Home » کالم » فصیل حرف » شہید کی جو موت ہے
tragvi

شہید کی جو موت ہے

اڑی حملے میں سہولت کاری کے شبہ میں گرفتار کیے گئے دو کشمیری نوجوانوں کو ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر بھارت نے آخر رہا کردیا.بھارت نے دونوں لڑکوں کو گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار کیا تھا.بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے اپنی حتمی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔دونوں لڑکے پاکستان کے زیر آزاد کشمیر کے رہائشی ہیں اور اپنے والدین سے تعلیم کے معاملے پر جھگڑا کرکے غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔دونوں لڑکوں کے بیانات اور ان کے موبائل کے تکنیکی تجزیوں کی صورت میں حاصل ہونے والے ثبوتوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کا اڑی میں فوجی کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے کوئی تعلق تھا۔دونوں لڑکوں کے خلاف کیس بند کرکے انہیں پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے.پچھلے سال ستمبر میں اڑی واقعہ پیش آیا تو بھارت نے پاکستان کے خلاف خوب آسمان سر پر اٹھایا اور پھر جو الزام اس کے منہ میں آیا بکا.اسی طرح جو ہاتھ لگا دھرلیا گیا.فیصل اور احسن بھی ان بدقستموں میں شامل تھے جو بھارتی سیکورٹی اداروں کے ہاتھ لگے اور چھ ماہ تک اذیت ناک پوچھ گچھ کے مراحل بھگتے.معصوم بچوں کو رہا توکردیا گیا لیکن بے گناہ گرفتاری پر معذرت نہ کی.آخر بھارتی سورماں کو کب عقل آئے گی اور یہ بہتان تراشی کا سلسلہ کب رکے گا.عادت سے مجبوربھارتی میڈیا نے اب کشمیر کی جدوجہد آزادی اور ممبئی انڈر ورلڈ کے درمیان تعلق جوڑنے کی کوشش میں جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے.ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بھارت کے تقریبا تمام بڑے میڈیا اداروں کی طرف سے جماعت الدعو کے سربراہ حافظ سعید اور ممبئی انڈر ورلڈ کے ڈان داد ابراہیم کے حوالے سے یہ دعوی کیا گیا کہ داد ابراہیم بھی کشمیر میں شورش کو ہوا دینے میں ملوث ہوگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بعض بھارتی چینلز پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ حافظ سعید کے بیٹے نے یوم کشمیر پر پاکستان کے اندر ایک نامعلوم مقام پر عوامی ریلی کو بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسانے کی کوشش کی اور ان پر زور دیا کہ وہ بھی داد کی طرح بنیں۔تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ بھارتی میڈیا پر اس حوالے سے چلنے والی خبروں اور اس کے فالو اپ میں جو مواد پیش کیا گیا ان کی درست طریقے سے چھان بین نہیں کی گئی۔مثلا”معروف نیوز چینلز بشمول ایشیا نیوز انٹرنیشنل، ٹائمز آف انڈیا، ژی نیوز اور ڈی این اے نے دو اور تین مارچ 2017 کو اپنی رپورٹس میں کہا کہ ‘حال ہی میں سامنے آنے والی ایک وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طلحہ سعید یوم کشمیر (5 فروری) کو پاکستان میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو بھارت پر حملہ کرنے پر اکسارہے ہیں جبکہ وہ انہیں مفرور بھارتی انڈر ورلڈ ڈان داد ابراہیم سے متاثر ہونے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں.حتی کہ یہاں تک کہا گیا کہ حافظ سعید کے بیٹے کی گزشتہ ماہ کی تقریر کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جائے کیوں کہ وہ داد ابراہم کو دہشت گرد سرگرمیوں سے بھی منسلک کررہے ہیں.لہذااب ہمیں بہت زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے خاص طور پر اس لیے کہ داد نے جماعت الدعو سے ہاتھ ملالیا ہے اور وہ مل کر دہشت گردی پھیلائیں گے۔صرف یہی نہی بلکہ یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ بھارت میں ہونے والے متعدد سنگین جرائم کے الزام میں مطلوب داد ابراہیم بھی پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں تاہم اس الزام کو ثابت کرنے کے حوالے سے ٹھوس شواہد کبھی فراہم نہیں کیے گئے۔مئی 2015 میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں داخل کرائے جانے والے جواب میں خود اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ بھارتی حکومت کو داد ابراہیم کی موجودگی کے بارے میں کچھ علم نہیں۔بھارتی میڈیا کی جانب سے کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے۔کبھی انہیں باغی کبھی انتہا پسند کبھی شر پسند کبھی دہشت گرد لکھا یا پکارا جاتا ہے.یہاں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس ضمن مسلم میڈیا بھی کم نہیں جسے شہادت اور ہلاکت میں بھی تمیز نہیں ہے۔اس پر ظلم یہ کہ قابض بھارتی فوج کا کوئی اہلکاراگر کسی کارروائی میں مارا جائے تو اسے martyr (شہید) لکھ دیا جاتا ہے.اگلے دن ایک جاننے والے نے بیرون ملک سے Jordan Timeکا لنک وٹس اپ کیا جس میں 13فروری کو کشمیر بارے چھپنے والی ایک رپورٹ میں حق خودارادیت کے لیے شہید ہونے والوں کو دہشتگرد اور مارے جانے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کو شہید لکھا گیا.یہ حقیقت ہے کہ خود پاکستان کے بعض انگریزی اخبارات اس معاملے میں یہی کچھ کررہے ہیں.بابائے قوم کی تصویر اپنی پیشانی کے ساتھ سجانے والے میڈیا ہاس کا تو یہ وطیرہ ہے کہ وہ پاک فوج کے حوالے سے بھی اسی طرح کی بدیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے.اوپر جارڈن ٹائم کی جس رپورٹ کا ذکرکیا گیا ہے جب اخبار انتظامیہ سے بھارتی فوجیوں کو شہید لکھنے کی وضاحت طلب کی گئی تو اس نے حوالے کے طور پر پاکستان کے مذکورہ انگریزی اخبار کے تین لنک شیئر کردیئے.اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل خرابی اپنے گھر کے اندر موجود ہے.کشمیریوں کی جدوجہد کو اس طرح سبوتاژ کرنا قابل مذمت ہے.اس جدوجہد کو اقوام متحدہ کی قراردوں کی مکمل حمایت حاصل ہے.سوائے بھارت کے بین الاقوامی سطح پر اس جدوجہد کو جائز قرار دیا جاتا ہے جبکہ بھارتی افواج کی کارروائی کو جرم کہا جاتا ہے.مثلا” گزشتہ سے پیوستہ برس ستمبر 2015 میں ایک رپورٹ سامنے آئی جس میں عالمی اداروں سے اپیل کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے مطالبے کو کشمیر میں لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ان کے تحفظ سے مشروط کیا جانا چاہیے.اس رپورٹ کو انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز نے دو سال میں تیار کیا تھا۔رپورٹ میں فوج، نیم فوجی اداروں اور پولیس کے 267 سینیئر افسروں سمیت 972 اہلکاروں کو انسانیت کے مختلف جرائم میں ملوث قرار دیا گیا تھا.بی بی سی نے اس رپورٹ پر اپنے تجزیہ میں لکھا تھا کہ 26 سالہ شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے جب کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اس نوعیت کی ہمہ جہت رپورٹ تیار کی گئی.اس رپورٹ میں 1080 حراستی ہلاکتوں 172 حراستی گمشدگیوں اور جنسی زیادتیوں اور حراست کے دوران جسمانی اذیتوں کے متعدد واقعات کی تفتیش کی گئی۔عالمی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ ان اشخاص کے بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد کی جائے۔ اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی گئی کہ ایسے اہلکاروں کو قیام امن کی عالمی فورسز کا حصہ نہ بنایا جائے۔جموں کشمیر میں موجود چھ ہزار گمنام قبروں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔ 2008 میں یورپی پارلیمنٹ میں ایک قرار داد کے ذریعے بھی یہی مطالبہ کیا گیا تھا۔800 صفحات پر مشتمل مذکوتہ بالا رپورٹ امریکی دانشور اور سیاسی رضاکار ایلی ویزا کے اس قول سیشروع ہوئی کہظلم و ستم کے بیچ جانبداری ظالم کی طرفداری کے مترادف ہے اور خاموشی جابر کے ہی ہاتھ مضبوط کرتی ہے۔جہاں بھی مرد وخواتین نسل، مذہب یا سیاسی آرزوں کی پاداش میں ستائے جائیں وہ کائنات کا مرکز ہونا چاہیے۔ایک طرف یہ عالم ہے کہ دنیا قابض بھارتی افواج کی کارروائیوں کو مجرمانہ قرار دے کے مذمت کررہی ہے تو بعض اپنے میڈیا کے مہربان بھارت کی ہمنوائی میں زمینی حقیقتوں کو پامال کر کے میر جعفروں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں.انہیں شاید نہیں معلوم کہ شہید کی جو موت ہوتی ہے اس میں قوموں کی حیات ہوتی ہے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative