Home » کالم » سوچ بچار » سی پیک، چین بھارت کے درمیان وجہ تنازعہ

سی پیک، چین بھارت کے درمیان وجہ تنازعہ

بھارت بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا فطری شراکت دار ہے،اس منصوبے کے کشمیر سے گزرنے پر اسے کسی قسم کے شکو ک و شبہات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔اس سے بیجنگ کا کشمیر پر موقف متاثر نہیں ہوگا۔تاریخی طور پر بھارت قدیم شاہراہ ریشم پر ایک آزاد ملک تھا اور یہ کہنا حقیقت ہو گی کہ بھارت قدیم شاہراہ ریشم اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا فطری شراکت دار ہے۔ چین کے نائب وزیر خارجہ زینگ جن نے کہا ہے کہ بھارت نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے اہم منصوبے سی پیک کی اس لیے مخالفت کی ہے یہ پاکستانی کشمیر سے گزرتا ہے۔چین بارہا یہ بات کہہ چکا ہے سی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے اور سی پیک پر عملدرآمد سے کشمیر کے بارے میں چین کا موقف تبدیل نہیں ہو گا۔ ایشیاء کو یورپ سے ملانے کیلئے چین شاہراؤں،ہائی ویز،بندرگائیوں ا و ر سمندری راستوں کا ایک بڑا نیٹ ورک تعمیر کر رہا ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ چین کی کوئی سیاسی حکمت عملی ہے ۔ بھارت چین کا ایک اہم ہمسایہ ہے۔ چین اور بھارت ابھرتی ہوئی معیشتیں اور ترقی پذیر ممالک ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان سمیت بیلٹ اینڈ روڈمنصوبے سے وابستہ ممالک کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیاتاکہ ان ممالک کے عوام کے طرز زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔پاکستان بی آر آئی کاسرکردہ رکن ہے۔ اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)کے باعث خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ صدر شی نے2013میں شاہراہ ریشم اقتصادی بیلٹ اور21ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم کی تجویز دی تھی۔جولائی 2018 تک 100 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں بی آر آئی تعاون کی دستاویز پر چین کے ساتھ دستخط کر چکی ہیں۔جس سے اس منصوبے کا دائرہ یوریشیا سے افریقہ،لاطینی افریقہ اور کریبین اور جنوبی بحرالکاہل کے علاقوں تک پھیل گیا ہے۔چین نے بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک میں81تعلیمی ادارے اورمنصوبے اور 35ثقافتی مراکزقائم کئے ہیں۔صدر شی نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کارانہ سرگرمیوں کو باقاعدہ بنایا جائے اور تمام کاروبار قانون اور قوائد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔چین سمجھتا ہے کہ سی پیک چین اور بھارت کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ بن گیا ہے۔ چین نے بھارت کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شمولیت کی کئی بار دعوت دی مگر بھارت نے ہمیشہ سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے۔بھارت خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔جبکہ چین اور پاکستان کے تعلقات بھی اسے کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔چین نے سی پیک کی طرح بنگلہ دیش، بھارت،چین اورمیانمار اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 1990 کے آواخر میں یہ منصوبہ سوچا گیا کہ چینی صوبہ یون نان سے مشرقی بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار کو ملایا جائے۔ اس سلسلے میں بھارت میں چینی سفارت خانے کے وزیر لیو جن سونگ اور چین کے صوبہ یون نان کی حکومت کے بیرونی امور کے ڈائریکٹر لی جی مینگ نے ‘‘دی بیلٹ اینڈ روڈ ‘‘منصوبے اور چین بھارت بنگلادیش اور میانمار اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے کے حوالے سے ایکشن پلان پر دستخط کیے۔چین کی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے۔ بھارت نے منصوبہ پر دستخط تو کر دیئے مگر اس کے بعد گو مگو کی کیفیت میں ہے۔ اب تک بھارت کی طرف سے اس منصوبے پر کام بہت سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اصل میں بھارت کو سی پیک کا غم کھائے جا رہا ہے۔ بھارت شروع دن سے ہی سی پیک کے خلاف ہے۔ چونکہ سی پیک گلگت بلتستان سے ہو کر گزرتا ہے اور بھارت نہیں چاہتا کہ آزاد جموں و کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر والے بھی اس سے مستفید ہو ں۔ دوسری طرف وہ پاکستان کو کسی بھی طور ترقی ہوتے نہیں دیکھ سکتا اسی لئے وہ سی پیک کاسب سے بڑا مخالف ہے۔ بھارت سری لنکا ،نیپال اور پنگلہ دیش میں بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خائف ہے۔جبکہ میانمر ،بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان اور جبوتی کے ساتھ چینی بحری رابطوں نے بھی بھارت کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔بھارت کے سابق قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن نے واضح طور پر کہا ہے کہ سی پیک کسی طور پر بھی بھارت کو قبول نہیں ہے۔ چین واضح کرچکا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔تاہم بھارت یہ سمجھتا ہے کہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے قدم خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی بھارتی کوششوں کے راستے میں زبردست رکاوٹ ہیں۔ سی پیک کشمیر ،گلگت بلتستان سے گزررہا ہے۔ چین نے بارہا واضح کیا ہے کہ سی پیک کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ بھارت اس وجہ سے اقتصادی راہداری کی مخالفت کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرتی ہے جسے پاکستان آزاد کشمیر کہتا ہے اور بھارت اس متنازعہ علاقے کا دعوے دار ہے۔بھارتی مخالفت پر چین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرنے والی متنازعہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سلسلے میں اختلافات کو دور کرنے کی غرض سے بھارت کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ میں نے متعلقہ رپورٹ دیکھی ہے۔ جہاں تک CPEC کا تعلق ہے تو چین نے ہمیشہ اپنی پوزیشن کا اعادہ کیا ہے۔ جہاں تک دونوں ملکوں میں اختلافات کی بات ہے تو چین بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے اور مناسب حل ڈھونڈنے کیلئے تیار ہے تاکہ یہ اختلافات ہمارے قومی مفادات کو متاثر نہ کریں۔ یہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ان کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرتی ہے جس پر بھارت کا دعویٰ ہے۔ لہٰذا اس سے ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس پر جتنی زیادہ گفتگو کریں گے اسے حل کرنے میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔ دونوں ملکوں کے مابین کسی بھی مسئلے پر اختلافات ہوں اْنہیں ایمانداری اور باہمی احترام کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ CPEC صرف اقتصادی تعاون کا ایک پروجیکٹ ہے۔ اس سے کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔امید ہے کہ بھارت اسے اسی تناظر میں دیکھے گا۔ ہم بھارت کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کیلئے تیار ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative