Home » کالم » شاہ محمود قریشی کا دورہ برطانیہ کامیاب یا ناکام ؟

شاہ محمود قریشی کا دورہ برطانیہ کامیاب یا ناکام ؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنا چھ روزہ غیر سرکاری دورہ مکمل کرکے واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں غیر سرکاری سے مراد یہ ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کے سرکاری مہمان نہیں تھے میری معلومات کے مطابق ان کی ملاقات یہاں کسی سرکاری ادارے کے سربراہ سے نہیں ہوئی۔ بظاہر ان کے دورے کا مقصد کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی اور انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس میں شرکت تھی وفد کے اراکین ایک دن 4 فروری کو برطانوی پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں ہونے والی “کشمیر کانفرنس ” کے موقع پر سب ایک ساتھ نظر آئے جس میں قومی اسمبلی کی فارن کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر شیریں رحمان، سینیٹر عطاالرحمان، سینیٹر آصف کرمانی بھی شامل تھے ۔اس کے بعد یہ سارے پارلیمنٹرین لندن میں تتر بتر ہو گئے ۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن پوری طرح متحرک تھا سوشل میڈیا پر جو تصویریں شئیر کی گئی ہیں وہ لندن کے مہنگے ترین ہوٹلوں کی شئیر کی گئی ہیں۔ ایک طرف کفایت شعاری او ر وزیراعظم قطر، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب جارہا ہے تو دوسری طرف اتنے اخراجات۔آپ ایک ایسے وقت میں تشریف لائے ہیں جب برطانیہ بریگزٹ کے معاملے پر بری طرح الجھا ہوا ہے برطانیہ اور یورپین یونین کے درمیان معاہدہ نہیں ہوپارہا ہے برطانیہ کی معیشت ڈوب رہی ہے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اپنے صدر دفاتر یورپ میں منتقل کر رہے ہیں پانچ ملین افراد برطانیہ اور یورپ کے باشندے پورے براعظم میں امیگرنٹس ہیں جو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی سی صورت حال سے دوچار ہیں۔ کشمیر کانفرنس میں شرکت کرنے نہ صرف پاکستان کا وفد لندن آیا بلکہ آزادکشمیر کے صدر اپنے سٹاف، دو سابق وزرائے اعظم سردار عتیق احمد اور بیرسٹر سلطان محمود، آزد کشمیر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر چودھری یاسین بھی کشمیر کانفرنس میں شرکت کرنے اور 5فروری کو برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کے لئے آئے ۔پہلے اگر مظاہرے کا ذکر کریں تو افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ہی وزیر خارجہ اور نہ ہی پارلیمانی وفد کے ارکان نے مظاہرے میں کوئی شرکت کی ۔بیرسٹر سلطان محمود، سردار عتیق احمد اور اسی طرح چودھری یاسین نے اپنے اپنے بندے اکٹھے کرکے لندن مظاہرے میں لائے حالانکہ 5 فروری کا دن پاکستانی عوام کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا ہے بلاشبہ مظاہرہ بہت بڑا اور کامیاب تھا لیکن اس کا کریڈٹ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف بڑے بڑے مظاہرے کیے ہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مفادات کا بھی تحفظ کیا ہے ۔4 فروری کو ہونے والی اگر کشمیر کانفرنس کا جائزہ لیں تو ہم نے بہت ساری مثبت باتیں اس لئے رپورٹ کی ہیں کہ کشمیر کاز ہمارا قومی مسئلہ ہے لیکن قوم کو یہ بتایا جائے کہ صرف پانچ یا چھ انگریز ممبران آف پارلیمنٹ کیوں کشمیر کانفرنس میں شریک ہوئے باقی تو دس بارہ ممبران پاکستانی نژاد ہیں جن کا موقف وہی رہتا ہے جو ہمارا قومی موقف ہے یہ کشمیر کانفرنس تمام تر وسائل استعمال ہونے کے باوجود بدانتظامی کا شکار ہوئی ہجوم کو پارلیمنٹ میں آنے کی اجازت دی گئی جس میں غیر ضروری لوگ پارلیمنٹ اور کانفرنس روم میں گھس گئے جن میں ایسے بھی تھے جنہیں پاکستان کے کشمیر پر موقف کا مخالف سمجھا جاتا ہے جنھیں پولیس بلا کر وہاں سے نکالا گیا پانچ چھ انگریز ممبران اف پارلیمنٹ جو آئے بھی وہ کھڑے رہے انہیں بیٹھنے کا موقع ہی نہیں ملا سٹیج پر زیادہ تر اپنے سارے دیسی لیڈر بیٹھ گئے اگرچہ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کے بیانے کو بھرپور طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا مائیک ہی صحیح طور یا تو کام نہیں کر رہا تھا یا اس کی آواز ہی دھیمی رکھی گئی تھی میں خود چند گزوں کے فاصلے پر بیٹھا ہوا تھا مجھے آواز صحیح طور سنائی نہیں دے رہی تھی میری طرح سب نے یہ محسوس کیا لیکن انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں ہوئی اپنے پاکستانی اور کشمیریوں لیڈروں کے خلیفہ نما ورکروں اور سیلفی نما لیڈروں نے اس کانفرنس میں مزید بدمزگی پیدا کی جو سٹیج پر لیڈروں کے پیچھے کھڑے ہوگئے تاکہ میڈیا پر ان کی صورتیں نمایاں طور پر نظر آئیں آزاد کشمیر اور پاکستان کے سارے لیڈروں کی تقریریں کروائی گئیں دو گھنٹے کا وقت تقریروں میں گزر گیا پھر بھی سینیٹر عطاء لراحمان اور آزادکشمیر کے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین کی تقریر نہ ہو سکی اور نہ ہی سوال جواب کا موقع کسی کو مل سکا تاہم سینٹر مشاہد حسین سید نے مختصر مگر جامع تقریر کی برطانوی پارلیمنٹ کے تمام ممبران آف پارلیمنٹ نے دو منٹ سے بھی کم تقریریں کیں اللہ تعالیٰ عمر دراز کرے ۔ہمارے کشمیری سپوت لارڈ قربان حسین کی جنہوں نے اس کشمیر کانفرنس کے لب ولباب کو ایک جامع قرارداد کے ذریعے منظور کروا کر کشمیری و پاکستانی ڈائسپورہ یا پاکستانی و کشمیر ی نژاد برطانوی شہریوں کی لاج رکھ لی وگرنہ اس کانفرنس کی مقصدیت ہی فوت ہوجاتی۔ برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی اس کانفرنس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ برطانوی مین سٹریم میڈیا کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت ہی سرے سے نہیں دی گئی یا برطانوی میڈیا نے اس کو اہمیت نہیں دی۔تاہم پاکستانی میڈیا نے تو اس کو بھرپور کوریج دی، کیا اتنے بڑے پیمانے پر وسائل کا بے دریغ استعمال کرنے سے تو بہتر تھا کہ مظلوم کشمیریوں کی مالی مدد کی جاتی۔ یہاں میں اس بے حسی کو ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یکم فروری کو میں جس پرواز میں پاکستان سے لندن واپس لوٹا اسی دن اسی پرواز میں ہیومن رائٹس کی وفاقی وزیر شیریں مزاری بھی لندن تشریف لائیں ۔میں نے پوچھا کہ میڈم لندن میں کیا مصروفیت ہوں گی، فرمانے لگیں اپنی بیٹی کو لندن چھوڑنے جارہی ہوں ،میں نے استفسار سے پوچھا کہ لندن جاہی رہی ہیں تو کشمیر کانفرنس میں شرکت کریں گی ،انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔لارڈ قربان حسین نے 5 فروری کی صبح ہاؤس آف لارڈز میں ایک بہت بڑی قومی خدمت سرانجام دی کہ انہوں نے چھ برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے ارکان کی ملاقات پاکستانی سینیٹرز سے کروائی جس میں مشاہد حسین سید اور شیری رحمن نے برطانوی پارلیمان کے ارکان کو کشمیر کے موضوع پر باالخصوص اور افغانستان، پاک چین اقتصادی راہداری، پاکستان کی معیشت اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں اعتماد میں لیا اور ان کے سوالوں کے جواب دئیے جسے کسی میڈیا میں رپورٹ نہیں کیا گیا ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے باقی پانچ دن اپنی پارٹی کیبرمنگھم، مانچسٹر میں استقبالئے جلسوں سے خطاب میں گزرے جو کافی حد تک کامیاب رہے۔انہوں نے اوورسیزز پاکستانیوں کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر انہیں اعتماد میں لیا ۔وزیر خارجہ سکائی نیوز کے ایک پروگرام میں بھی شریک ہوئے اگرچہ انہوں نے نپی تلی محتاط گفتگو کی مگر مجھے ایسے لگا کہ انٹرویو سے پہلے انہوں نے ہوم ورک نہیں کیا تھا ۔وزیراعظم عمران خان کا دورہ برطانیہ جلد متوقع ہے۔ اگر وزیرخارجہ کے دورے میں اتنی کوتاہیاں کی گئیں ہیں تو وزیراعظم کے دورے کا اللہ ہی حافظ ہوگا۔

About Admin

Google Analytics Alternative