریاستی پیمانے پر بڑھتی ہوئی کرپشن سے ملکی سلامتی داو پر جالگتی ہے لہٰذا ہر آئینی ادارے میں کرپشن ختم ہونی چاہیئے یا نہیں؟ اوپرسے اگر کوئی پوچھ لے کہ متذکرہ انگریزی اخبارمیں شائع ہونے والی اسٹوری کیا تھی؟اتنی سی بات برداشت نہیں ملکی فوج ہو یا اعلیٰ عدلیہ یہ دواہم آئینی ادارے اپنی مقننہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ملک کو آئین اور قانون کے دائرے میں قانونی اتھارٹیز کو بروئے کار لاکر چلایا جائے، ملک کے معاشی واقتصادی نظام میں کسی کو کرپشن نہ کرنے دی جائے سیاست کو عوام کی قرارواقعی خدمت کے مترادف سمجھا جائے ،ملکی اعلیٰ عدالتوں میں سابقہ حکمران طبقہ کو اپنی صفائی کیلئے جب کچھ نہ ملا تو کہہ دیا گیا کہ ‘یہ سب کیا دھرا خلائی مخلوق کاکام ہے’آج کل پڑوسی ملک بھارت میں جو کہا جارہا ہے کہ ‘پاکستان کی سیاست پر فوج کا کنٹرول ہے فوج کا یہ کنٹرول کل بھی تھا آج بھی ہے’سابق حکمرانوں کی زبانوں سے نکلے ہوئے یہ آتشیں متعصبانہ جملے جو آرایس ایس اوربی جے پی والے اگلا انتخاب جیتنے کیلئے اپنے انتخابی نعروں میں استعمال کرنے لگے ہیں قارئین کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ مقام افسوس نہیں ہے کون نہیں جانتا ملک میں عرصہ سے دوپارٹی سسٹم تھا دونوں پارٹیاں’ڈیلیور’کرنے میں ناکام ہوئیں، ایک جماعت نے پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب کی’جمہوری پگ ‘ اپنے سرباندھ لیا ادھرسندھ میں’سندھی ٹوپی’پہن کر ‘مردوں’ کو ‘زندہ ہے’ کے نعروں کا فریب دیاجاتا ہے آخر کب تک یہ تماشا چلنا تھا یا سندھ میں چلے گا ؟ عوام نے آخرزندہ تو رہنا ہے اور ‘فریب’بلاآخر ‘ فریب ہی ہوتاہے کب تک سیاسی فریب کاری کا جمہوری کاروبار چلتا رہے گا ؟ 25جولائی 2018 کے عام انتخابات میں باشعور پاکستانیوں میں تبدیلی کی امنگ جاگی وہ فکری ونظری اعتبار سے بیدار ہوئے دونوں فرسودہ جماعتوں کی بجائے اس بار پاکستان کے عوام کی ایک بڑی اکثریت نے وفاق میں ایوانِ اقتدار تک پہنچنے والی نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا، ملک کے بڑے صوبہ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوگئی عوام کی اکثریت کے نئے مینڈیٹ کو دنیا بھرکی مہذب اور متمدن جمہوری ریاستوں نے کھلے دلوں سے تسلیم کرلیا ملک میں تیزی سے پنپتی جمہوریت کا یہ نیا رخ مسلم دشمن عالمی طاقتوں کوہضم نہیں ہورہا خاص کر نئی دہلی کی نیندیں اڑگئی ہیں مئی اپریل2019میں بھارت میں’عام چناؤ ہو نے جارہے ہیں بی جے پی کے پاس دیش کے واجبی تعلیم یافتہ و نیم خواندہ یا سیاسی شعوری و آگہی سے تہی دست ہندوجنونیوں کے ووٹوں کی اکثریت کوایک بار پھراپنی جانب راغب کرنے انہیں مرعوب کرنے انہیں متوجہ کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی دلکش اورفریب زدہ آپشن نہیں رہا کوئی ‘الیکشن سودا’ بھی ان کے پاس نہیں رہا تو اچانک سے ‘پاکستانی جمہوریت کی کمزوریوں’ یا لاچارگیوں کی نئی تک بندیوں کا نیا راگ الا پنے کا وہاں شور سنا جانے لگا ہے پاکستان کے سابقہ حکمرانوں کے نام لے کر دہائیاں د ینے کی تیاریاں ہیں، پاکستانی فوج کی طرف انگشت نمائیاں کی جائیں گی کہ پاکستانی فوج سیاسی جمہوری سسٹم میں دخل اندازی کرتی ہے یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ پاکستان کے سیاستدان کہہ رہے ہیں کاش! ہمارے کل کے ناکام سیاست دان بولنے سے قبل سوچ لیتے تو یہ ان کیلئے اور ملک کیلئے بہترہوتا۔

About Admin

Google Analytics Alternative