Home » کالم » سینیٹ میں حکومت کی فتح اور اپوزیشن کا بے معنی واویلا
adaria

سینیٹ میں حکومت کی فتح اور اپوزیشن کا بے معنی واویلا

سینیٹ میں حکومت کو فتح حاصل ہونے کے بعد اپوزیشن کو اپنی حیثیت کا علم ہو جانا چاہیے، تحریک عدم اعتماد لانا جمہوریت کا حسن ہے مگر نتاءج کو بھی تسلیم کرنا جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے ۔ المیہ یہ ہے ہمارے ملک میں جو جیت جائے اس کیلئے نتاءج درست اور جو ہار جائے وہ دھاندلی کا الزام عائد کردیتا ہے ۔ اب اپوزیشن نے سینیٹ نتاءج کو ماننے سے انکار اور اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ن لیگ نے ایک اورتحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیدیا ۔ تحریک عدم اعتماد نہ ہوئی یہ کوئی میوزیکل چیئر کا کھیل ہوگیا ۔ حکومت کی فتح کو تسلیم کرنا چاہیے اور ایوان کو جمہوری انداز میں چلانا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں وقت گزرتا جائے اور کوئی مثبت قانون سازی نہ ہوسکے ۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومتی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی، چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کی کامیابی کےلئے مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہیں مل سکے، سینٹ کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینٹ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر رائے شماری ہوئی، ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی گئی، جماعت اسلامی کے دو ارکان سراج الحق اور مشتاق احمد نے ووٹ نہیں ڈالا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر چوہدری تنویر خان علاج کےلئے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں ۔ پریذائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف نے ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کیا کہ آئین کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 ووٹ پڑے جس کی وجہ سے یہ قرارداد ارکان کی نصف تعداد سے زائد ووٹ نہ حاصل ہونے کی وجہ مسترد ہو گئی ہے، تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے جبکہ 5 ووٹ مسترد ہو گئے، کامیابی کیلئے 55 ووٹ درکار تھے، چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور حکومتی ارکان کی جانب سے ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگائے گئے، اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا کے بھی خلاف حکومت کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی،سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد سینیٹ کے ارکان کی مجموعی تعداد سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی، پرایذاءڈنگ آفیسر نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 32 ووٹ آئے اپوزیشن نے ووٹ نہیں ڈالے، قبل ازیں سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کی تصدیق کے لیے ووٹنگ کرائی گئی اور 64ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر راجا ظفر الحق کی قرارداد کی حمایت کی، اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور حکومت کی جانب سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک اعتماد کی ناکامی پر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ثابت کیا کہ آپ پر ایوان کا اعتماد ہے ۔ متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد میں حکومت پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا اور شکست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا آئندہ سیاسی لاءحہ عمل تیار کرنے کے لئے ایک اور اے پی سی بلانے کا اعلان کر دیا ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے اپنے ہی سینیٹرز نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔

وزیراعظم کا دورہ امریکہ پر اظہار اطمینان

وزیراعظم عمران خان نے دور ہ امریکہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کو قابل تعریف قرار دیا ہے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر بحری امور علی زیدی، زلفی بخاری، علی جہانگیر صدقی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر شریک تھے ۔ اجلاس میں دورہ امریکہ کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر تعلقات علاقائی امن و استحکام میں معاون ثابت ہونگے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے کامیاب دورہ امریکہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کو سراہا اور کہا کہ پاک امریکہ تعلقات اور علاقائی امن سے متعلق ان کی سوچ قابل ستائش ہے، پاک امریکہ بہتر تعلقات دونوں ممالک کی قیادت کی خواہش ہے، دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات علاقائی امن و استحکام میں معاون ثابت ہونگے ۔ دریں اثنا وزیراعظم سے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تنظیم نو کے حوالے سے معاملات پر بات چیت ہوئی ۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے درخواست کی کہ ماہ اکتوبر کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مہینہ قرار دیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران کو ہدایت کی ہے کہ ایل ڈی اے میں کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور تمام معاملات کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھتے ہوئے شہریوں کو بلا تفریق ریلیف فراہم کیا جائے ۔ ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ایل ڈی اے میں کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ۔

ایس کے نیازی کا اعزاز

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کا دنیا ئے صحافت میں قدم رکھنے کے بعد یہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے قارئین اور ناظرین کو ہمیشہ قبل ازوقت خبر سے آگاہ کیا ۔ اس مرتبہ بھی سینیٹ میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا کہ صادق سنجرانی ہی فتح سے ہمکنار ہوں گے اور سو اسی طرح ہوا ۔ روزنامہ پاکستان اور روز نیوز کا ہمیشہ سے یہ اعزاز رہا اور اپنے قارئین اور ناظرین کو قبل ازوقت خبر سے ;200;گاہ رکھنے کا اعزاز برقرار رکھتا ہے اس سلسلے میں پاکستان گروپ ;200;ف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹراور روز نیوز کے چیئر مین ایس کے نیازی کا سنہرا کردار ہے ۔ چیئر مین سینٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ایس کے نیازی نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ فتح صادق سنجرانی کی ہی ہوگی ۔ سو اسی طرح ہوا اور اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ میں نے اپنے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ صادق سنجرانی جیتے گئے ۔ اس موقع پر ایس کے نیازی سے تحریک انصاف کے رہنماء شوکت بسرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب ;200;پ نے ایک جملے میں سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے ۔ ایس کے نیازی نے کہا تھا کہ میں نے پیپلز پارٹی کے دو تین لیڈروں کی بات سنی وہ کہے رہے تھے ووٹ ضرورت دینگے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کو دینگے ۔ اس جواب پر شوکت بسرا نے ایس کے نیازی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative