Home » کالم » شہید برہان وانی نئی نسل کی احمت کا موجد

شہید برہان وانی نئی نسل کی احمت کا موجد

شہید برہان وانی نئی نسل کی مزاحمت کا موجد
اقوام متحدہ نے برہان وانی کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مبنی پہلی آفیشل رپورٹ کا باقاعدہ حصہ بنایا۔ اس رپورٹ کا برہان وانی کی 08 جولائی کو دوسری برسی کے قریب جاری ہونا ایک موافقت ہے اور یہ رپورٹ ایک نوجوان کشمیری سرگرم کارکن کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جسے عسکریت پسند ثابت کر کے اس کی میراث کو بدنام کرنے کی بے پناہ کوشش کی گئی ہے۔ بائیس سالہ برہان وانی، جس کا وسیع معنوں میں حریت پسند رہنماؤں جارج واشنگٹن اور گاندھی سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، اب کشمیر میں تحریک آزادی کی ایک علامت بن کر ابھرا ہے۔ اسی نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر کئی سالوں کی نظر اندازی کے بعد دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سب سے اوپر لا کھڑا کیا ہے۔ انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ (یوتھ فورم فار کشمیر) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ مورخ، صحافی اور سیاستدان ، برہان وانی کی اصل شناخت کو بحال کریں۔ میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی پالیسی کو درست کرے۔ برہان وانی کی میراث کا احترام کرے اور اس کی برسی کے موقع پر سالانہ بنیادوں پر بھارت اور کشمیر میں ذرائع ابلاغ کے اداروں پر دباؤڈلوا کر اس دن کو منانے سے باز رکھنے کی حکمت عملی کو بند کرے۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر شہید برہانی مظفر وانی کی دوسری برسی پر مزاحمتی جماعتوں نے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حصول مقصد تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے برہان مظفر وانی کو کشمیر کی آن، بان، شان اور فخر قرار دیتے ہوئے ان جملہ نہتے کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جنہیں 2016ء کے دوران مارا گیا گیا۔ پارٹی نے ان ہزاروں زخمیوں کو بھی یاد کیا جنہیں وردی پوش اہلکاروں نے ان کی آزادی پسندی کی سزا دی۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (حقیقی) کے چیئرمین جاوید احمد میر اور پیپلز پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین ہلال احمد وار نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں دی جا رہی قربانیوں کی حفاظت کرنا ہم سب کا اولین فرض ہے اور شہدائے کشمیر اور کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی آواز کو ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔ جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے محبوس چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اور قائمقام چیئرمین سید محمد شفیع نے کہا ہے کہ 2016ء کے عوامی انتفاذہ نے کشمیریوں کی جددجہد کو نئی جلا اور نیا ولولہ عطا کیا ہے اور کشمیری عوام کو تحریک آزادی سے متعلق کافی حساس اور سنجیدہ بنانے میں مدد کی۔ خان سوپوری نے برہان وانی کو قوم کا ایک مایہ ناز ثپوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی تحریک آزادی کشمیر اور ان کے مقدس لہو کی بازگشت دنیا کے تمام بڑے ایوانوں سنائی دی ہے وہ کم عمری کے باوجود ایک سلجھے ہوئے سرفروش تھے اور ان کے اسی کردار نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی جان عطا کی۔آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ برہان وانی کشمیر کا نڈر سپوت تھا جس کی عظیم شہادت نے تحریک آزادی کو نیا ولولہ اور جوش عطا کیا۔ مقبول بٹ شہید سے لیکر برہان وانی شہید اور اس سے لیکر آج تک دھرتی ماں کی آزادی کیلیے اپنی جانیں نچھاور کرنیوالے عظیم بیٹوں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔کشمیری بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر سے بھگا کر دم لیں گے۔ بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض فورسز کے ہاتھوں شہید کیا گیا بائیس سالہ کشمیری نوجوان اور حریت پسند برہان مظفر وانی ایک ہونہار طالب علم تھامگر جب اس نے دیکھا کہ بھارتی فوج ظلم وجبر کی تمام حدیں پار کر چکی ہے تو وہ میدان عمل میں آ گیا۔ برہان وانی پوری کشمیری قوم کا ہیرو ہے۔ برہان وانی کو کشمیر میں بھارتی ذلت آمیز رویے کے خلاف غصہ تھا اور وہ اپنی سرزمین پر بھارتی جابرانہ قبضے کے خلاف تھا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد جنم لینے والے احتجاجی مظاہروں کی شدت نے اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کو خاموشی ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے سال 2016 سے انسانی حقوق کونسل جنیوا کے ہر اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور اب جون 2018 میں اقوام متحدہ کی کشمیر پر پہلی عالمی رپورٹ میں برہان وانی کا نام لیا۔ رپورٹ سے پانچ دہائیوں میں پہلی مرتبہ کشمیرعالمی ایجنڈے میں سرفہرست آیا۔ اقوام متحدہ نے برہان وانی کے ساتھ ساتھ کنن پوشپورہ اجتماعی جنسی زیادتی جیسے کئی دبے ہوئے بھارتی مظالم بھی اقوام عالم کے سامنے عیاں کر دیئے ہیں۔ آج برہان وانی کشمیر کی پرامن تحریک آزادی کی علامت بن گیا ہے اورآج اس کا نام اقوام متحدہ کی دستاویزات کا حصہ ہے۔ہم آج کے دن اس مجاہد کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے عہد کرتے ہیں کہ اس کی مشن کی تکمیل کیلیے ہر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ آزادی کشمیر تک برہان وانی کا مشن جاری رہے گا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی متحدہ قیادت تحریک آزادی کشمیر کو اپنی بصیرت سے صحیح سمت پر لے کر چل رہے ہیں جسے پوری جہادی قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ ان اقوام متحدہ اور بھارتی قیادت نے جموں کشمیر کی عوام کو استصواب رائے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ستر برس گزرنے کے باوجود عالمی برادری بھارت سے اپنے ہی قانون پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی ہے۔ کشمیری عوام بیالیس سال کی پرامن جدوجہد کے بعد با لآخر ہندوستان کے فوجی قبضے کے خلاف بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ بھارت نے ہماری پرامن تحریک کو دبانے کیلئے پوری ریاستی مشینری کا استعمال کیا، فوجی طاقت سے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کی ، محمد مقبول بٹ ، محمد افضل گورو کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا گیا غرض کشمیریوں کی عزت جان مال سب بھارت کے فوجی نشانے پر ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی جموں کشمیر کی ڈیڑھ کروڑ عوام کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ کشمیریوں کے حق میں اقوام متحدہ میں اٹھاراں قراردادیں پاس ہوئی ہیں مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ اگر عالمی برادری جنوبی ایشیاء پاک وہندکے درمیان امن کی خواہاں ہے تو اْسے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی قانونی ، اخلاقی ، ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔

About Admin

Google Analytics Alternative