Home » کالم » شورش زدہ قبائلی علاقوں میں پُرامن صوبائی انتخابات،شکریہ پاک فوج
adaria

شورش زدہ قبائلی علاقوں میں پُرامن صوبائی انتخابات،شکریہ پاک فوج

حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیے گئے قبائلی اضلاع میں ہفتہ کے روز پہلی بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھر پور حصہ لیا ۔ کئی دہائیوں بعد قبائلی اضلاع کی عوام نے صوبائی اسمبلی کے لئے اپنے نمائندوں کا ;200;زادانہ انتخاب کیا ۔ فاٹا کے انضمام کے بعد اس علاقہ کےلئے16 جنرل اور5 مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں جن میں سے 4 نشستیں خواتین اورایک نشست اقلیتوں کےلئے مخصوص کی گئی ہے ۔ انتخابات کےلئے ایک ہزار 897پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں سے 554کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا ۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے تمام پولنگ اسٹیشنوں کو حساس ترین اور حساس قراردیا گیا تھا ۔ حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج کے جوان تعینات کیے گئے تھے جبکہ دیگر پولنگ اسٹیشنوں کے باہر پاک فوج کے جوانوں نے سیکورٹی کے فراءض سرانجام دئیے ۔ خوش ;200;ئند بات یہ ہے کہ پولنگ مقررہ وقت صبح 8بجے شروع ہو کر انتہائی پرامن اور بلاتعطل شام پانچ بجے تک جاری رہی ۔ یقینا اس بات کا سہرا پاک فوج اور اسکے سکیورٹی اداروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے الیکشن کا پرامن انعقاد ممکن بنایا ، صرف یہی نہیں بلکہ ان الیکشن کے لیے ماحول بھی ساز گار بنایا ۔ ایک مخصوص دھڑے اور لابی نے علاقے کا ماحول خراب کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر غیور عوام نے انہیں مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا سیاسی کردار احسن طریقے سے نبھایا ۔ ملک کی تمام نمائندہ بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ ;200;زاد امیدواروں کی بڑی تعداد نے بھی انتخابات میں حصہ لیا جبکہ دو خواتین نے بھی جنرل نشستوں پر الیکشن لڑا ۔ 28لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے لئے اہل تھے ۔ الیکشن سے قبل ہفتہ رفتہ کے دوران پورے قبائلی علاقے میں زبردست انتخابی گہماگہمی رہی اور الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں ۔ تمام پاکستانیوں کےلئے یہ انتہائی مسرت و شادمانی کا موقع ہے کہ ماضی میں دہشت گردی کا گڑھ کہلانے والے یہ علاقے پہلی بار قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ۔ ماضی میں یہ علاقے نظر انداز ہوتے ;200;ئے پھر گزشتہ چند سال سے دہشت گردی کے ;200;سیب نے اسے لپیٹ میں لیے رکھا ۔ دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے اہل علاقہ کو بے پناہ نقصانات اور صدمات سے دوچار ہونا پڑا ۔ بدقسمت قبائلیوں کو اس ناسور سے نجات دلانے کےلئے پاک فوج نے انتہائی مشکل جنگ لڑی اور اس علاقہ کے چپے چپے سے دہشت گردوں کو نکال کر اپنی قوم کے سامنے سرخرو ہوئی ۔ دہشت گردی کیخلاف ;200;پریشنوں ضرب عضب اور ردالفساد کے دوران سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا ۔ دہشت گردوں کی خفیہ کمین گاہوں سے جدید ترین خطرناک جنگی اسلحہ بھی بر;200;مد کرکے ضبط کیا گیا جبکہ علاقہ میں قائم ;200;ئی ای ڈی مینوفیکچررز اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بھی تباہ کیا گیا ۔ اس مقصد کے حصول کے دوران پاک فوج کے سینکڑوں افسران و جوانوں نے بھی دفاع وطن کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دیکر شہادتیں پائیں اور ان سے کئی گنا زیادہ زخمی بھی ہوئے ۔ دنیا کی عسکری تاریخ کی اس خطرناک ترین جنگ میں پاک افواج کی کامیابی کو دنیا بھر کے عسکری حلقے سراہانے پر مجبور ہوئے کہ پاک فوج نے ناممکن کو ممکن بنایا ۔ بلاشبہ یہ مبالغہ ;200;رائی نہیں بلکہ روشن حقیقت ہے کیونکہ سرحد کی دوسری طرف سولہ سال سے بر سر پیکار اتحادی افواج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں ۔ دہشت گردی کی پائیدار بیخ کنی کے لئے ابھی مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ سرحد پار سے دہشت گردوں کی ;200;مدورفت اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کےلئے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا بھی سلسلہ شروع ہے اور 2600کلومیٹر سے زائد طویل پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جارہی ہے جوکہ ;200;ئندہ سال 2020 میں مکمل ہوجائیگی ۔ اب تک خیبر پختونخواہ کی حدود میں ساڑھے چار سو کلومیٹر جبکہ صوبہ بلوچستان کی حدود میں ایک سو اسی کلومیٹر باڑ لگائی جا چکی ہے، اس کے علاوہ سرحد کیساتھ ساتھ پاک فوج کی 843 چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئیں جن میں سے 233 چیک پوسٹوں کی عمارتیں مکمل ہوچکی ہیں باقی چیک پوسٹوں کی تعمیر کا کام تکمیل کے ;200;خری مراحل میں ہے ۔ یہ سب کچھ فوج خود کر رہی ہے ۔ پاک فوج کی دن رات کی محنت کے نتیجے میں امن بحال ہونے کے بعد اندرون علاقہ کئی چیک پوسٹیں ختم کی جا چکی ہیں ۔ علاقہ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور پختون عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے کےلئے مواصلات کا جدید ترین نظام قائم کرنےکا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک اس علاقہ میں 8 سو کلومیٹر نئی سڑکیں تعمیر کی جاچکی ہیں ، تباہ ہونیوالے تعلیمی اداروں کو بھی بحال کردیا گیا ہے ۔ ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا گڑھ سمجھے جانیوالے اس علاقہ کے غیور پختونوں کو طویل مشکلات کے بعد پہلی بار پاکستانی ریاست کی مین سٹریم میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس علاقہ کی محرومی اور پسماندگی کو ختم کرنے کےلئے اربوں روپے مالیت کے فنڈزکا اعلان کیا ہے جن کا مقصد اس علاقہ کو پاکستان کے دوسرے علاقوں کے برابر لانا ہے ۔ فاٹا میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن یہ نمائندے نہ تو قانون سازی میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی فاٹا کو وہ سہولیات فراہم کرسکے جن کی وہاں اشد ضرورت تھی ۔ اس پس منظر میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے کئی امیدیں وابستہ ہیں ۔ امید ہے کہ انتخابات کے بعد قبائلی اضلاع میں ;200;ئینی و قانونی حقوق، سیاسی و شہری حقوق اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی کے حوالے ;200;سانیاں پیدا ہوں گی ۔

لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی

لائن ;200;ف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک اہلکار شہید اور خواتین سمیت 4 شہری زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بٹل، ستوال، خنجر، نکیال اور جندروٹ سیکٹرز میں ;200;رمی کی چیک پوسٹوں اور شہری ;200;بادی پر اندھا دھند فائرنگ، مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے ۔ جس سے حوالدار منظور عباسی شہید ہوئے ۔ رواں ماہ کے ;200;غاز میں ;200;زاد جموں و کشمیر میں ایل او سی سے چند میٹر کے فاصلے پر چھمب سیکٹر میں دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہو گئے تھے ۔ ایل او سی پر جنگ بندی کےلئے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود بھارت کی جانب سے جنگ بندی کیخلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے ۔ جس سے معصوم اور بے گناہ شہری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے ۔

ادھار تیل کی فراہمی،سعودی حکومت کا لائق تحسین تعاون

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مضبوط برادار تعلقات ہر وقت کے آزمودہ ہیں ۔ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت پڑا سعودی حکومت نے بھرپور ساتھ دیا،حالیہ شدید معاشی بحران میں بھی سعودی عرب نے وہ کام کر دکھایا جو جس کی ہمیشہ اس سے توقع رہتی ہے ۔ چند ماہ قبل ادھار تیل کا جو وعدہ کیا تھا اس کی فراہمی شروع ہوگئی ہے، عرب لاءٹ کروڈ آئل کی پہلی کھیپ لے کر سعودی جہاز کراچی بندرگاہ پہنچ گیا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو3ارب20کروڑمالیت کا تیل ادھارفراہم کرے گا ۔ پاکستان کو ادھار پر ملنے والے تیل کے رقم کی ادائیگی آئندہ 3سال میں کرنا ہوگا ۔ یقینا یہ ایک بہت بڑی امداد ہے اس سے جہاں تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں گی وہاں امپورٹ بل کا دباوَ بھی کم ہو گا،اس لئے سعودی حکومت کا یہ تعاون لائق تحسین ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative