Home » کالم » سیاسی وعسکری قیادت کی ایک ہی سوچ

سیاسی وعسکری قیادت کی ایک ہی سوچ

ہردلعزیزسیاسی قائد محترم عمران خان نے پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کا جب منصب سنبھالا تو اْنہوں نے وزیراعظم کا حلف اْٹھانے کےلئے منعقدہ اہم تاریخی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے اپنے ماضی کے انڈین کرکٹر دوستوں میں سے سنیل گواسکر،کیپل دیو اور نجوت سنگھ سدھوکو خصوصی طور پراسلام آباد آنے کی دعوت دی سنیل گواسکر اور کیپل دیو اپنی نجی مصروفیات کی باعث اس تقریب میں گو شرکت نہ کرسکے اْنہوں نے اپنا تہنیتی پیغام عمران خان کو پہنچا دیا جبکہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی اور ثقافتی امور کے ریاستی وزیرنجوت سنگھ سدھو لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستہ عمران خان کی دعوت پر دو روز کےلئے پاکستان تشریف لائے لاہور واگہ بارڈر پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے نجوت سنگھ جی کا پْرتپاک استقبال کیا یقینا نجوت سنگھ جی کی زندگی کا یہ دورہ پاکستان اپنی زندگی میں وہ خود کبھی نہ بھلا سکیں گے اسلام آباد میں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی روداد کوہم کیا دہرائیں کیونکہ سبھی باخبر اورخوب آگاہ ہیں کہ ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس اہم رنگارنگ تقریب میں پل پھر میں یکایک ایک موقع بھارت اور دنیا بھر میں آباد کروڑوں سکھوں کےلئے ایک ایسے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند آیا جسے سکھ دنیا اپنی زندگیوں کے لمحات میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی اس سنہری اور یادگار موقع کو ہم کیا نام دیں جن لمحوں میں پاکستان کی عسکری قیادت سمیت نئی منتخب ہونے والی جمہوری قیادت نے سکھ دنیا کے ہر ایک فرد کے انسانی جذبات کوبیش بہا قیمتی موتیوں میں یوں سمجھیں لادھ دیا اور ہم نے بغور دیکھا کہ اس موقع پر جب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے عالمی شہرت یافتہ انڈین سابق کرکٹراورسیاست دان نجوت سنگھ سدھو بغگیر ہورہا تھا تو جوکچھ بھی جنرل باجوہ نے سدھو جی کے کان میں سرگوشی کی تو خوشی سے اْس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اْس کے کانوں میں یکایک سریلی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگی ہونگی گھنٹیوں کی اْن اوازوں میں بابا گورونانک صاحب کے یہ بول اْسے صاف سنائی دے رہے ہونگے سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب نے اپنے پیرو کاروں کو انسانیت کی بقا اور تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے تبلیغ کرتے ہوئے کبھی یہ کہا تھا کہ ‘‘ جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں ، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا’’سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب کے انسانیت پرور اس قول میں اْن کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے ہر فرد کےلئے یہ بڑا اہم سبق پوشیدہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے دنیا میں اْس کا نام اوراْس کا کام باقی رہے گا جس نے دنیا کے انسانوں کے لئے بلا کسی امتیازی سلوک اور بلارنگ ونسل اور ذات پات سے ماورا اور بالاتر ہوکر اْن کےلئے آسانیاں فراہم کیں اور اْن کی دنیا میں رہنمائی کا انسانی فریضہ ادا کیا وہ ہی باقی رہے گا اور گمراہی خود بخود ہر صورت تاریکی اور اندھیرے کی کھائیوں میں کہیں گم ہوجائے گی، بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں سکھ روایات کے مطابق ایسے معجزنما واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوا کہ باباگورو نانک صاحب کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے بابا صاحب کے سوانح نگاروں کے مطابق، کم عمری ہی سے بابا صاحب اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے پانچ برس کی عمر میں گورونانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں ایک روایت کے مطابق کم سنی میں ہی گورونانک صاحب جب کہیں کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تو اْنہیں تیز دھوپ سے بچانے کےلئے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ایک زہریلا ناگ اْن کے سرپر سایہ کیئے رہتا تھا بابا گورو نانک کو زمانے کا عظیم ترین موجد قرار دیا جاتا ہے بابا گورونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب موجودہ پاکستان کے شہر میں 15 اپریل 1469 میں ہوئی اور اْن کی وفات22 ستمبر1539 میں پنجاب کے شہرنارووال کے نزدیکی گاوں کرتارپورہ میں ہوئی بابا گورونانک صاحب سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گوروں میں سے پہلے گروتھے ان کا یوم پیدائش گرونانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک یعنی اکتوبر ۔ نومبر میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے بابا گورونانک صاحب نے سکھ مت کے روحانی سماجی اور سیاسی نظام کر ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اور حسن سیرت پر استوار ہے بابا گورونانک صاحب سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں بڑی عزت واحترام کی حامل مذہبی شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں بابا گوروناک صاحب کی الہامی تعلیمات میں انسانیت کے احترام کو اولین مقام دیا گیا ہے آفاقی مذاہب کے علم پر دسترس رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ سکھ مت توحیدی مذہب ہے اور وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ہندوازم میں جسے اب عرف عام میں ہندوتوا کہا جاتا ہے اس دھرم میں خداءوں اور اوتاروں کی کوئی تعداد ہی نہیں ہے لہٰذا یہی وجوہ ہے کہ سکھ مت کو ہندوازم سے ملایا نہیں جاسکتا ابتدا میں جیسے کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لئے ماہ اگست غیرت مند خوشیوں اور پْرجوش والہانہ ایمانی مسرتوں کا اہم مہینہ ہے اب سے بہتربرس قبل 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی ایماندارانہ قیادت میں ایک آ زاد وخود مختار ریاست پاکستان حاصل کیا تھا چارجون کے مشہور لندن پلان کے تحت تقسیم ہند جب عمل میں لائی گئی تو پنجاب کی تحصیل شکرگڑھ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے جغرافیہ میں آگیا تحصیل شکر گڑھ میں ہی کرتارپورہ میں سکھوں کے روحانی پیشوا باباصاحب گورونانک کا سفید چاند کی مانند چمکتا ہوا مزار ہے، جیسے گرودوارہ کرتارپور کے نام سے دنیا جاننے لگی ہے، کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت 1920 سے 1929 کے درمیان 1;44#44;600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا ۔ اسی مناسبت سے اسے ;39;سری کْھو صاحب;39; کہا جاتا ہے کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا ۔ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بہت تیز رفتاری سے تعمیراتی امور کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ قارئین کو ہم یہ بتادیں کہ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا تعمیراتی کام اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا اور مقررہ مدت تک منصوبے کی تکمیل کےلئے چھوٹ بڑے کنٹریکڑوں کو ملاکرستر سے زائد کمپنیاں ایف ڈبلیواو کے ساتھ مل کر مصرف عمل ہیں کرتارپورزیروپوائنٹ سے لے کر شکرگڑھ روڈ تک سڑک مکمل کردی گئی ہے ۔ دربار صاحب میں داخلہ کےلئے دواطراف گیٹ اور تالاب مکمل کردئیے گئے ہیں لنگرخانہ،مہمان ہال،درشن استھان، ایڈمن بلاک،رہائش گاہوں اور ٹوائلٹس سمیت دیگر عمارتوں کا نوے فی صد بلڈنگ ورک مکمل ہوچکا ہے ماربل گرناءٹ لگانے کے ساتھ ساتھ دروازے، کھڑکیاں ، الیکٹرک ورک، سیوریج، واٹر پلائی اور پلمبنگ کاکام کیا گیا ہے احاطہ دربار صاحب کے سولہ میں سے بارہ پینلز میں آرسی سی کنکریٹ ڈال دیا گیا ہے تمام تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ کمپلیکس دربار،پارکنگ، سڑک اور بارڈرٹرمینل کے اردگردلینڈاسیکپنگ اور خوبصورت پودے لگانے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دوسری جانب بے حد بے رخی کی افسوس ناک صورتحال سے کون واقف نہیں دنیا کل تک شاکی تھی کہ پاکستان میں وہ وقت نجانے کب آئے گا جب اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سوچ کے تابع ہوگی مطلب یہ کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی اس خطے میں امن کےلئے بھارت سے امن بات چیت کے خواہشمند ہونگے اب جبکہ وہ وقت آگیا لیکن بھارت کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے تاحال نہیں ملے مودی سرکار نے تو خطہ میں امن کی جڑبیخ ہی اکھاڑ پھینکی ہے جس کی چرچا آجکل بھارت کی لوک سبھا میں ہرکوئی سن سکتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative