adaria 5

سی پےک منصوبوں کی تکمےل تےزی کی متقاضی

تعلیمی میدان میں سیاست اچھی بات ہے لیکن ان کیلئے ضابطہ اخلاق کا مرتب ہونا انتہائی ضروری ہے، ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں طلبہ یونینز اپنے عروج پر تھیں پھر اس دور میں ہی جس طرح طلبہ کو سیاست میں استعمال کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ کتنے والدین کے غریب بچے اس سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے ، قید و بند، سزائیں بھگتتے رہے ، یونینز ضرور بحال ہونی چاہئیں لیکن حدود و قیود کے تحت اس میں یہ اجازت قطعی طورپر نہیں ہونی چاہیے کہ طلبہ یونینز مسلح ہوں یا وہ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار ہوں یا پھر سیاسی جماعتیں ان سے روابط میں ہوں ، ان پر یہ بھی پابندی عائد ہونی چاہیے کہ کالج اور یونیورسٹیز سطح کی یونینز کی سرگرمیاں صرف ادارے کی چاردیواری کے اندر تک محدود ہوں ، سڑک پر جانا قطعی طورپر ممانعت میں شامل ہو، یونینز کی اجازت دینے سے پہلے بنیادی اصول و ضوابط طے کیے جائیں کہ کن زاویوں پر تعلیمی اداروں میں یویننز بحال ہوتی ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ یہ یونینز مستقبل کے لیڈر بنانے میں اہم کردارادا کرتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس یونین بازی میں غیر قانونی عوامل شامل ہوں یا طلبہ تعلیم کے میدان سے دور ہو جائیں یا پھر ان کے احتجاج کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہونا شروع ہو جائیں یا یہ سڑکوں پر آجائیں جس سے ملکی حالات خراب ہوں یا پھر سیاسی جماعتیں ان کے حق میں بیان بازیاں شروع کردیں تو ایسے میں یونینز کا بحال ہونا بہتر نہیں ہے ۔ جب تک بنیادی اصول طے نہیں کیے جاتے اس وقت تک حکومت کو چاہیے کہ اس جانب کوئی قدم نہ اٹھائے ۔ کیونکہ ملک میں اس وقت پہلے ہی تعلیمی مسائل درپیش ہیں ، کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں ، پہلا فرض یہ ہونا چاہیے کہ ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں گنجائش پیدا کی جائے یا نئے تعلیمی ادارے بنائے جائیں ۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ سرکار کے تعلیمی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ ملک بھر کے تمام بچوں کو تعلیم فراہم کرسکیں ، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔ یونینز ضرور بحال کریں لیکن پہلے تعلیم کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ازحد ضروری ہے ۔ اِدھروزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر اپنے ٹویٹ میں ملک بھر کی تمام طلبہ یونینز کی بحالی کا عندیہ دےتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹیاں مستقبل کے لیڈرز کو پروان چڑھاتی ہیں اور طلبہ یونینز مستقبل کے لیڈرز بنانے میں اہم ہوتی ہیں ،بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز پرتشدد بن چکی ہیں ، طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے جامع ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے،یونیورسٹیاں مستقبل کے لیڈرز کو پروان چڑھاتی ہیں اور طلبہ یونینز مستقبل کے لیڈرز بنانے میں اہم ہوتی ہیں ۔ ضابطہ اخلاق کے لیے بین الاقوامی جامعات کے تجربے سے استفادہ حاصل کریں گے ۔ واضح رہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کےلئے ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ نے 29 نومبر کو احتجاج کیا تھا، دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی ناصر باغ مال روڈ پر مختلف طلبہ تنظیموں کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی تھی جس میں طالبات نے بھی شرکت کی تھی ۔ اسلام آباد اورکراچی سمیت دیگر شہروں میں طلبہ نے یونین کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے تھے ۔ نوجوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل کی امید ہے،نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر وزیراعظم عمران خان کا بنیادی مشن ہے،ہ میں اپنی نوجوان نسل خصوصاً طلبہ کی محنت، دیانتداری و سچائی کے اصولوں پر مبنی کردار سازی کرنی ہے ۔ اپنے حقوق کا مطالبہ طلبہ کے بڑھتے شعور اور فکر کی عکاسی ہے جو نہایت خوش آئند ہے ۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم ،حکومت کے اپوزیشن سے رابطے

حکومت نے قانون سازی کیلئے گو کہ اپوزیشن سے رابطے شروع کردئیے ہیں لیکن اپوزیشن کا موڈ اس جانب کوئی مثبت نظر نہیں آرہا، چونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک خاص ٹائم فریم دیا ہے اگر اس دوران متعلقہ قانون سازی نہیں ہوتی تو پھر مسائل درپیش ہوں گے ۔ حکومتی ارکان یہ کہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن اس قانون سازی میں تعاون نہیں کرتی تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا ۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرح کا ماحول پیدا کرے کہ اپوزیشن اس سے تعاون کرے ۔ جب تک حکومتی ارکان سوچ سمجھ کر بیان بازی نہیں کریں گے تو اس وقت تک حالات اسی طرح رہیں گے چونکہ پارلیمنٹ جمہوری مسائل حل کرنے کیلئے بہترین فورم ہے اس کو استعمال بھی کرنا چاہیے ناکہ سڑکوں پر احتجاج کیا جائے ۔ جمہوریت میں حکومت ہمیشہ مسائل حل کرنے کی جانب زیادہ مائل ہوتی ہے جبکہ اپوزیشن کا کام ہی تنقید ہوتا ہے لیکن یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔ حکومت کا یہ ایک احسن اقدام ہے کہ اس نے قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن سے رابطے شروع کردئیے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے سیاسی رابطے شروع کردیئے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوارکوکراچی میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کی ہے ۔ ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال، گورننس کے امور، تحریری معاہدے پر عمل در;200;مد اور بلدیاتی اختیارات سمیت ;200;رٹیکل 140 اے کے نفاذ پر بات چیت ہوئی ۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشکل حالات میں ہی عمران خان نے حکومت سنبھالی، ;200;ج ہم معاشی استحکام کی طرف لوٹ چکے ہیں ۔ سیاست و معیشت پر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا نکتہ نظر ملتا جلتا ہے جبکہ ایم کیوایم کے رہنماخالد مقبول کاکہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غیر مشروط حمایت جاری رکھیں گے جمہوری حکومتیں کراچی کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے کردار ادا کریں ۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیے گئے اب سندھ کے عوام کوجائزہ لیناچاہیے کہ اختیارات کے باوجودمسائل کیوں ہیں ;238; سندھ کے شہری علاقے معاشی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ سندھ کو اب فوری توجہ درکار ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی چلتا ہے تو ملک بھی چلتا ہے اور یہی معیشت کا انجن ہے ، تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کرسندھ کےلئے جامع حکمت عملی کے ساتھ ;200;گے بڑھنا ہوگا ۔

بھارتی جنگی جنون کو روکنے کیلئے عالمی برادری کردارادا کرے

بھارت کا جنگی جنون تھمنے میں نہیں آرہا، پورے خطے کے حالات اس نے تباہ و برباد کرکے رکھ دئیے ہیں ، وادی میں ظلم و ستم جاری ہے، نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، سونے پہ سہاگہ یہ کہ وادی میں 370 اور 35;65; ختم ہوئے چار ماہ ہی گزرے ہیں کہ اس نے دہلی میں ’’ عروج کشمیر‘‘ کے نام سے میلہ منانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔ بین الاقوامی بردری نامعلوم کس دن کا انتظار کررہی ہے ۔ آئے دن بھارتی اقدامات کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں ، لائن آف کنٹرول پر بھی مودی حکومت کو کسی طرح سکون نہیں ، گزشتہ روزبھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر رکھ چکری اور راولاکوٹ سیکٹر پربلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے دو افسر زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج نے پاکستانی چوکیوں پر مارٹر گولے بھی داغے ۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا ۔ ملک میں گو کہ دہشت گردوں کی بیخ کنی کردی گئی ہے لیکن بعض جگہوں پر یہ کہیں نہ کہیں سے سر اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ شمالی وزیرستان میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں لانس نائیک محمد عمران شہید جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے ۔ ایف سی اہلکاروں کی جانب سے جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 2 دہشت گرد مارے گئے، فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے 31 سالہ محمد عمران کا تعلق جمرود سے تھا ۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی اور کہیں بھی کوئی بھی مشکوک شخص نظر آئے تو حکومت کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ نمبروں پر فوری اطلاع دے دینی چاہیے تاکہ کسی بھی مذموم واقعے سے پہلے ان کی سرکوبی ہو جائے اور امن و امان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں