Home » کالم » اداریہ » ضمنی انتخابات کے نتائج اوروزیراعظم کی وضاحت
adaria

ضمنی انتخابات کے نتائج اوروزیراعظم کی وضاحت

adaria

تحریک انصاف کی حکومت کی مصروفیات اور ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے وزیراعظم نے توجیح بیان کرتے ہوئے کہاکہ ضمنی انتخابات میں شکست کااندازہ تھا حکومتی امور میں مصروفیات کی وجہ سے عوام سے رابطے میں خلاء آیا جسے اپوزیشن نے پرکیا حکومت نے کسی بھی سطح پر ضمنی انتخابات میں مداخلت نہیں کی اس لئے پہلی مرتبہ شفاف انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔وزیراعظم کا یہ بیان کسی حد تک درست ہے کیونکہ جس دن سے تحریک انصاف عنان اقتدا ر میں آئی ہے روز کوئی نہ کوئی ایک نیاایشو کھڑا ہوتا ہے جس کو نمٹانے کے لئے وزیراعظم سمیت تمام کابینہ مصروف ہوجاتی ہے ۔عوام سے رابطہ تو درکنارابھی مسائل حل ہونے کی بھی باری نہیں آئی ہے کیونکہ حکومت نے سودن مانگ رکھے ہیں اور ان میں سے تقریباً آدھے سے زیادہ دن گزرچکے ہیں بات توساری حکومت کے سربراہ کی ہوتی ہے وہ اگر مصروف رہے تو کوئی نہ کوئی ایسی منصوبہ بندی ضرور ہونی چاہیے تھی جس سے انتخابات میں سرخروئی حاصل ہوتی یہ نتائج صرف یہاں تک ہی نہیں ٹھہریں گے حکومت کو یہ سوچناچاہیے کہ ان کااثرآگے بلدیاتی انتخابات پرپڑے گا ویسے ہی نوازشریف نے کہاہے کہ یہ نتائج آنے والے وقت کاپیغام ہے اگر حکومت اپنی پالیسیوں کوپایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناکام رہی تو اس کو بہت زیادہ مسائل کاسامنا کرناپڑسکتاہے۔اب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وزراء اور پارٹی رہنما اپنی توجہ عوام کو فراہم کرنے پرمرکوز رکھیں جبکہ ساتھ ساتھ حکومتی صفوں میں سے یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ مسائل کو حل کرنے کے لئے چھ سے آٹھ ماہ درکار ہوں گے ہم تو حکومت سے یہ کہتے ہیں کہ چھ سے آٹھ ماہ بھی کم ہیں پہلا حکومتی سال اسی مسائل کے بھنور میں گزرجائے گا اس کے بعد شاید حالات کسی مثبت انداز میں آگے بڑھیں۔ ضمنی الیکشن میں بعض نشستوں پر تحریک انصاف کی شکست کی وجہ پارٹی کے اندرونی اختلافات تھے۔ حکومت نے ضمنی الیکشن میں کسی سطح پر مداخلت نہیں کی، سب سیاسی جماعتوں کیلئے الیکشن لڑنے کے یکساں مواقع موجود تھے۔ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود عام عوام کے زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا تحریک انصاف کامنشور ہے۔انتخابات کے نتائج کے بعد حکومت کو مزید محنت کرناپڑے گی گوکہ عوام نے مینڈیٹ دے دیا ہے اب اس کوپورا کرناپاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ میں ہے ایوان میں ابھی نمبرگیم کے اعتبارسے پاکستان تحریک انصاف کو واضح برتری حاصل ہے مگر اصل میدان بلدیاتی انتخابات میں سجے گا اور ان کے نتائج میں ہی پتہ چلے گاکہ عوام کیا حقیقت میں تبدیلی چاہتے ہیںیا واپس پرانے پاکستان میں جاناچاہتے ہیں۔بنیادی طورپرضرورت اس امرکی ہے کہ حکمران مہنگائی کوکنٹرول کریں جو کہ ابھی تک نظرنہیں آرہا کیونکہ ڈالر کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہرچیز آسمان پرجاپہنچی ہے بجلی کے معاملات بھی اوپر جانے کیلئے پرتول رہے ہیں آخرعوام کہاں تک برداشت کر ے گی جب ہرچیز مہنگی ہوگی تو پھریقینی طورپراپوزیشن کے لئے میدان میں مقابلہ کرناآسان ہوتاجائے گاکیونکہ حکومت سے باہررہ کرباتیں کرنا اورالزامات عائد کرنا بہت آسان ہوتا ہے جب اقتدار میں آجائیں تو اس وقت ملک کوچلاناکوئی خالہ جی کاگھرنہیں ہوتا۔ابھی تک یہی ہورہاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو جوخزانہ ملا ہے وہ اسے سابقہ دور کے خالی خزانے کی مثالیں دے کرکہہ رہی ہے کہ ہم کیاکریں خزانہ ہی خالی ملاتھا۔اس روایت کو ختم کرنا ہوگا ماضی میں اگر کسی نے غلط کیا ہے تو اسے قرارواقعی سزادیں دیکھیں گے کہ اب آپ کیاکررہے ہیں مثبت انداز میں مسائل کو حل کیاجائے الزام تراشیوں سے مایوسی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوسکے گا۔

سٹاک ایکسچینج پھرمندی کاشکار
پاکستان میں کاروبارآئے روز مندی کاشکارہوتاجارہاہے اور اس کی وجہ ہوشربامہنگائی اورروپے کی بے قدری ہے آئی ایم ایف کے وفد کے دورے کے بعد سے یہ مسائل درپیش ہیں۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان برقرار رہا۔ کے ایس ای 100انڈیکس 750.36پوائنٹس کی کمی سے 3676.57پوائنٹس پر بند ہوا، مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے ایک کھرب 27ارب 54کروڑ 89لاکھ 16ہزار 121روپے ڈوب گئے تاہم تجارتی حجم میں 62کروڑ 19لاکھ 26ہزار 640روپے کی تیزی ریکارڈ کی گئی جبکہ خرید و فروخت میں 3کروڑ ایک لاکھ 60حصص کا اضافہ ہوا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وزیر خزانہ کو نئے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ٹیکس نیٹ بڑھانے پر بریفنگ دی۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بجلی کی قیمتیں بڑھاتے وقت کم آمدنی والے افراد کا خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ابھی بھی ڈالر کوقابونہ کیاگیا تو روزانہ جو سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب رہے ہیں اس سے بددلی پھیلے گی کاروبارتباہ ہوگا معیشت کابیڑاغرق ہوگااور ملکی ترقی کاپہیہ بھی جام ہوجائے گا۔ قرضوں کاتویہ ایک ایساتحفہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پرہرپاکستانی کے قرض میں خاطرخواہ اضافہ کرتارہتا ہے ایک قرضہ اتارنے کے لئے دوسراقرضہ لینا پڑتاہے اور دوسرے کو اتارنے کیلئے تیسرا۔ وزیراعظم نے کہاتھا کہ مدینہ جیسی ریاست قائم کرناچاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس ملک سے سودی نظام کاخاتمہ کریں کیونکہ مدینہ پاک میں اس طرح کاکوئی نظام موجودنہیں تھا سود کی وجہ سے مال ودولت میں کوئی برکت نہیں رہتی نہ ہی معیشت ترقی کرسکتی ہے ۔اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایس کے نیازی کی’’ پروگرام سچی بات‘‘ میں حقائق پرمبنی گفتگو
ایس کے نیازی نے سچی بات کے پروگرام میں ضمنی انتخابات، تعلیم،پانی ،نظام ،حکومتی اقدامات اورمسلم لیگ نون کو آکسیجن کے حوالے سے جو سیرحاصل گفتگو کی وہ بالکل حقیقت پرمبنی ہے کیونکہ ضمنی انتخابات کے جو بھی نتائج ہیں وہ تمام ترپی ٹی آئی کی پالیسیوں کے مرہون منت ہیں۔تعلیم کے حوالے سے بھی انہوں نے کہاکہ یکساں تعلیمی نظام ہوناچاہیے یہ بات بھی بالکل درست ہے اوراب نون لیگ کو جو آکسیجن ملی ہے اس سے وہ اب مزید آگے بڑھے گی۔ پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی الیکشن جیت جائے تو شفاف الیکشن کہا جاتا ہے،اگر کوئی الیکشن ہار جائے تو دھاندلی کا کہا جاتا ہے، ضمنی الیکشن میں نشستیں جیتنا(ن)لیگ کی فتح ہے،ن لیگ نے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا ذکر نہیں کیا،وزیراعظم حقیقت قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں،بجلی،گیس اور ڈالر مہنگے ہونے کو عوام اچھا نہیں سمجھتی،وزیراعظم عمران خان سارا گند صاف کرنا چاہتے ہیں،پی ٹی آئی کو تھوڑی جلدی ہے اور ٹیم کا فقدان بھی ہے،خواجہ سعد رفیق الیکشن جیت گئے مگر کیسز تو چلیں گے،خواجہ سعد رفیق کی ضمانت از گرفتاری بھی ہوگئی ہے،حکومت کیساتھ’’سر منڈواتے ہی اولے پڑے‘‘والا حال ہوا ہے،وزیراعظم عمران خان تعلیم،صحت پر کام کریں گے،حکومت کی کلین اینڈ گرین پاکستان مہم اچھی چل رہی ہے،چیف جسٹس کی وجہ سے پانی کے حوالے سے آگاہی پیدا ہوئی،ملک میں پانی کے حوالے سے بھرپور کام کیا جارہا ہے،اسکولز و کالجز میں ایک نصاب،ایک تعلیم ہونی چاہیے،بچوں کا اسلامی تعلیمات سے مکمل آگاہ ہونا ضروری ہے،وزیراعظم نمبر ون ٹیم بنا کر اکانومی پر توجہ دیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative