Home » کالم » اداریہ » صاف و شفاف احتساب وقت کی ضرورت
adaria

صاف و شفاف احتساب وقت کی ضرورت

adaria

قومی احتساب بیورو نے پنجاب حکومت اور افسران کی ہڑتال دھمکی اور احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کرپشن کیخلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور نیب انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود اپنا کام قانون، میرٹ، شفافیت اور انصاف کے مروجہ اصولوں کے مطابق کرتا رہے گا، نیب کسی قسم کی دھمکی، سرزنش، احتجاج یا تنبیہ کو اپنے قانونی کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے گا۔ احد چیمہ کی گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی اور اس ضمن میں نیب کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں، ریمانڈ کے اختتام پر صورتحال کی مزید وضاحت معزز احتساب عدالت میں رپورٹ کی صورت میں پیش کی جائے گی، زیب داستان کیلئے کوئی کچھ بھی کہے اس کا جواب معاملہ کے عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا تاہم نیب اس بات کی مکمل یقین دہانی کرواتا ہے کہ کسی بھی امتیازی سلوک کا کوئی احتمال نہیں نہ ہی کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ وہ گا، نیب کا سیاست یا کسی سیاسی جماعت یا گروپ سے کوئی تعلق نہیں، نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف اور صرف پاکستان، آئین پاکستان اور پاکستان کے عوام سے ہے، نیب لاہور میں رینجرز کی تعیناتی احد چیمہ کی حفاظت اور متعلقہ ریکارڈ کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) میں تناؤ کے تناظر میں نیب لاہور آفس کی سیکیورٹی اور حفاظت کیلئے رینجرز کی ایک اضافی کمپنی تعینات کردی گئی۔رینجرز کی اضافی کمپنی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی درخواست پر تعینات کی گئی ہے۔کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے اور نیب آفس کی حفاظت کیلئے رینجرز کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ قومی احتساب بیورو ( لاہور) نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ کرپشن کیس میں کارروائی کرتے ہوئے بسم اللہ انجینئرنگ سروسز کے پارٹنر ملزم شاہد شفیق عالم کوگرفتار کر لیا ۔نیب ترجمان کے مطابق ملزم کو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی انکوائری میں تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا،ملزم شاہد شفیق کی ملکیتی بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، پیراگون سٹی کی سی 4 کیٹیگری کی ذیلی کمپنی ہے،پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی سے 20جنوری 2015کو معاہدہ کیا گیا جس میں 16ہزار غریب شہریوں نے آشیانہ اقبال کیلئے 61کروڑ روپے جمع کروائے،تین سال گزرجانے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، کاسا کمپنی تین کمپنیوں بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، سپارکو اور چائنہ فرسٹ گروپ کا جوائنٹ ونچر ہے،قانونی طور پر کمپنیوں کو 15 کروڑ روپے سے زائد رقم کا معاہدہ دیا جانا غیر قانونی ہے،جعلی کاغذات کے ذریعے میسرز ایم ایس سپارکو،بسم اللہ کنسٹرکشن اور میسرز چائنہ فرسٹ نامی کمپنی کو جوائنٹ ونچر کے طور پر پیش کیا گیا۔کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 1000 ملین سے زائد رقم کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بسم اللہ انجینئرنگ سروسز پیراگون سٹی کی ملکیت ہے۔ملزم کو الزامات کے دفاع کا باقاعدہ موقع فراہم کیا گیا تھا۔شاہد شفیق نے ایل ڈی اے اہلکاروں کی ملی بھگت سے 14 ارب مالیت کا کنٹریکٹ جعلی کاغذات کی مدد سے حاصل کیا۔ملزم کے ممکنہ روپوش یا ملک سے فرار ہونے کی اطلاع پر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ،شاہد شفیق کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔ نیب کے ہاتھوں بیورو کریٹ کی گرفتاری پر پنجاب کی بیورو کریسی نے جس طرح کا مظاہرہ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے بلکہ وہ سول سروس میں خدمات انجام دینے والوں کیخلاف ہی ایک عمل قرار پاتا ہے، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء میں پشاور میں سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیوروکریسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وزیراعظم اور وزیر آتے جاتے رہتے ہیں مگر آپ نے برقرار رہنا ہوتا ہے ، آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آپ کو ایک سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، سیاست کرنا آپ کا کام نہیں ہے، قائداعظم بیورو کریسی کو عوام اور قوم کا خادم قرار دیتے تھے، پنجاب بیوروکریسی نے جس طرح کا طرز اپنایا اس سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ نیب کو دباؤ میں لاکر کرپشن پر پردہ ڈالنا ہے لیکن نیب کے عزائم اس امر کا عکاس ہیں کہ وہ بلا امتیاز کرپشن کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ اس وقت ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو کرپشن زدہ نہ ہو ، کرپشن کا ناسور ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پانامہ کیس کے بعد کرپشن کی صدائیں ہر سو پھیلتی دکھائی دے رہی ہیں ایک طرف عدالتیں کرپشن کیخلاف فیصلہ دے رہی ہیں تو دوسری طرف کرپشن کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ پنجاب بیوروکریسی کا حالیہ رویہ درست نہیں ہے، اداروں کو آزادانہ طورپر کام کرنے دیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو، اداروں سے کرپشن کی تطہیر کا عمل ہی ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث قرارپاسکتا ہے، قومی احتساب بیورو کو بلاامتیاز اپنی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں کسی دباؤ دھمکی سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ۔

اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ منصف بنیں حکمران نہ بنیں، نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن ہے تو ثابت کریں،ابھی پاکستان جسٹس منیر اور مولوی تمیز الدین کیس کو رو رہا ہے،نواز شریف عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلائے تو ٹھیک ووٹ کی بحالی کیلئے عوام میں جائے تو غلط ہے ، سپریم کورٹ کے 17ججز میں سے 5جج نواز شریف کا مقدمہ سننے کیلئے بیٹھے ہیں، باقی لاکھوں مقدمات کا کیا بنے گا،نیب گواہوں کو پہلے سے تیار کرا رہا تھا وہ ہمارے حق میں گواہی دے کر چلے گئے نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کیلئے کسی کی مہر کی ضرورت نہیں ، کبھی دیکھا کہ پوری جماعت کو الیکشن سے باہر کردیا ہو، صوبے کے تحت (ن) لیگ کو سینیٹ الیکشن سے باہر کیا گیا، ,یہ مذاق نواز شریف کے ساتھ نہیں ، عوام کے ساتھ ہوا، ڈاکا ووٹ کی پرچیوں پر ڈالا گیا، عوام پر اپنی رائے مسلط کرنا آمریت ہے ، آپکی عدالت میں پاکستان کا مقدمہ لائی ہوں، آپ کی جماعت کو سینیٹ الیکشن سے اٹھا کر باہر پھینک دیا،عدلیہ بحالی کی تحریک نواز شریف نے چلائی تھی ، انتقام نے مسلم لیگ ن کو اور بھی طاقتور کر دیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد ہڑتالیں اور پوسٹروں کی مہم شروع ہوگئی، احد چیمہ نہ ہوا نیلسن منڈیلا ہوگیا۔عمران خان نے دعویٰ کیا کہاحد چیمہ شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے، یہ ایسا آدمی تھا جو اربوں کے منصوبے دیکھ رہا تھا۔اپنے کینسر اسپتال کی لاگت سے موازنہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ احد چیمہ پر 14ارب روپے کے آشیانہ ہاسنگ منصوبے میں گھپلوں کا الزام ہے جبکہ پشاور میں شوکت خاتم میموریل کینسر اسپتال 4 کروڑ میں بنا، حالانکہ ایک کینسر اسپتال کافی مہنگا ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے چن کر اپنے خاص بیوروکریٹس اداروں میں بٹھائے ہوئے ہیں، جن میں فواد حسن فواد، آفتاب سلطان، قمر زمان چوہدری، زاہد سعید، سبطین فضل علیم اور دیگر شامل ہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ اداروں سے تصادم ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ قرارپاسکتا ہے، عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ مریم نواز اپنے بیانیے کو جس انداز میں پیش کررہی ہیں اس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں ان کو چاہیے کہ قانونی میدان میں کیسوں کا دفاع کریں اور عدلیہ کو اس طرح تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative