7

سی پےک منصوبوں کی تکمےل تےزی کی متقاضی

امرےکہ اور بھارت کو پہلے دن سے ہی سی پےک اےک آنکھ نہےں بھا رہا ۔ سی پےک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے ۔ پاک چےن اقتصادی راہداری کے منصوبے سے صرف پاکستان مےں ہی نہےں بلکہ اس سے خطے کے تمام ممالک مےں خوشحالی آئے گی ۔ اگر سی پےک منصوبے کو تےزی سے مکمل کر لےا گےا تو اس سے پاکستان کی معاشی صورتحال پر مثبت اثرات پڑےں گے ۔ سی پےک کی تکمےل سے ترقی کا اےک نےا دور شروع ہو گا اور روزگار کے مواقع بڑھےں گے ۔ ےہی وجہ ہے کہ ہمارے مخالفےن کو ےہ منصوبہ ہضم نہےں ہو رہا ۔ امکان ہے کہ 2030 تک گوادر پورٹ اور سی پےک کے منصوبے مکمل ہو جائےں گے ۔ ان منصوبوں کو تےزی سے مکمل کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اندرونی اور بےرونی سرماےہ کا ری جلد از جلد شروع ہو سکے ۔ چند دن قبل امرےکہ کی طرف سے اس بارے مےں منفی بےان جاری کےا گےا جو غےر متوقع تو نہےں لےکن اس نے ہمےں خبردار ضرور کر دےا ۔ اس منفی بےان کی تفصےل اسی کالم مےں چےن امرےکہ معاشی کشمکش کے سےاق و سباق پر اےک نظر ڈالنے کے بعد کروں گا ۔ ٹےد سی فش مےن ;84;ed c fish manاپنی کتاب چائنا ان کارپور ٹےڈ مےں لکھتا ہے کہ چےن کے اقتصادی اور فوجی عروج نے رےاست ہائے متحدہ امرےکہ کے ارادوں کو درہم برہم کر کے رکھ دےا ہے ۔ اےک دوسرے مد مقابل کی بتدرےج ترقی نے رےاست ہائے متحدہ امرےکہ کے توسےع پسندانہ عزائم کو للکارا ہے اور اس کے کردار کو ٹھےس پہنچائی ہے ۔ اس مےں کوئی شک نہےں کہ سپر پاور چوکنی ہو گئی ہے اور اس نے چےن کو گھےرنے کی کوششےں مزےد تےز تر کر دی ہےں ۔ ہندوستان کے ساتھ اےٹمی تعاون اس سلسلے مےں اےک اہم قدم ہے اور ان کا ارادہ ےہ ہے کہ ہندوستان کو علاقائی طاقت بناےا جائے تاکہ چےن کو قابو مےں رکھا جا سکے ۔ شکاگو ےونےورسٹی کے پروفےسرجان مئےر شمئےر کہتے ہےں کہ طاقتور ترےن رےاستےں ےہ کوشش کرتی ہےں کہ ان کے اپنے علاقے مےں ان کی بالا دستی قائم رہے ،ساتھ ہی وہ اس کی تسلی بھی چاہتی ہےں کہ کسی دوسرے علاقے مےں بھی ان کے مقابلے مےں کوئی بڑی طاقت نہ ہو ۔ ان کا بالآخر مقصد ےہ ہوتا ہے کہ وہ طاقتور ترےن ہوں اور اپنے سسٹم مےں واحد بڑی طاقت ہوں ۔ دوسرے لفظوں مےں انہےں علاقائی بالا دستی مےں کوئی مد مقابل نہےں چاہیے ۔ اس لئے چےن ےہ چاہے گا کہ اےشےاء مےں کوئی اس کو دھمکانے کی کوشش نہ کرے ‘‘ ۔ چےن کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت نے مغربی ممالک کو خاصا پرےشان کر رکھا ہے ۔ خصوصےت کے ساتھ امرےکہ کا تو بس نہےں چل رہا کہ کسی طرح اس کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کو روکنے کی کوشش کی جائے لےکن چےن اےک مخصوص حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے ۔ امرےکہ کا چےن کے ساتھ معاندانہ روےہ 1990ء سے جاری ہے ۔ ڈےن زےاپنگ نے 1991ء مےں ہی کہہ دےا تھا کہ دونوں ملکوں کے ساتھ ےہ چپقلش اےک نئی جنگ کا آغاز ہے اس لئے توقع کی جاتی ہے کہ رےاست ہائے متحدہ امرےکہ چےن کو قابو مےں رکھنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔ ہندوستان کے علاوہ جاپان ،روس اور چھوٹی رےاستےں بھی چےن کی ترقی سے فکر مند ہےں ۔ ‘‘پاک چےن دوستی کی کہانی اےک شاندار کہانی ہے ۔ ےہ رےاستوں کے باہمی تعلقات کی تارےخ مےں اےک اہم مقام کی حامل اور دوسری قوموں کےلئے اےک مثال کی حےثےت رکھتی ہے ۔ تعاون کی ےہ لمبی داستان وقت کے تھپےڑوں کو بخوبی سہہ گئی ہے ۔ چےن کے صدر شی چن پنگ نے پاک چےن دوستی کے احوال کا اعتراف کتنے خوبصورت اور جامع الفاظ مےں کےا اس پر کچھ مزےد کہنے کی حاجت محسوس نہےں ہوتی ۔ وہ لکھتے ہےں کہ ’’جب مےں جوان تھا تو اکثر پاک چےن دوستی کی کہانےاں سنا کرتا تھا ۔ جب کوئی بھی چےن کو چلتا ہوا نہےں دےکھنا چاہتا تھا اس وقت پاکستان ہی تھا جس نے چےن کو دنےا سے رابطے قائم کرنے اور روابط بڑھانے کےلئے فضائی راستے فراہم کئے ۔ جب چےن کو اقوام متحدہ کے قرےب بھی پھٹکنے نہےں دےا جا رہا تھا تو اس وقت پاکستان نے چےن کے اقوام متحدہ مےں جائز مقام کےلئے جو بھرپور مدد کی وہ چےن نہےں بھلا سکتا ۔ ‘‘انڈےا کا کہنا ہے کہ سی پےک ان کے مفادات کے خلاف ہے ےہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خفےہ اےجنسی رےسرچ اےنڈ انےلسز ونگ جسے عرف عام مےں را کہا جاتا ہے کے اےجنٹ منصوبے کو سبو تاژ کرنے کےلئے پاکستان مےں داخل کر رکھے ہےں ۔ کل بھوشن ےا دےو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بےان اس حقےقت کا بےن ثبوت ہے ۔ امرےکی نائب وزےر خارجہ برائے جنوبی اےشاء اےلس وےلز نے پاکستان کو متنبہ کےا کہ پاکستان سی پےک منصوبے سے باز رہے کےونکہ اس منصوبے سے پاکستان کا طوےل المدتی معاشی نقصان اور فائدہ صرف چےن کو ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کےلئے گےم چےنجر کی حےثےت رکھنے والا سی پےک منصوبہ صرف چےن کےلئے ہی منافع بخش ہے اور چےن مختلف ممالک کو اےسے معاہدے کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو ان ممالک کے مفاد مےں نہےں ۔ اےلس وےلز کے بقول پاکستان مےں سی پےک کے منصوبے کو گرانٹ کے طور پر لےا جا رہا ہے جبکہ حقےقت اس کے برعکس ہے اور امرےکہ نے پاکستان کو سی پےک سے بہتر ماڈل کی پےشکش کی ہے تا ہم سی پےک پر امرےکی تنقےد اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان مےں چےن کے سفےر ےاءو جنگ نے واضح کےا کہ سی پےک منصوبہ پاک چےن دوستی کا مظہر ہے جس سے 75ہزار پاکستانےوں کو بلا واسطہ اور2لاکھ افراد کو بالواسطہ روز گار ملا ہے اور چےن مغربی ممالک کی طرح پاکستان سے قرض کی ادائےگی کا مطالبہ نہےں کرے گا ۔ بعد ازاں وفاقی وزےر منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی اےک کانفرنس مےں پاک چےن اقتصادی راہداری پر امرےکی خدشات اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چےن کے ساتھ دوستی سے پےچھے نہےں ہٹے گا اور کسی کے کہنے پر چےن سے تعلقات خراب نہےں کرےں گے ۔ انہوں نے واضح کےا کہ سی پےک منصوبہ ہماری اولےن ترجےح ہے جسے مزےد آگے بڑھاےا جائے گا ۔ امرےکہ کی طرح پاکستان بھی اےک آزاد رےاست ہے اور اپنے فےصلوں مےں خود مختار ہے اور کسی طور بھی اس کے اندرونی معاملات مےں کسی کی بھی مداخلت جائز نہےں ۔ دشمن قوتےں تو پاک چےن دوستی مےں ہمےشہ دراڑ ڈالنے کےلئے کوشاں رہتی ہےں لےکن ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانا ہمارا اہم فرےضہ ہے ۔ امرےکہ انڈےا کے آئی ٹی پارکس دفاعی صنعتوں (ہتھےار اور اسلحہ تےار کرنے والے کارخانے)کال سنٹرز،گےٹ وےز پر سرماےہ کاری کر رہا ہے لےکن پاکستان نے کبھی امرےکہ پر اعتراض نہےں کےا ۔ واضع رہے کہ سی پےک امداد نہےں بلکہ سرماےہ کاری ہے جس کا بڑا حصہ توانائی کے شعبوں پر مشتمل ہے ۔ سی پےک کے تحت پاکستان پر چےنی قرضوں کا مجموعی حجم 5;46;8ارب ڈالر ہے جبکہ باقی کمپنےوں کے قرضے مےں جو;706873;کے زمرے مےں آتے ہےں جو انہوں نے کما کر واپس کرنے ہوتے ہےں نہ کہ حکومت کو دےنے ہےں ۔ مسلم لےگ ن کی حکومت نے سی پےک منصوبے پر کوئی سمجھوتا نہےں کےا اور بغےر کسی دباءو کے اس پر کام تےزی سے جاری رکھا لےکن پی ٹی آئی حکومت کے عنان اقتدار سنبھالنے پر کچھ اس طرح کے اشارے ملے کہ سی پےک منصوبہ ان کی ترجےحات مےں شامل نہےں اور حکومت اس منصوبے پر نظر ثانی کا ارادہ رکھتی ہے اور منصوبے کی رفتار مےں کمی لائی جائے گی ۔ کچھ وزراء نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کےا جس کے بعد سی پےک منصوبہ پر کام تاخےر کا شکار ہو گےا ۔ شنےد ہے کہ وزےر اعظم عمران خان کے حالےہ دورہ امرےکہ مےں سی پےک منصوبے پر پےش رفت روکنے کےلئے انتظامےہ کی طرف سے پاکستان پر دباءو کے نتےجے مےں حکومت نے امرےکی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے سی پےک منصوبے پر کام کی رفتار سست کر دی ،چےن اس پر ناخوش ہوا مگر امرےکہ نے مسئلہ کشمےر پر ثالثی اور حماءت کا جو وعدہ کےا تھا وہ تو اےفا نہ ہوا البتہ کشمےر ہمارے ہاتھ سے ہمےشہ کےلئے نکل گےا ۔ جب ہمارے ساتھ ہاتھ ہونے کا احساس ہو اتو آرمی چےف کو چےن جا کر معاملات کو کنٹرول کرنا پڑا اور کچھ ےقےن دہانےاں بھی کرانا پڑےں ۔ اگرچہ گوادر پورٹ مکمل ہو چکی ہے اور اب بحری جہاز بھی لنگر انداز ہونا شروع ہو گئے ہےں ہمےں اسے متنازعہ بنانے کی بجائے اس کے منصوبوں کو تےزی کے ساتھ مکمل کرنا چاہیے اور اس حقےقت کا ادراک بھی کرنا ضروری ہے کہ ےہ مفاد کا معاملہ ہے صرف دوستی کا نہےں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں