Home » کالم » سیاسی مفادات

سیاسی مفادات

سیاستدان چونکہ براہ راست عوام کے نمائندہ ہونے کے دعویدار ہیں اس لیے و ہ عوامی تنقید کا بھی براہ راست نشانہ بنتے ہیں ۔ خادم ہونے کے دعویدار جب بادشاہانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں تو ان پر تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تاکہ انہیں یاد دلا یا جا سکے کہ ماضی میں انہوں نے خادم ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دعویٰ تو خادم ہونے کا کرے اور عمل بادشاہوں والے کرے ۔ جب منتخب لوگ عوام سے بھائی ہونے کا دعویٰ کر کے ووٹ لیتے ہیں تو پھر وہ عوامی نمائندہ ہونے اور اس پر فخر کرتے اچھے نہیں لگتے ۔ بھائی تو بھائی ہوتے ہیں اور انہیں بحیثیت بھائی ووٹ دئیے گئے تھے تو وہ عوامی نمائیندہ ہونے کے دعویٰ میں ہی جھوٹے ہیں اور اس جھوٹ کی اور کذب دھوکہ دہی کی وجہ سے آئین کی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نا اہل قرار دئیے جانے چاہئیں ۔ بات مخالفت برائے مخالفت کی نہیں بلکہ راستگی کی طرف اشارہ کرنے سے متعلق ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکن اگر اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری میں برداشت کریں تو یہ ان کی وفا کا امتحان بھی ہے ۔ اگر دوسری پارٹیوں کے ووٹر مخالفت کریں تو یہ ان کا استحقاق ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں اپوزیشن یہی کردار ادا کرتی رہی تھی ۔ ماضی اور حال کو مستقبل سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ جو بو گئے وہ کاٹو گے ۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے کارکن اگر تحریک انصاف کے کارکنوں سے بحث کر رہے ہوتے ہیں یا انہیں طنز کر رہے ہوتے تو وہ وہی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کے کارکن ادا کر چکے ہیں ۔ اس پر سیخ پا ہونے یا غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دماغ اور دل سے سوچنا چاہیے کہ سیاسی کارکن کا کردار کیا بس یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑے رکھے یا اپنی جماعت کی خاطر مخالف نظریہ کی جماعت کے کارکنوں کیلئے زندگی کا دائرہ کم کرتا رہے ۔ نہ تو یہ مہذب معاشرہ کے رکن کا کردار ہے اور نہ ہی کسی طرح بھی معاشرہ کیلئے سود مند کردار ہے ۔ چونکہ ہماری لیڈر شپ کو اقتدار کے حصول کیلئے اپنی کوشش کو کامیاب بنانا ہوتا ہے اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اپنے کارکنوں کو جذباتی طور ابھاررکھیں تاکہ وہ ہر حال میں ان کے ساتھ وفاداری نبھائیں ۔ وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم کس کی تقلید کررہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو ہم اپنا لیڈر مان کر اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں اور اپنا حال اور مستقبل اس کے سپر د کر رہے ہیں خود اس کا ماضی کیسا ہے ۔ لیڈر کا ماضی اس کے معاشرے کا مستقبل بن سکتا ہے ۔ جو لیڈر کم تعلیم یافتہ اور باتوں کا دہنی ہے وہ کیا مستقبل میں اس پر وحی نازل ہونا شروع ہو جائے گی کہ وہ راست فیصلے کر سکے گا ۔ ویلسا پولینڈ کا مزدور لیڈر تھا اس نے پولینڈ کی مزدور یونین کے لیڈر سے قومی لیڈر کی منازل طے کیں ۔ وہ بہت اچھا احتجاجی لیڈر تھا لیکن اس معاشرے کی درست سمت میں راہنمائی کیلئے ضروری صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ ناکام ہو گیا اور وہی احتجاج اس کے خلاف شروع ہوا جو وہ دوسروں کے خلاف کیا کرتا تھا ۔ غیرت مند تھا مستعفی ہو کر واپس اپنی جگہ پر آگیا ۔ نیلسن مینڈیلا نے سیاہ فام لوگوں کے حقوق کیلئے احتجاج کیا اور پھر اس مقصد کی خاطر ایک طویل قید بھی کاٹی ۔ قوم کی راہنمائی کا وقت آیا تو اس میں ناکام ہو کر واپس ہو گیا ۔ احتجاج کرنا کوئی آسان کا م نہیں کہ فرعون کے دربار میں کلمہ حق کہنے کی سعادت موسی ;174; کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوئی ۔ زبردست کے سامنے زیر دست نہ ہونے والے معمولی لوگ نہیں ہوتے لیکن کسی بھی معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کا کردار ادا کرنا کچھ اور معنی رکھتا ہے ۔ میں اپنے بابائے قوم جناب حضرت قائد اعظم کی مثا ل پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے احتجاجی سیاست نہیں کی بلکہ قوم کی راہنمائی کی ، قائد اعظم حقیقی معنوں میں قومی راہنما ہیں جنہوں نے قوم اورمعاشرے کی صحیح سمت میں راہنمائی کر کے انہیں منزل شناس کیا ۔ چیئرمین ماءوزے تنگ قومی راہنما ہیں کہ ایک افیون زدہ قوم کو کھڑا کرکے منزل کی طرف رواں دواں کیا ۔ حقوق کی جنگ لڑنا اور بات ہے اور کسی قوم کو حقیقی معنوں میں قوم بنا کر یکجا کر کے ایک سمت میں لے جانا اور بات ہے ۔ سیاسی رہنما کسی ایک نکتہ پر احتجاج کی راہ اپنا کر یا اس کو اپنا موقف بنا کر کسی گروہ کے نمائندہ بن جاتے ہیں ۔ وہ اسی گروہ کے مقاصد کو آگے لے کر چلتے ہیں ۔ انہیں معاشرے کے دیگر گروہوں سے کوئی خاص لگاءو نہیں ہوتا ۔ وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ دوسرا گروہ ان کے مقاصد کے حصول میں ممدد ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ وقتی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اجتماعی شراکت داری کے اصول کے تحت چل پڑتے ہیں ۔ جہاں انہیں اپنے مقصد میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے تو فورا اپنے ساتھی شراکت دار کو دھمکی دیتے ہیں کہ وہ ان کے مقصد کی طرف توجہ دے یا اس کی حمایت میں بھی بولے ورنہ وہ اس سے علیحدگی اختیار کر نے لگے ہیں ۔ یہ ہماری سیاست میں کولیشن پارٹنر شپ تقریباً ہر سیاسی گروپ کرتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے دوسرے گروپوں کو اپنی عددی طاقت سے سپورٹ مہیا کرتا ہے ۔ مذہبی گروہ اور لبرل سیکولر گروہ تک ایک دوسرے کو اپنی عددی طاقت سے حکومت سازی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پریشر گروپ کی صورت میں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کیلئے گروہ بندی کر کے کسی بڑے گروپ کو توڑا یاکسی کمزور گروپ کی عددی طاقت کو اس سے تقویت دیکر طاقتور گروپ سے عددی اکثریت چھین لی جاتی ہے ۔ معاشرہ کے پچاس فیصد گروہوں کے نمائندے گر خدمت کے جذبہ سے کام کریں تو وہ معاشرہ کچھ ہی عرصہ میں فلاح وبہبود کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے ۔ اس کے ترقی تیز رفتار نہیں ہوتی لیکن وہ معقولیت کے ساتھ اگے بڑھنے لگتا ہے ۔ جس معاشرے کی انتظامیہ ہی لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کا استعمال ذاتی اور گروہی مقاصد کیلئے کرے تو وہ ذات اور گروہ طاقتور ہو کر یکجہتی کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ۔ سیاستدان جب بھی بات کرتے ہیں تو کسی کو جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کرنی ہوتی ہے تو کوئی اردو سپیکنگ کا نمائندہ ہے تو کسی کو سندھی ہونے پر فخر ہے تو کوئی قوم پرست لیڈر بن کر قومی سیاست میں بلیک میلنگ کا کردار ادا کر کے مطمئن ہے ۔ ہمارے رہنماءوں نے 65کی جنگ میں ایک قوم بنے معاشرہ کو اپنے مقاصد کیلئے گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہم سینتالیس میں ایک قوم تھے پھر بکھر گئے ۔ پینسٹھ میں ایک قوم ہوئے پھر بکھیر دئیے گئے ۔ اس کے بعد ہم آج تک کبھی قومی لڑی میں پروے نہیں جا سکے ۔ بیشک کہنے اور کہلانے کو ہم پاکستانی ہیں لیکن ہم بنتے نہیں ہیں ۔ جیسے ہم کہنے اور کہلانے کو کلمہ گو مسلمان تو ہیں لیکن عملاً ہم مسلمان ہونے کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ جیسے ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضور پاک ﷺ کے سچے عاشق اور ان کے غلام ہیں لیکن جب کردار ادا کرنے کی باری آئی تو سب نے دیکھا کہ ہمارا عشق اور غلامی کا دعویٰ بس زبانی تھا ۔ ہم صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے پاکستانی کہلاتے ہیں ۔ ہم جائیداد بنانے اور اس کے وارث کہلانے کیلئے پاکستانی بنتے ہیں ورنہ جس کا دا لگتا ہے وہ گرین کارڈ لے کر پاکستان کو یوں خیر آباد کہتا ہے جیسے جیل سے روبکار آنے پر قیدی رہا ہو کر بھاگتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative