Home » کالم » سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانا رامتلائی خستہ حالی کاشکار

سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانا رامتلائی خستہ حالی کاشکار

ماضی کے ادوار میں تعمیراتی کام بھی ہوئے اور شہر آباد کئے گئے جہا ں ترقی وخوشحالی کی زندگیاں بسر ہوتی رہیں اورشہری وقصبات کو خوبصورت پروگرامز پر آج کے جدید دور میں بھی جاری ہیں اور اربوں شہری روزانہ کی بنیاد پر ان میں شریک ہوکر اہم کردارادا کرتے ہیں اور ماضی کے ادوار یادگارہیں دیکھ بھال نہ ہونے سے تباہی وبدحالی کاشکار ہیں اور حکومتی سطح پر اقدامات نہ ہونے کے براب رہیں ، پاکستان کا تصور پیش کرنے والے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے شہر میں ایک صدی سے زائد عرصہ پرانا رامتلائی خستہ حالی کاشکار ہے ، ماضی میں ہندو یہاں دیوالی اور دیگر تقریبات منعقد کرتے رہے لیکن چالیس سالوں سے اس کی دیکھ بھال نہ کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ تباہ ہوچکا ہے اوریہاں کھیلوں کے مقابلے بھی نہیں ہوتے ہیں ،جمیل امجد شیخ کے مطابق ماضی کی یادگارہیں نسل میں پرانی یادو ں کو زندہ رکھتی ہیں اور اس سے ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے بھرپور جذبہ انسان میں پیدا ہوتا ہے جس سے شاندار اسلامی ملک قائم ہوگا ، لیکن اب جدید دور میں ماضی کے اہم مقامات کی جانب کسی کی کوئی توجہ نہ ہے جس کی وجہ سے یہ مزید تباہی کا شکار ہیں اور اگر فوری تعمیرومرمت کی طرف توجہ نہ دی گئی تو برصغیر پاک وہند کے ادوار کی تاریخی یادگارہیں مکمل طور پر ختم ہوجائیں گی اور ماضی کا حصہ رہیں گی حالانکہ ان یادگاروں پر ریسرچ کی مدد سے ماضی کی یادگارباتیں سامنے آجائیں گی جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہوگا، پرانا رامتلائی تاریخی اہمیت کا حا مل ہے لیکن اس کی دیکھ بھال نہیں کی گئی جس کی وجہ سے شہری اس کی تاریخی اہمیت کو بھی بھول چکے ہیں اور ان کی خستہ حالتیں انہیں مکمل تباہ کردیں گی ، پرانا رامتلائی کی خستہ حالی کی ذمہ دار حکومت اورانتظامیہ کی ذمہ داری ہے جس نے ا س کی دیکھ بھال وحفاظت کیلئے کوئی پروگرام نہیں بنایا بلکہ اسے لاوارث چھوڑ دیا جہاں گندہ پانی بھی کھڑا رہتا ہے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور پرانا رامتلائی تاریخی کی بجائے گندہ ترین تصور ہوتا ہے ،شہری محمد علی کے مطابق ماضی کی یادگاروں کی حفاظت انتظامیہ کی ہے لیکن ان یادگاروں کی طرف دھیان نہیں دیا جاتا اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال سرکاری سطح پر ہوتی ہے اسی وجہ سے ماضی میں ہندوءوں کی دیوالیوں ودیگر تقریبات کا اہم ترین مقام بدحالی کاشکار ہے اور اگر اس جانب حکومت نے فوری توجہ نہ دی تو اہم معلومات والا رامتلائی دوسرے رخ روانہ ہوجائے اور آئندہ آنے والی نسلیں اہم معلومات سے محروم رہیں گی ،ڈسٹرکٹ آفیسرمحکمہ زکواۃ ذوالفقار علی پڈانہ کے مطابق زندگی کا ہر شعبہ انتہائی کامالک ہے اور ماضی کے ادوار کے اہم مقامات کی دیکھ بھال اور اس پر ریسرچ ترقی کے عمل کو تیزکردے گی اور اہم معلومات ہی کامیاب زندگی کے اصول ہیں اس لئے حکومت کو اس جانب توجہ دے کر ماضی کے اہم مقامات کی حفاظت اور ان پر ریسرچ کا عمل شروع کرے تاکہ ترقی ہوسکے ،اور ایسا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ دنیا بھر میں ماضی کے مقامات کو اہمیت دے کرعوامی نگاہ کے سامنے لایا جاتا ہے اور یہی عمل نئی نسل میں خوشی وجذبہ پیدا کرتا ہے ، سماجی کارکن کاشف بٹ کے مطابق ماضی کو یاد نہ رکھنے کے حوالے سے کی جانے والی سازشوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور ماضی کی تاریخی عمارات ومقامات کی حفاظت ودیکھ بھال کی جائے اوراسے اہمیت جاننے کیلئے آنے والے شہریوں کیلئے بہترین عمل بنائیں وگرنہ ان اہم عمارتوں ومقامات کے ضائع ہوجانے سے نقصان پاکستانی نسل کو ہوتا جس سے ملک وقوم کے ذہن کو نقصان پہنچے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative