adaria 1

عدالتی فیصلہ،نواز شریف کی صحت بارے بیان بازی سے گریز کیا جائے

نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ حتمی فیصلہ کرے گی اور جب آرڈر وزارت داخلہ کے پاس پہنچے گا تو اس پر عملدرآمد ہوگا تاہم دوسری جانب حکومت نے ساتھ یہ بھی کہاہے کہ وہ عدالت کے فیصلے پر من وعن عمل کرے گی کیونکہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت کیا گیا ۔ نواز شریف کی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں ادویات کے سہارے اس قابل بنایا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کرسکیں ۔ چار ہفتوں کی جو اجازت دی گئی ہے اس کے تحت اگر انہیں مزید علاج کیلئے بیرون ملک ٹھہرنا پڑا تو وہ مزید اجازت لیں گے ۔ ہم یہاں حکومت سے یہ ضرور کہیں گے کہ جس طرح کے وزیراعظم نے اپنی کابینہ اور مشیروں کو پابند کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے بیان بازی نہ کریں تو سب کویہ چاہیے کہ وہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بیانات دینے سے گریز کریں جب انسانی ہمدردی کے تحت ایک فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اس کو خراب کرنے سے کیا حاصل وصول ہوگا ۔ ادھرحکومتی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کابینہ کا پورا کا پورا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے آرڈر میں شامل ہو گیا ہے، عدالتی فیصلہ حکومت کی جیت ہے، ہائیکورٹ کی شرائط حکومت سے بھی سخت ہیں ، نواز شریف کی واپسی کی جو یقین دہانی چاہیے تھی وہ انڈرٹیکنگ کی صورت میں مل گئی، عدالت نے بانڈز کی جگہ انڈرٹیکنگ لے لی، نواز شریف، شہباز شریف عدالت کے پاس گروی ہوگئے، واپس نہ آئے تو عدالتی مجرم ہوں گے، نواز شریف جس ملک میں بھی جائیں گے وہاں بتادیں گے کہ یہ کن شرائط پر آئے ہیں ، ہائیکورٹ نے پانچ سوالات رکھے ہیں ، قانون کے تحت سزایافتہ مجرم کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا، شریف برادران کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ، ان کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے عدالت بھی ان پر اعتماد نہیں کر رہی ہے، حکومت کو جو ضمانت چاہیے تھی وہ بیان حلفی کی شکل میں مل گئی ۔ وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے نیوز کانفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی تفصیلات اور اثرات بیان کئے اور حکومت کاموقف واضح کیا ۔ بیرسٹر شہزار اکبر نے کہا کہ کابینہ نے میاں نواز شریف کی تشویشناک صحت کے پیش نظر باہر جانے کیلئے ون ٹائم اجازت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ قانون کے تحت کسی سزایافتہ مجرم کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا، کابینہ نے انسانی ہمدردی کے تحت انہیں ون ٹائم پر میشن دی، اور یہ اجازت 4 ہفتے کی مخصوص مدت کے لیے دی گئی تاکہ وہ باہر جاکر اپنا علاج کراسکیں وہ صحت یاب ہوتے ہی پاکستان واپس آئیں گے، مقدمات کا سامنا کریں گے اور جیل جائیں گے عدالت نے انڈیمنٹی بانڈ کو مسترد نہیں کیا،معطل کر کے ان سے تحریری یقین دہانی حاصل کرلی ۔ ماضی میں وہ جتنی بار وعدہ خلافی کر چکے ہیں ان کا ٹریک ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں ۔ ان کے دو بیٹے، ایک بھتیجا، سمدھی، بھائی کا داماد مفرور ہیں ، ماضی میں ایک حلف نامہ پر باہرجانے کا ریکارڈ بھی ہمارے سامنے ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کے بہتر حالات بارے بھارتی دعویٰ مسترد

پاکستان نے بھارت کے وزیر خارجہ کی طرف سے سرحد پار دہشت گردی کے الزام اور مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ردعمل میں کہا گیا کہ یہ بیان بی جے پی قیادت کے متعصبانہ رویہ کی کھلی مثال ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا ہے ۔ اگر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معمول پر آ گئی ہے تو یہ صورتحال دکھای کیوں نہیں دے رہی، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، بھارت نفرت پھیلانے والوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے ۔ ایسے جھوٹے دعوے بی جے پی حکومت کی پاکستان مخالف مہم کا حصہ ہیں ۔ دہشت گردی کیلئے پاکستان بھیجا گیا کمانڈر کلبھوشن بھارت کا اصل چہرہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں معمول کی صورتحال دنیا سے کیوں اوجھل ہے، بھارت پاکستان مخالف جنون ختم کر کے حقیقت کا سامنا کرے، بھارت میں ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں کیخلاف نفرت انگیزی کا سلسلہ جاری ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی ;200;واز دبانے میں ناکام رہا ہے، بھارت نفرت کا پرچار کرنے والوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے ۔ فرانسیسی اخبار کو دیا جانے والا انٹرویو پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا حصہ ہے، پاکستان خطے میں امن و ترقی کیلئے علاقائی اور عالمی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہے گا ۔ بھارت اپنی ترقی کے تمام دعووَں کے باوجود آج بھی اپنے دقیانوسی خیالات سے جڑا ہوا ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیریوں کوبھارت شہید کر چکا ہے ۔ بوڑھے، بچے اور عورتوں کو کرفیو میں تین ماہ سے زائد عرصے سے بند کیا ہوا ہے ، سیکڑوں بے قصور کشمیری نوجوانوں کو جعلی انکاءو نٹر سے شہید کیا گیا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو اجتماعی قبروں میں دفنا دیاگیا ہے، بے بس مظلوم کشمیری عورتیں تین ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں کے دروازے کھول کر کسی محمد بن قاسم;231; کا انتظار کر رہی ہیں ۔ انشاء اللہ ظلم کاسورج ہمیشہ کےلئے غروب ہونے والا ہے ، کشمیرجلد آزاد ہو گا ۔

مودی کی انتہا پسندانہ سوچ روکنے کیلئے بین الاقوامی برادری کردار ادا کرے

جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بابری مسجد کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے اجلاس میں کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد سے متعلق جو فیصلہ دیا ہے اس میں انصاف نہیں کیا گیا ، مسجد کی زمین اللہ کی زمین ہوتی ہے یہ زمین کسی دوسرے کو نہیں دی جا سکتی، بابری مسجد کی زمین کے بدلے مسلمان کوئی دوسری زمین نہیں لیں گے ۔ جمعیت علمائے ہند کے سربراہ ارشاد مدنی نے بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جہاں ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجائے وہاں دوبارہ مسجد ہی تعمیر ہوتی ہے کوئی دوسری عمارت وہاں تعمیر نہیں ہو سکتی ۔ بھارت کے ہندوتوا پسندانہ اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ اب نیا بھارت مودی کا بھارت ہے ۔ مودی کی طاقتور سیاست اور بھارتی ہندو سماج کا کشمیریوں سمیت تما م بھارتی مسلمانوں کیخلاف شرمناک رویہ قابل افسوس ہے ۔ پوری دنیا میں ہر قسم کی انتہا پسند ی کی مخالفت کی جا رہی ہے، تو دنیاوی سماج بھارتی انتہا پسند اور دہشت گردی کی طرف سے اپنی آنکھیں اور کان کیوں بند کئے بیٹھا ہے;238; ۔ بابری مسجد کے حوالے سے مودی سرکار نے جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی دہشت گردانہ اور اس کی مذہبی انتہا پسندی کا ثبوت ہے ، بھارت میں کسی طورپر بھی اقلیتیں آزاد نہیں اور مودی اکھنڈ بھارت بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ بین الاقوامی بردری کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں بھارت کے آگے بندھ باندھے جس طرح مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے اس کی مثال کہیں دنیا میں نہیں ملتی ۔ بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ وہ آرایس ایس کے زیر اثر ہے اور آر ایس ایس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے نہ صرف بھارت میں بلکہ مقبوضہ وادی میں بھی ظلم و ستم کی ایک بدترین تاریخ رقم کررکھی ہے ۔ اب جمعیت علماء ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ تمام عدالتیں اور پورا نظام مودی کے زیر اثر ہے اس کی دہشت گردانہ سوچ سے باہر نکل کر کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ عدالتیں بھی اسی کے زیر تحت ہیں جب تک اس میں اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں مداخلت نہیں کرتیں اس وقت مودی کو مذموم عزائم پایہ تکمیل تک پہنچانے سے نہیں روکا جاسکتا اور اگر مودی اسی طرح جاری رہا تو خطے میں کسی صورت امن و امان قائم نہیں رہ سکتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں