Home » صحت » صرف 15 منٹ کی ورزش نئے کام کو سیکھنے میں مددگار

صرف 15 منٹ کی ورزش نئے کام کو سیکھنے میں مددگار

واشنگٹن: اگرآپ دماغی کام کرتے ہیں تو صرف 15 منٹ کی ورزش بھی دماغ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر آپ کوئی نیا کام سیکھنے جارہے ہیں تو اس کے بعد تیز مگر تھوڑے وقفے کی بھاگ دوڑ بھی دماغی روابط کو مضبوط بناتی ہے کیونکہ تھوڑی دیر کی ورزش دماغ کو تروتازہ کرتی ہے۔ کسی کام پر مہارت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سیکھنے کے بعد تھوڑی دیر تک شدید ورزش کی جائے تو اس کے تادیر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

امریکا میں مک گل یونیورسٹی کے پروفیسر مارک روئگ بھی اس سے پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ ورزش دماغی اور جسمانی عضلات کے درمیان بندھن کو مضبوط کرتی ہے لیکن اس کے لیے درست وقت پر ہی ورزش مفید ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کی مشق کررہا ہے تو اس ہنر کی مشق کے بعد وہ تھوڑی ورزش کرے ۔ اس سے دماغی اور جسمانی اعصاب کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا اور یوں وہ دیر تک اس کرتب کا ماہر رہے گا۔

 اس کے لیے ماہرین نے انسانوں پر کچھ تجربات کیے اور شرکا کو ایک طرح کا جسمانی ویڈیو گیم کھیلنے کے لیے دیا۔ اس میں جوائے اسٹک جیسے آلے کے ذریعے اسکرین کرسر کو اسکرین پر بنی اشکال سے جلدی جلدی جوڑنا تھا۔ اس میں دماغی اور جوائے اسٹک کے ذریعے جسمانی مشقت  دونوں کی ضرورت تھی۔

ہر دفعہ نیا کام سیکھنے کے بعد شرکا کو تھوڑی دیر تک ورزش بھی کرائی گئی۔ اس کے بعد 30 منٹ، 60 منٹ اور 90 منٹ کے لیے ایک دوسرا کھیل دیا گیا لیکن اس میں شرکا کو عین وہی قوت استعمال کرنے کا کہا گیا جو انہوں نے اس سے پہلے اسکرین پر کھیلا تھا۔

اب جنہوں نے پہلا کام سیکھ کر ورزش کی تھی وہ اس قوت، مہارت اور زاویے کو یاد رکھنے میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد وہ 24 گھنٹے بعد بھی اسی مہارت سے کام کرتے نظر آئے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ کوئی نیا کام سیکھ کر ورزش کی جائے تو نہ صرف وہ کافی عرصے تک یاد رہتا ہے بلکہ اس پر مہارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative