25

صحافت ،وکالت اورنمبرپلیٹیں

چےف جسٹس آف سپرےم کورٹ سردار آصف سعےد کھوسہ نے ملتان ،ڈےرہ غازی خان اور بہاولپور بار سے اپنے خطاب مےں جہاں عدلےہ،جج صاحبان اور وکلاء کے بارے مےں تفصےلی اظہار خےال کےا وہاں انہوں نے صحافےوں اور وکلاء کی گاڑےوں پر آوےزاں نمبر پلےٹ پر پرےس اور اےڈووکےٹ لکھوانے کے حوالے سے کہا کہ ےہ مناسب طرز عمل نہےں ۔ چےف جسٹس صاحب کی ےہ بات درست ہے لےکن اس مسئلے کو آگے تک لے جانا ہو گا کےونکہ بہت سارے سرکاری ملازمےن نے بھی اپنی پرائےوےٹ گاڑےوں پر گرےن پلےٹ تک لگوائی ہوتی ہے ۔ اور کئی نے تو گرےن پلےٹ پر گورنمنٹ آف پاکستان لکھواےا ہوتا ہے ۔ کئی اہلکاروں کی گاڑےوں ،موٹر سائےکلوں کی نمبر پلےٹوں پر ہائی کورٹ،سےشن کورٹ ،ڈی سی آفس، کمشنر آفس اور کسٹم لکھے الفاظ جلی حروف مےں نماےاں نظر آتے ہےں ۔ ہمارے سماج مےں تو جو افراد حکمت ےا ہومےوپےتھک کی سند تک سے بھی محروم ہےں وہ بھی گاڑےوں کی پلےٹوں پر ڈاکٹر لکھوانے مےں کوئی عار محسوس نہےں کرتے اور شعبہ’’;77;agic‘‘ سے وابستہ افراد پروفےسر تک لکھوا دےتے ہےں ۔ چونکہ راقم شعبہ صحافت سے وابستہ ہے اس لئے چےف جسٹس صاحب کی کہی اس بات کو صحافت کے حوالے سے ہی موضوع کالم بنا رہا ہے ،گو اس پر پہلے بھی قلم آرائی کر چکا ہے ۔

تو معزز قارئےن ہمارے ہاں صحافےوں کی اتنی ہی اقسام ہوتی ہےں جتنی اخباروں کی ۔ صحافی کچے دوست ثابت ہوتے ہےں نہ پکے البتہ عوام دوست ہوتے ہےں جس کے بدلے انہےں خبرےں ملتی ہےں ۔ صحافی عموماً قناعت پسند ہوتے ہےں تھوڑے پر گزارا کر لےتے ہےں مگر بعض صحافی لائق و فائق ہوتے ہوئے بھی ہل من مزےد کی صدا بلند کرنے مےں کوئی قباحت محسوس نہےں کرتے کےونکہ صحافی کا کوئی باطن نہےں ہوتا لےکن اسے بطن تو ضرور لگا ہوتا ہے جسے بھرنے کا ہنر وہ بخوبی جانتا ہے ۔ صحافی کے پاس پےسہ ٹکہ ہو نہ ہو بڑے بڑے دولت والے اس سے گڑ گڑا کر کہتے ہےں

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دےجئیے

اخبار مےں تو مےرا نام چھاپ دےجئیے

حاکم اور صحافی اےک دوسرے کو استعمال کرنے کے گْر جانتے ہےں ۔ اےسے قلم کے خدمت گزار صحافت مےں شامل ہو چکے ہےں بلکہ گھس آئے ہےں جو لفافہ ازم ،برےفو کرےسی اور پلاٹو کرےسی کے بدلے مےں خدمت لوح و قلم کی انجام دہی مےں کوئی باک محسوس نہےں کرتے ۔ خبر اور معاوضے کے حصول کےلئے کوشاں ےہ چہرے صاحبان اختےار کی دہلےزوں پر سجدہ کناں ہوتے چشم فلک نے دےکھے ہےں ۔ بےشتر سےاستدانوں نے جوتشی ،نجومی اور فال رمل والے باقاعدہ ملازم رکھے ہوئے ہےں جو ٹےوہ لگا کر صاحب کو ےہ بتاتے ہےں کہ آئندہ سےاست کا اونٹ کس کروٹ بےٹھے گا ۔ اسی طرح کچھ مقامی اور قومی سطح پر اخبار والے بھی اس گروہ مےں شامل ہوتے ہےں جو ہوا کا رخ دےکھ کر ان کی طرف سے فوری بےان اخبار مےں داغ دےتے ہےں ۔ ےہ صحافی اپنے منفی ہتھکنڈے استعمال مےں لاتے ہوئے قلم کی طاقت سے دشمن پر بے درےغ ضربےں لگاتے جاتے ہےں اور بالآخر ان کے ےہ وار ثمر آور ثابت ہوتے ہےں اسی طرح ان کی روزی روٹی چلتی ہے اور رزق کا حصول ممکن بنتا ہے ۔ سےاسی ،سماجی اور مذہبی پارٹےوں نے بھی اپنے اپنے صحافی مےدان کارزار مےں چھوڑے ہوتے ہےں جو ان کا ہر محاذ پر دفاع کرتے ہےں ۔ ےہ ہےرو کو زےرو اور زےرو کو ہےرو بنانے کے گر بھی خوب جانتے ہےں ۔ ظہرانوں اور عشائےوں مےں شرکت ان کی صحافتی سرگرمےوں کےلئے ضروری ہے ۔ ماضی قرےب مےں چوہدری نثار کا ےہ بےان منظر عام پر آےا تھا کہ مےڈےا کا لبادہ اوڑھے لوگوں مےں اربوں روپے بانٹے گئے ۔ چشم کشا ہے اس سے مراد شاید ےہی ہے کہ اربوں کے حصول کےلئے صحافی ہونا ضروری نہےں لبادہ ہونا ضروری ہے ۔ ےہ سب لبادے کا کمال ہے اس بےان کا غور طلب پہلو بھی ےہی تھا کہ اےسا لبادہ کہاں سے مہےا ہو سکتا ہے ،ےہ کس بازار اور مارکےٹ سے دستےاب ہے ےہ نہ ہو کہ اس کی قےمت بھی ہماری پہنچ اور دسترس سے باہر ہو اور قےمت اربوں کھربوں مےں نہ ہو

پھرتے ہےں مےر خوار کوئی پوچھتا نہےں

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

وےسے چوہدری نثار کا ےہ فرمودہ صحافےوں کی عزت نفس اور تقدس کار کے حوالے سے درست نہےں تھا ۔ استثنائی کےسز تو ہر جگہ ہوتے ہےں ۔ جرم کےلئے ثبوت چاہیے وگرنہ ےہ الزام تراشی اور کذب مےں ہی شمار ہو گا ۔ قدےم ےونانی مفکر ارسطو کا قول بھی ہے کہ دنےا بھر کے مختلف معاشروں مےں اےک معاشرہ بھی اےسا نہےں ہے جس کی سو فےصد آبادی فرشتوں پر مشتمل ہو ۔ لبادہ پہنے سوساءٹی مےں کچھ کالی بھےڑےں سفےد لبادے مےں ملےں گی ۔ وےسے جن کے ہاتھوں مےں قلم ہے ان کا جائزہ لےنے کی بھی ضرورت ہے کہ قلم کے پےچھے کچھ ہے ےا ہاتھ ہی ہاتھ ہے کہےں ان کی قلم سب کچھ قلم کرنے پر تو کمر بستہ نہےں ۔ صحافت مےں کوئی منافقت نہےں اس مےں کسی حسب و نسب کا دخل نہےں بس اتنا ہے اخبار کا ڈےکلیر ےشن لو ،کشتی پر سوار ہو جاءو کا ثقہ فارمولہ راءج الوقت کی حےثےت اختےار کر گےا ہے ۔ اخبار کی ہمہ گےر اہمےت کو پےش نظر رکھتے ہوئے اردو ادب کے مشہور شاعر اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا

کھےنچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

گر توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

معزز قارئےن آپ کبھی سڑک کے کنارے کھڑے ہوں تو آپ کے مشاہدے مےں ےہ بات آئے گی کہ ہر دسوےں کار اور پانچوےں موٹر سائےکل پر ;80;ress کی پلےٹ آوےزاں ہو گی ۔ کچھ عرصہ قبل کہےں اےک دلچسپ واقعہ پڑھا تھا کہ ٹرےفک پولےس نے اےک موٹر سائےکل سوار کو روکا جس نے موٹر سائےکل کے پےچھے اےک بڑا بنڈل رکھا ہوا تھا اور موٹر سائےکل کی نمبر پلےٹ پر بہت بڑا ;80;ressلکھا ہوا تھا ۔ پولےس والے پرےس لگی موٹر سائےکل سوار سے ذرا ہچکچاتے ہےں ۔ اس نے احتراماً پوچھا سر پےچھے کےا رکھا ہوا ہے ۔ موصوف نے جواب دےا کہ کپڑے ہےں ۔ پولےس والے نے ’’ٹوہ ٹاہ ‘‘ کے او کے کر دےا ۔ دوسرے پولےس والے نے بھی شائستگی و ملائمت کو برقرار رکھتے ہوئے پوچھا سر آپ کون سے اخبار مےں ہوتے ہےں ۔ دراصل پولےس والے صحافےوں کےلئے نرم گوشہ رکھتے ہےں کےونکہ زےادہ پوچھ گچھ سے ہمارے بھائی مائنڈ کر جاتے ہےں چونکہ ےہ حساس طبع واقع ہوتے ہےں اور سخت و درشت لہجہ ان کے طبع نازک پر گراں گزرتا ہے اس لئے وہ منہ سے نہےں بولتے اور گفتگو مےں خاموشی کی حکمت پر عمل کرتے ہوئے صرف بےنائی کوکا م مےں لاتے ہےں ۔ جب تک انسان کلام نہےں کرتا اس کے عےب و ہنر چھپے رہتے ہےں ۔ خےر موٹر سائےکل سوار نے جواباً کہا کہ مےں اخبار مےں کام نہےں کرتا ۔ پولےس نے مزےد استفسار کرتے ہوئے کہا تو پھر کس پرنٹنگ پرےس مےں ہوتے ہےں ۔ اب پولےس والے کی ٹون تبدےل ہوتی جا رہی تھی ۔ موٹر سائےکل سوار نے کہا جی نہےں مےں پرنٹنگ پرےس مےں بھی کام نہےں کرتا ۔ اب پولےس والا اصلی ٹون پر آنے لگا اور کہا اوئے تم پھر کےا کرتے ہو اب موٹر سائےکل سوار نے احتراماً جواب دےا سر مےں کپڑے پرےس کرتا ہوں ۔ پھر قارئےن آپ جانتے اور سمجھتے ہےں کہ کےاہوا ہو گا ۔ اب تو گھروں مےں دودھ سپلائی کرنے والوں ، چاند گاڑےوں اور پک اپ پر بھی اکثر ;80;ressکی پلےٹ دکھائی دےتی ہے ۔ چار دہائی قبل چند صحافی اپنی شناخت کے ساتھ پرےس کانفرنس مےں موجود ہوتے تھے اور ےہ اےک دوسرے سے مکمل شناسائی رکھتے ۔ مگر آج پرےس کانفرنسوں ،مقامی اور نجی تقرےبوں مےں اےسے افراد کی اکثرےت دکھائی دےتی ہے جو خود کو صحافی ظاہر کرتی ہے حالانکہ ورکنگ جرنلسٹ تو گنتی کے ہوتے ہےں ۔ ماضی مےں غالباً کسی موٹر سائےکل ےا گاڑی پر ;80;ressکی پلےٹ شاذو نادر آوےزاں ہوتی ۔ پھر سماج کی تبدےلی کے ساتھ ساتھ معاشرہ اور تہذےب بھی تغےر پذےر ہونا شروع ہوئی ۔ دھڑا دھڑ مردوخواتےن کے نئے نئے چہرے سےلابی شکل مےں امڈتے چلے آئے نئے نئے اخبار آنا شروع ہوئے ۔ آج پرےس کانفرنسےں جلسہ عام کے مناظر پےش کرتی ہےں ۔ پرےس کی نمبر پلےٹ کا تو ےہ عالم ہے کہ پرنٹنگ پرےس سے لےکر ہفت روزہ والوں نے بھی بڑا نماےاں پرےس لکھا ہوتا ہے صحافےوں کے ےار دوست اور عزےز و اقرباء بھی اپنی گاڑےوں پر پرےس لکھوا کر کر اس کا استعمال کرتے ہےں ۔ ہمارے سماج کے دستور مےں بھی ہر اےک نمبر کا دو نمبر ضرور ہوا کرتا ہے ۔ کہتے ہےں کہ، ثبات اک تغےر کو ہے زمانے مےں ۔ شعبہ صحافت کو ےہ نئی وراءٹی بھی اس تغےر کی بدولت نصےب ہوئی ہے ۔ اسی تغےر کے زےر اثر صحافےوں کی اےک فوج ظفر موج بھی مےدان صحافت کی خارزار وادی مےں اتر کر اس کی سپاہ بن چکی ہے ۔ اس سنگےن مسئلہ پر توجہ دےنے کی ضرورت ہے تا کہ سماج کے تےزی سے انحطاط کے سفر کو روکا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں