تازہ ترین
Home » بزنس » ضبط شدہ کرنسی چھوڑنے پر کسٹمز افسران کیخلاف تحقیقات شروع

ضبط شدہ کرنسی چھوڑنے پر کسٹمز افسران کیخلاف تحقیقات شروع

اسلام آباد: فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹرائل جج کسٹمز سے این او سی لیے بغیر ضبط شدہ لاکھوں ڈالر اورچینی کرنسی چھوڑنے والے کسٹمز افسران کے خلاف عدالتی حکم پر 7 سال بعد تحقیقات شروع کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے حکم پر ایف بی آرکی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (پی سی اے) کسٹمز ہائوس اسلام آباد ڈاکٹر واصف میمن کی سربراہی میں قائم کردہ 4 رکنی انکوائری کمیٹی نے 16 اگست کو متعلقہ افسران کو طلب کرلیا ہے۔

کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے ایئر پورٹ پر اللہ باش نامی شخص سے 2009 میں ایئر پورٹ پر ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ڈالر اور2800 یوآن(چائنیز کرنسی) پکڑے تھے جس کے خلاف باقاعدہ کسٹمز اسپیشل جج کے پاس کیس چلا اور یہ کرنسی ضبط کرلی گئی تاہم اسپیشل جج کسٹمز کے فیصلے کے بعد اس وقت کے ایڈیشنل کلکٹر (اے ایف یو) بلڈنگ اسلام آباد ایئر پورٹ عبدالرزاق نے متاثرہ شخص اللہ باش ولد ابو خان کی اپیل پر کیس کی سماعت کی۔

14 اپریل2009 سے3 مئی 2010 تک 18 سماعتیں کیں جس کے بعد 17مئی 2010 کو فیصلہ دیا جس میں کہا گیا کہ متاثرہ شخص اللہ باش ضبط شْدہ کرنسی کی واپسی کیلیے ریلیف کا حقدار ہے لہٰذا مذکورہ شخص سے ضبط کی جانیوالی غیر ملکی کرنسی واپس کرنے کے مشروط احکام جاری کیے جاتے ہیں جس کیلیے اسپیشل جج کسٹمز راولپنڈی کی عدالت سے این او سی حاصل کرنا ہوگا تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اس وقت کے سیکنڈ سیکریٹری کسٹمز ایڈجوڈیکیشن اینڈ اے ڈی آر سی ڈاکٹر صادق اللہ خان نے 15 ستمبر 2010 کو اسپیشل جج کسٹمز راولپنڈی کی عدالت کے این او سی کے بغیر ہی اللہ باش نامی شخص کو ضبط شْدہ غیر ملکی کرنسی واپس کرنے کے احکام جاری کردیے۔

اس کیلیے جاری کردہ آرڈر میں صادق اللہ خان نے موقف اختیار کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایڈیشنل کلکٹر (اے ایف یو) بلڈنگ اسلام آباد ائیر پورٹ کی جانب سے اٹھارہ مئی 2010 کو جاری کردہ آرڈر کے کیس کو کسٹمز ایکٹ کی سیکشن 195 کے تحت ری اوپن کرتے ہوئے کیس کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ضبط شْدہ کرنسی کی واپسی کیلئے ایڈیشنل کلکٹر کے آرڈر میں شامل کردہ اسپیشل جج کسٹمز راولپنڈی سے این او سی کی شق ختم کرنے کیلئے ضروری ترمیم کردی ہے اور صادق اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ آرڈر میں اسپیشل جج کسٹمز سے این او سی لینے کی شرط کو ختم کرنے کیلئے جواز دیا گیا ہے کہ اب چونکہ یہ کیس اسپیشل جج کسٹمز راولپنڈی کے پاس نہیں رہا ہے اس لئے اس کیس میں اللہ باش کو ضبط شْدہ کرنسی واپس کرنے کیلیے اسپیشل جج کسٹمز سے این او سی لینے کی شق کو ختم کیا جاتا ہے۔

اس بارے میں ایم سی سی اسلام آباد ایئر پورٹ کے سینئر افسر نے بتایا کہ مذکورہ آرڈر کے خلاف سْپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا گیا جس پر 2013 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے اسکے خلاف فیصلہ دیا اور فیصلے میں کہا کہ یہ کیس منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے اور ضبط شْدہ کرنسی نہیں چھوڑی جاسکتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سْپریم کورٹ آف پاکستان کے 2013 کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور فائل کو دبا دیا گیا مگر اس کے بعد کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور غیر قانونی کرنسی کی نقل و حمل کرنیوالوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے جب مزید لوگوں سے کرنسی پکڑ کر ضبط کی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ باش کیس کو بنیاد بنا کر کرنسی واپس کرنے کیلئے سْپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جس پر موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے توہین عدالت عائد کردی اوراْنتیس جون 2018 کو فیڈرل بورڈآف ریونیو کو ہدایت جاری کی کہ کسٹمزحکام کی جانب سے ضبط شْدہ کرنسی چھوڑنے کے معاملہ کی انکوائری کرکے3 ماہ میں رپورٹ پیش کی جائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative