Home » کالم » اداریہ » صدرمملکت اورچیئرمین نیب کاکرپشن کے حوالے سے فکرانگیزخطاب
adaria

صدرمملکت اورچیئرمین نیب کاکرپشن کے حوالے سے فکرانگیزخطاب

adaria

کرپشن کے حوالے سے صدرمملکت اور چیئرمین نیب کا خطاب انتہائی قابل توجہ ہے، صدرمملکت نے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مشرقی پاکستان کرپشن کی و جہ سے الگ ہواتھا پھرچیئرمین نیب نے کہاکہ اگرکرپشن کے خلاف سزائے موت ہوتو آبادی کم ہوجائے گی یہ دونوں بیانات موجودہ حالات کے اعتبارسے انتہائی اہم ہیں ،ملک کادولخت ہوناکوئی چھوٹاسانحہ نہیں یعنی کہ کرپشن ایک ایسا ناسورہے جس سے ملکوں میں شکست وریخت کاعمل شروع ہوجاتا ہے پھرسونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے ملک میں تو کرپشن اس قدرسرایت کرچکی ہے اس کاخاتمہ بہت مشکل نظرآتاہے ،مسئلہ دراصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صر ف ہمارے ملک کاہی نہیں دنیابھرکاہے ہرسال بین الاقوامی سطح پرچھبیس کھرب ڈالرسالانہ کرپشن کی نذرہورہے ہیں ان کو کیسے روکاجاسکتاہے یہ ایک ایسی دردسری ہے جس سے کسی نہ کسی صورت جان چھڑانالازمی ہے ،کیا ہمارے ملک کا ہردوسراشخص کرپٹ ہے اس کاذمہ دارکون ہے؟ ہمیشہ الزام عائد ہوتا ہے کہ گزشتہ حکومت سے خزانہ خالی ملا،کرپشن میں مال ودولت بہادی گئی کیا یہ عوام کاقصورہے؟قطعی طورپرنہیں، غریب بے چاراتوچائے پیئے تو اس پربھی ٹیکس اداکرے ماچس کی ڈبی تک خریدی تواس کابھی ٹیکس دے گا لہٰذا کرپشن کے ذمہ داروہ بااختیارحکمران ہیں جو خزانے کو خالی کرتے ہیں غریب عوام توبھرتی ہی رہتی ہے۔گزشتہ روز انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر میں منعقدہ نیب کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ اربوں ڈالر چوری کر کے ملک سے باہر بھیجے گئے اور دو چار ارب کیلئے بھیک مانگتے پھرتے ہیں،خوف خدا ہو تو قانون اور عدالت کی ضرورت ہی نہ ر ہے، کرپشن کم کرسکتے ہیں مگر اس پر مکمل قابوپانا مشکل ہے، پاکستان سے کرپشن کا لیکج بند کرنا ہوگا اور بدعنوان عناصر کے اثاثوں کے حوالے سے پوچھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی ہے، بدعنوانی پوری انسانیت پر حملہ ہے، کوئی معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ قانون پر عمل نہ ہونے سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ آنے والی نسلوں کیلئے بدعنوانی سے پاک معاشرے کا ایجنڈا اہم ہے حکومت اورحکمران کوسچا اورامانت دارہونا چاہیے، اگر قانون ہوں اوراس پرعملدرآمد نہ ہو تو اس قانون کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔اس موقع پرچیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ95 ارب کہاں خرچ ہوئے یہ پوچھنا کون سی گستاخی ہوگئی، ڈکٹیشن لینگے نہ انتقام، جنکے پاس پہلے موٹر سائیکل تھی اب دبئی میں ٹاور ہیں، نیب نے پوچھ لیا تو کون سا جرم کیا، جو کریگا وہ بھگتے گا، یہ غیر اہم ہے کہ وہ وزیراعظم تھے یا وزیر اعلیٰ۔ حکومت اور ریاست میں بنیادی فرق ہے جو سب کو ذہن نشین کرنا چاہیے ، حکومتوں نے آئین کے تحت آنا ہے اور آئین کے تحت انہیں جانا ہے اسلئے کسی حکومت وقت کو یہ احساس ناگواری نہیں ہونا چاہیے کہ نیب میں تابعداری کا جزوذرا کم ہے یا یہ حکومت وقت کی طرف بھی کیوں دیکھ رہا ہے،اگر آپ گزشتہ ادوار کی کرپشن کو دیکھ سکتے ہیں تو آپ پر کوئی آئینی یا قانونی قدغن نہیں ہے کہ آپ حکومت وقت کی کسی کرپشن کو نہیں دیکھ سکتے یا اسکو نظر انداز کرنے کو ئی جواز آپکے پاس ہے، جب بھی کسی سے پوچھا ہے یہ گزارش سامنے رکھ کر پوچھا ہے کہ کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچے لیکن اس میں اتنا حساس بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اگر آپ سے ایک بات پوچھی گئی ہے تو جواب دینا آپ کے فرائض میں شامل ہے اور پوچھا بھی صرف اس وقت ہے جب دیکھا ہے کہ پانچ لاکھ کی جگہ50 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور 50 لاکھ کی جگہ 50 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور 50 کروڑ کی جگہ اربوں میں خرچ ہوا جس کا نہ تو کوئی جواز تھا اور نہ وجوہات تھیں کہ وہ مطمئن کر سکیں کہ ہم نے ایسا کیوں کیا۔ سوائے اسکے کہ ہم اس عہدے پر متمکن تھے اور ہم یہ کر سکتے تھے ،یہ غریب عوام کا پیسہ ہے،پاکستان کی عوام اتنی معصوم اور سادہ لوح نہیں ہے کہ وہ اب اچھے اور برے میں تمیز نہ کر سکیں۔ انہیں پتہ ہے اجالا کیا ہے ، اندھیرا کیا ہے، تیرگی کیا ہے، کون اجالا دور کر رہا ہے اور کون اندھیرے پھیلا رہا ہے،کون مایوسیوں کی گھٹائیں برسا رہا ہے اب ایسا نہیں ہو گا۔

ملکی ترقی میں کراچی کااہم کردار
وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں انتہائی مصروف دن گزارا اورمختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں جس میں شہرقائدکودرپیش مسائل پرسیرحاصل گفتگو کی گئی۔ یہ سب کومعلوم ہے کہ کراچی پاکستان کامعاشی حب ہے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایک مختلف سوچ لے کر آئی ہے بزنس اور سرمایہ کاری کوتحفظ دیں گے درآمدات اور برآمدات میں فرق کو کم کرنے پر بھر پور توجہ ہے کاروبارکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو نوٹس دیکر اب بلا یا یا ہراساں نہیں کیا جائے گاکرپشن کا مکمل خاتمہ کرکے رہیں گے بہت جلد اس مشکل وقت سے نکل آئیں گے دائمی امن ہی کراچی کو ترقی کی منازل پر لے جاسکتاہے ۔ صحت ، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بھی وفاق سندھ حکومت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا تجاوزات آپریشن میں کسی سے زیادتی نہیں ہوگی متاثرین کا ازالہ کیا جائے گا۔ پچاس سال پرانی لیز والوں کیلئے پٹیشن دائر کی جائے گی۔ انٹیلی جنس اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کے نظام کومضبوط بنایا جائے۔ دہشت گردوں کو ہر صورت بے نقاب کیا جائے گا کراچی کو امن کی طرف واپس لا کر جانا ہے اور کراچی کی روشنیوں کو بحال کرنا ہے۔
حج کوٹہ میں اضافہ خوش آئنداقدام
حج بیت اللہ ایک ایسی سعادت ہے جوہرمسلمان حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے ، حرم پاک اورمدینہ منورہ جانااللہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے ایک خاص کرم ،مہربانی ،عنایت ہے جو بھی یہ حاصل کرتا ہے یقینی طورپراپنی آخرت کوسنوارتاہے تاہم یہ ضرور ی ہے کہ جب اللہ رب العزت حج مبرورعطافرمائے تو اس کے بعدبقیہ زندگی اسلامی احکامات اورقرآنی تعلیمات کے تحت گزارناچاہیے ،ہرسال حج مبارک آتاہے چونکہ پاکستان اورسعودی عرب کے خصوصی تعلقات ہیں اور الحرمین الشریفین کی حفاظت کے لئے مسلمان کابچہ بچہ کٹ مرنے کیلئے تیاررہتاہے ۔حج کے حوالے سے پا کستان اور سعودی عرب کے درمیان حج2019کا معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ ترجمان مذہبی امور کے مطا بق حج معاہدہ پر پاکستان اور سعودی وزرا نے دستخط کر دئیے ہیں ۔ پاکستان کے حج کوٹہ میں5ہزار افراد کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ آئندہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 210افراد حج ادا کریں گے،روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ میں پاکستانی حجاج کو مرحلہ وار شامل کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان سے آئندہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 افراد حج ادا کر سکیں گے۔ ابتدائی طور پر صوبہ سندھ کے 35 ہزار حجاج مستفید ہونگے۔ منصوبے کے تحت حاجیوں کی تصدیق و امیگریشن کا عمل کراچی ایئرپورٹ پر ہو گا۔معاہدے کی رو سے پاکستانی حجاج کو ای ویزادیا جائے گا۔

About Admin

Google Analytics Alternative