Home » کالم » صحت مند معاشرے کے خد وخال!
syed_sherazi

صحت مند معاشرے کے خد وخال!

ایک ڈاکٹر جنھیں ہم اکثرمریضوں کے بھیڑ دیکھتے تھے اور اوپی ڈی ہی میں ان سے ہماری ملاقات ہوتی تھی ، ان کے ساتھ تھوڑی سی ملاقات سے ہ میں بہت خوشی ہوتی تھی ،وہ صرف نسخے ہی نہیں لکھتے تھے بلکہ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اکثراوپی ڈی میں بھی مریضوں کیلئے نسخہ لکھتے لکھتے بھی ان پر شعروں کا نزول شرو ع ہوجاتاتھا اور اچھا خاصا شعر لکھ لیتے تھے ،ملاقات پر ایک ادھ غزل ہ میں بھی پکڑادیتے تھے ،غیر مطبوعہ شکل میں ان کا کلام اب بھی ہمارے پاس موجود ہے جو ان کی یاد دلاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے ’’ڈبلیو ایچ او کی تعریف کے مطابق صحت صرف جسمانی صحت کا نام نہیں بلکہ کسی بھی انسان کے جسمانی ، معاشی، معاشرتی اورروحانی طور پر ٹھیک ٹھاک ہونے کے عمل کا نام ہے اور محض بیماری کا نہ ہونا صحت مند ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ اس تعریف کو مد نظر رکھا جائے تو ہم میں سے ہر دوسرا شخص مریض ہے ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں تو اس شخص کو بیمار کہا جاتا ہے جسمانی طور پر کوئی بیماری یا معذوری لاحق ہو اور جب ہم صحت کی بات کرتے بھی ہیں تو ہ میں ان چار نکات میں سے کسی نہ کسی طور پر ضرور واسطہ پڑتا ہے ،کیونکہ ہم خود کسی نہ کسی طرح اس کے ظالم شکنجوں کا شکار ہیں مگر جذباتی اور روحانی صحت یامعاشرتی صحت پر تو کبھی بھی غور نہیں ہوتا حالانکہ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور روحانی طور پر بھی انسان کو صحت مند ہونا چائیے ۔ اب اگر ہم صحت مند معاشرے کی بات کرتے ہیں تو سوچنا یہ ہے کہ کس کونے سے شروع کیا جائے جب یہ نکتہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو بیشتر نے یہ کھا کہ جب تک جسمانی صحت نہ ہو ہم کچھ نہیں کرسکتے مگر اس نکتہ کو پرکھنے کیلیئے جب ہم نے عام مشاہدہ کیا تو بڑے موٹے تازے اور صحت مندافراد کو معاشی ناہمواریوں اور روحانی بگاڑ کے باعث پاگل ہوتے دیکھا ہے اور یا کسی معاشرتی برائی کے ھاتھوں ختم ہوتے دیکھا ہے اسی طرح معاشرتی صحت سے جسمانی صحت تو خریدی جاسکتی ہے لیکن روحانی صحت ایک ایسی شے ہے جسے خریدا نہیں جاسکتا ہے اسی طرح بے پناہ دولت خود ایسی برائیوں اور جذبات کو جنم دیتی ہے کہ جس سے جسمانی صحت اور معاشرتی صحت بمع روحانی صحت زوال پزیر ہو جاتے ہیں کیونکہ یا تو خود صاحب زر نے یا جام و مئے یا غرور کا نشہ کرنا ہے اور یا لوگوں نے روحانی اور جذباتی طور پر اسے اکیلے چھوڑ دینا ہے اسی طرح اگر کوئی بھت صحت مند بھی ہو تو اسے باقی تین کھٹکے لاحق رہتے ہیں البتہ اگر جذباروحانی طور پر کوئی انسان توازن رکھتا ہو تو وہ اوروں کی بہ نسبت کم خطرے میں ہوتاہے ۔ ہمارے ملک میں جتنی بھی تنظی میں کام کررہی ہیں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ان میں صحت کی شروعات جسمانی صحت سے کی جارہی ہے ، حالانکہ ہمارے جیسے معاشرے کو اس سے ذیادہ باقی نکات کی بیماریاں لاحق ہیں کیاہمارے پاس کوئی ایسا ظابطہ حیات نہیں ہے کہ جس سے ہم ان تمام نکات پربیک وقت کام کرسکیں ;238; ایک معاشی صحت ہماری قوم کو دیمک بن کر جسمانی ،معاشرتی اور روحانی طور پر ہلاکے رکھ دیگی اور ہم ایک ایسی نفسا نفسی کا شکار ہوجائینگے کہ ہماری صحت کی باقی تین کونے صحت مند ہونے کے باوجود چوتھے ایک کونے کی وجہ سے تباہ ہوجائینگے ،کیا یہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ نہیں ہے ;238; ۔ ہماری قوم کی یہ بھی عادت بن چکی ہے کہ ہر کام دوسروں سے شروع کرتے ہیں اگر وہ معاشی حیثیت کانہ ہو تو ;238464646464646;آج اگر ہم یہ چوکور اپنے سامنے رکھیں اور خود سے خود آگاہی کا سفر شروع کریں اور اپنی اصلاح کریں صحت کے حوالے سے ِتو کیا ہمارا معاشرہ صحت مند معاشرہ نہیں بن سکتا;238;جب ہم خود بھی خود آگاہ ہوجائینگے تو ہم معاشرے کے کاریگر فرد بن جائینگے جن پر معاشرہ فخر کر سکے گا کیونکہ فرد ہی سے تو معاشرہ وجود میں آتا ہے اور جب ہم میں ہماری خوداگاہی پیدا ہوجائیگی اور شعور بیدار ہوجائیگا تو ہ میں پھر کسی فارن ایڈ کی ضرورت نہیں رہیگی ہم صرف خود کو روحانی اور جذباتی طور پر صحت مند رکھیں اور اپنے عزیزوں کی بھی اس پیرائے میں مدد کریں تو اس سے معاشرتی اور جسمانی صحت حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ آدھی بیماری تو تیماداری اور حوصلے سے ٹھیک ہوجاتی ہے اور اگر یوں ہم سب ایک ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم معاشی طور پر پسماندہ رہ جائیں کیونکہ انقلاب کے بعد معاشرے کا ہر فرد جو معاشرہ وجود میں آتا ہے اس کا ہر فرد صحت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے اور وہ فارن ایڈ کا انتظار نہیں کرتا ہے بلکہ وہ عالمی برادری کا ایک ذمہ دار ملک بن کر بین الاقوامی دنیا کی مدد کرتا ہے! ۔

About Admin

Google Analytics Alternative