Home » کالم » شمالی وزیرستان اور حالات کا نیا رخ

شمالی وزیرستان اور حالات کا نیا رخ

گزشتہ ماہ یعنی اپریل کی 29 تاریخ کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دی تھی ۔ اس بریفنگ میں انہوں نے دیگر معاملات پر بات کرنے کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں واضح اظہار خیال کیا تھا ۔ انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ جب تحریک لبیک کے خلاف کاروائی کی گئی تو کئی لوگوں نے پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے خلاف بھی کاروائی کرنے کی باتیں کیں ۔ میجر جنرل آصف غفور نے سب سے پہلے پی ٹی ایم کے مطالبات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات تین تھے ۔ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ وہاں قائم چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کی جائے ۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ اس علاقے میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی کر کے علاقے کو کلیئر کیا جائے ۔ اور تیسرا مطالبہ لا پتہ افراد کی بازیابی کا تھا ۔ ان کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے اور عوام کے تحفظ کومدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج کی اڑتالیس ٹی میں تشکیل دے دی گئیں ۔ فوجی جوانوں نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 45 فیصد علاقہ سے بارودی سرنگوں کا صفایا کر دیا ۔ اس دوران پاک فوج کو 101 جوانوں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے ۔ اب صرف ڈھائی ہزار کیسز باقی رہ گئے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے ۔ میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آرنے ایک دلچسپ نکتہ بھی اٹھایا ۔ انھوں نے پی ٹی ایم سے کہا کہ اس وقت کالعدم تحریک طالبان کے جو افراد افغانستان میں بیٹھے ہیں ان کی فہرست بھی مجھے دے دیں تاکہ یہ موازنہ ہو سکے کہ آپ کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کوئی بندہ ان لوگوں میں تو نہیں ہے ۔ پھر ہم باقی لاپتہ افراد کو ڈھونڈیں گے کہ وہ کہاں پر ہیں ۔ اور بھی بہت ساری تنظی میں مختلف جگہوں پر لڑ رہی ہیں ۔ آپ کے تو بہت سے وسائل ہیں ان کی فہرست بھی ہ میں دے دیں تاکہ ہم لاپتہ افراد کو ڈھونڈ سکیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ پی ٹی ایم نے ایسی فہرستیں ڈی جی آئی ایس پی آر کو فراہم کی ہیں یا نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ نہیں کی ہوں گی ۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کے بیرون ملک رابطوں کا بھی ذکر کیا ۔ اور ساتھ ہی پی ٹی ایم کو متبنہ کیا کہ اب ان کا وقت پورا ہو گیا اوران سے قانونی طریقوں سے نمٹا جائے گا ۔ ڈی جی صاحب کی اس تفصیلی بریفنگ سے ان لوگوں کو جواب مل گیا تھا جوکہتے تھے کہ پی ٹی ایم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ۔ جب تک ان کے مطالبے جائز تھے اور ان کی ملک دشمنی کا ثبوت نہیں ملا تھا ۔ تو ان کے خلاف کیونکر کارروائی کی جاتی ۔ اس لیئے توانھوں نے الیکشن میں حصہ لیا ۔ ان کے دو رہنماء قومی اسمبلی کے رکن بنے ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن قائم ہو گیا ۔ اور معاملات بہتری کی طرف جا رہے تھے کہ 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑکمر کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا ۔ جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے ۔ اور ایک نے جام شہادت نوش کیا ۔ اس حملہ آور گروہ کی قیادت ان ہی دو ارکان قومی اسمبلی نے کی ۔ باقی تفصیلات سب کو معلوم ہیں ۔ آخر ان دو ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر کیوں اکسایا ۔ جنھوں نے دھرنا دیا تھا ۔ ذراءع بتاتے ہیں کہ دھرنا دینے والوں سے بت چیت ہو گئی تھی ۔ اور معاملات طے پا گئے تھے اور دھرنا ختم ہو رہا تھا ۔ کہ محسن داوڑ نے فون پر لوگوں کو اکسایا ۔ اور علی وزیر سمیت خود وہاں پہنچ کر لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے اور فائرنگ کرنے کی ترغیب دی ۔ اس سے قبل پاک فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بھی کیں ۔ چیک پوسٹ پر فائرنگ اور حملہ کے دوران وہاں متعین جوانوں نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی ۔ اس تمام واقعے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک ماہ پہلے میڈیا بریفنگ یاد آئی اس لیئے آغاز کالم میں ذکر کیا تھا ۔ اور یہ واضح ہو گیا کہ انھوں نے درست کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے بیرون ملک کہاں کہاں رابطے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی ایم کے رہنماء پر امن اور محب وطن ہیں تو انھوں نے لوگوں کو فوج کے خلاف کیوں اکسایا ۔ علی وزیر نے اپنی تقریر میں کیوں کہا کہ جس کی وڈیو ثبوت موجود ہے کہ پاکستان کی فوج ہم تمھیں مار ڈالیں گے ۔ ہم تم سے بدلہ لیں گے ۔ اسی پاکستان کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی ۔ رہنماء کا کام لوگوں کو فوجی،سرکاری یا عوامی املاک اور جانوں کے نقصان پر اکسانا نہیں ہوتا ۔ اور جو بھی ایسا کرتا ہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا تنظیم سے ہو وہ ملک دشمن ہے اس کے خلاف دہشت گردی اور ملک سے غداری کے مقدمات قائم کرکے سخت کاروائی کرنی چاہیئے ۔ اگر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی تو یہ ملک میں انار کی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے مترادف ہوتا ہے ۔ رہنماء کا کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو عوامی مسائل کے حل اور جائزہ و مطالبات کی منظوری کے لیئے پر امن احتجاج کی ترغیب دے ۔ کون سا قانون سے جو ملک میں پر امن احتجاج سے روکتا ہے اور اگر کوئی بھی حکومت پر امن احتجاج کرنیوالوں کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے تو یہ بھی خلاف قانون اور ظلم ہوتا ہے ۔ پاک فوج اور وزیرستان کے لوگوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیئے تاریخی قربانیاں دی ہیں ۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ۔ اور ایک تعداد فوجی جوانوں اور افسروں نے جانوں کی قربانیاں دیں ۔ کیا وہ کسی کے بیٹے،کسی کے شوہر،کسی کے والد اور کسی کے بھائی نہیں تھے ۔ وہ تو پاکستان محافظ اور اثاثہ تھے ۔ انھوں نے جانوں کا نذرانہ وہاں اس لیئے دی اکہ وہاں رہنے والے لوگ امن و چین سے زندگی بسر کر سکیں ۔ اب ان ہی پر حملے کرنا کوئی محب وطن برداشت کر سکتا ہے ۔ تعجب اس بات پر ہے کہ اتنے بڑے واقعہ پر وزیراعظم،وزیر داخلہ اور گورنر اور وزیر اعلیٰ کے پی کے کی طرف سے کوئی واضح رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ معلوم نہیں اس پر اسرار خاموشی کے پیچھے کیا راز ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative