Home » کالم » عمران خان اور ٹرمپ کی تاریخی ملاقات، امریکہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیشکش
adaria

عمران خان اور ٹرمپ کی تاریخی ملاقات، امریکہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیشکش

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات انتہائی کامیاب اور سودمند رہی، دونوں رہنماءوں نے سیر حاصل تبادلہ خیال کیا اور سب سے بڑی پاکستان نے یہ کامیابی حاصل کی کہ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی لیکن بھارت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی ٹرمپ کے حوالے سے اس سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی لیکن دنیا کی ایک سپر پاور کے سربراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتنا بڑا بیانیہ سامنے آنا کوئی مذاق نہیں ، دنیا بھر کے سامنے ٹرمپ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ مودی چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور پاکستان سے تعلقات بھی اچھے ہونے کا خواہاں ہے ۔ یہ خوش آئند بات ہے اگر مودی نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا مگر چونکہ مودی کے اردگرد ایسے انتہا پسند لوگوں کی سوچ موجود ہے جو اس مسئلے کو حل نہیں ہونے دینا چاہتے اسی وجہ سے بھارتی حکومت نے فی الفور پاکستان کی سفارتی کامیابی کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان ہر طرح سے مسئلہ کشمیر سمیت ہر مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے ۔ نیزخطے کے دیگر مسائل جس میں افغانستان کا مسئلہ اور دیگر معاملات بھی شامل ہیں ۔ انہیں حل کرنے کا خواہاں ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی اور کہا کہ مجھے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی ، اگر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے ;200;گاہ کریں ، امریکا پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان واءٹ ہاءوس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنماءوں نے پرجوش مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے ۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ون ;200;ن ون ملاقات ہو ئی جو تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہی ۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا ۔ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان سے فوجی انخلا پر کام جاری ہے ۔ عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قوم کی تعریف کی، کہا پاکستان کے لوگ بہت مضبوط ہیں ، مسئلہ کشمیر پر دونوں لیڈرز بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں ، عمران خان اور میں دونوں نئے لیڈرز ہیں ، مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے، کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی ۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو پاکستان ضرور جاءوں گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی امریکی صدر سے ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ موجود تھے ۔ صدر ٹرمپ نے واءٹ ہاءوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوش گوار دیکھ رہا ہوں ، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔ دونوں ممالک میں تجارتی روابط، دفاعی تعاون اور افغان امن عمل پر خصوصی بات چیت کی گئی ۔ عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ 2 نشستیں ہوئیں ۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی موجود تھے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں ، پاکستان میں اب ایک عظیم لیڈر ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ سٹیٹ تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پریس پر پابندی کی بات کرنا ایک مذاق ہے ۔ پاکستانی پریس میں سب سے زیادہ مجھ پر تنقید ہوتی ہے ۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہت جلد تجارتی معاملے پر نمایاں پیشرفت ہوگی، امریکی صدر نے کہا کہ اگر معاملات حل ہو جائیں تو پاکستان کی امداد بحال کی جا سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان امریکہ سے جو وعدے کریگا وہ نبھائے گا ۔ برصغیر میں امن کیلئے امریکی صدر سے کردار کی درخواست کریں گے، ہم کوشش کریں گے طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے ۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم سینٹ جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں ۔ ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر بھی شریک تھے ۔ ملاقات کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے پاکستان امریکہ تعلقات بہتری کے لیے سینیٹر گراہم کی خدمات کو سراہا جبکہ عمران خان نے سینیٹر کو حکومتی ترقیاتی اور معاشی ترجیحات سے ;200;گاہ کیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے دونوں ممالک کے مفاد پر مبنی وسیع البنیاد تعلقات کا خواہاں ہے ۔ پاکستان امریکہ سے تجارت اور توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون چاہتا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، ہمسایہ ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں ۔ افغان مسئلے کا سیاسی حل اور امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں ۔ سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ میں باہمی مفاد کے لیے اعلی سطح پر پائیدار تعلقات کا ہونا ضروری ہے، اسلام ;200;باد نے افغانستان میں امن عمل کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا، دہشت گردی کے خلاف موثر ;200;پریشنز کے باعث پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری ;200;ئی، پاکستان نے افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے شاندار اقدامات کیے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے کہا کہ ;200;رمی چیف وزیراعظم عمران خان کے وفد کے رکن کی حیثیت سے واءٹ ہاءوس میں ہونے والی میٹنگ میں شریک ہوئے ۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا ۔ پاکستان اور امریکی سربراہان کی ملاقات کے بعد خطے کے حالات ایک دم یوٹرن لیں گے اور امید کی جارہی ہے کہ امن و امان قائم ہو جائے گا ۔ جس طرح عمران خان نے وہاں پر صحافیوں کے پراعتماد جوابات دئیے وہ بھی ان کی صلاحیتوں کی ایک واضح مثال ہے ۔ نیز ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے بھی مسئلہ زیر غور آیا اور امید کی جارہی ہے آنے والے دنوں میں یہ معاملہ بھی انتہائی مثبت اور احسن طریقے سے حل ہو جائے گا اور یہی پاکستان کی بہت بڑی جیت ہوگی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative