Home » کالم » عمران خان نے چھکا مار دیا
Mian-Tahwar-Hussain

عمران خان نے چھکا مار دیا

Mian-Tahwar-Hussain

گزشتہ سے پیوستہ

ہندوستان کی طرف بوڈر سے کچھ فاصلہ پر بابا گرونانک کا جبہ یا چولا محفوظ جگہ میں رکھا ہوا ہے اس جگہ سے کرتارپور کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ یہاں کوریڈور بن جانے سے سکھوں کے مذھبی مقامات پر آمد و رفت انہیں روحانی تسلی عطا کرے گی۔ 28 نومبر کو اس کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا آئندہ سال کے اختتام تک راہداری اور ریلوے لائن بھی مکمل ہوجانے کے جانسسز ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے دونوں ممالک کے عوام امن پسند ہیں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ عوامی ترقی اور خوشحالی سب کی خواہش ہے اگر اپنے مفادات کے لئے مغربی ممالک اکھٹے ہو کر ترقی کی راہ پر چل سکتے ہیں تو پھر ہندوستان اور پاکستان ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر امن کی راہ کیوں نہیں اختیار کرسکتے۔ ہندوستان کی حکومت کا رویہ سخت بے لچک اور ہمیشہ جارحانہ رہا ہے۔ انہیں سیاست کے لیے دونوں ممالک کی عوامی خوشحالی اور امن کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں دونوں کو معلوم ہے کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی طرح شہروں کو کھنڈرات اور آبادی کو بھوتوں کی آماچکاہ تو بنایا جاسکتا ہے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں بہتر یہی ہے کہ قریبی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے متنازع مسائل کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ لوگوں کے آپس کے روابط ہی ٹینشن فری ماحول پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات افسوس ناک ہیں۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مصداق ان کا رویہ ہوتا ہے جب تک دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر ٹرسٹ نہیں پیدا ہو گا اس وقت تک بات چیت کے دروازے بند رہنے کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ اس وقت موجود نوجوت سدھو امن کے سفیر بن چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی جذبے کے تحت مذاکرات کا پرجوش حامی رہا ہے۔ اب بھارت کو چاہیے کہ موقع سے فائدہ اٹھائے۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔ کرتارپور سرحد دونوں ممالک کے عوام کے لیئے امن کی پیعمبر ثابت ہوگی۔ تجارت میں اضافے کا پیش خیمہ ہو گئی۔ بتدریج دیرینہ تنازعات کے حل بھی سامنے آئیں گے جو پیسہ دفاعی ضروریات اور اخراجات پر صرف ہو رہا ہے اس میں نمایاں کمی ہونے کے آثار پیدا ہوں گے اور وہ ہی پیسہ ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کرنے سے عوام کی خوشحالی اور بہتری ہوگی سارک ممالک کی ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور آنے والے وقت میں سارک ممالک کی کنفیڈریشن بنانے میں بھی سوچ عملی روپ اختیار کر سکتی ہے۔ یہ تو بڑے بڑے منصوبے ہیں جو امید کی کھڑکی کھل جانے سے ذہن کے افق پر ابھر رہے ہیں۔ ہر سال پاکستان سے عقیدت مند اجمیر شریف اور دہلی حضرت علی احد صابر پاک، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیا اور حضت امیر خسرو کے مزارات پر حاضری دینے جاتے ہیں انہیں بھی ویزے کے حصول کے لئے سہولتیں فراہم کرنا چاہیں ہرسال ہندوسکھ جن کی مذہبی یادگاریں پاکستان میں ہیں ان پر حاضری اور زیارت کے لئے آتے ہیں پاکستان میں ان مذہبی یادگاروں کی بہترین دیکھ بھال ہورہی ہے۔ کٹاس راج کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ عوامی رابطے تنا کھچا کی فضا جو کہ بھارتی حکومت کی طرف سے زبردستی پیدا کی گئی ہے اس میں حقیقت پسندی معاملہ فہمی کا عنصر غالب آنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ عمران خان نے اپنی دانشمندی سے امن کا چھکا مار دیا ہے مثبت رویہ نے اپنا اثر دکھا دیا سکھ قوم خوش ہے وہ پاکستان سے زیادہ محبت کریں گے لیکن ہمیں اپنی سیکورٹی کو بھی ضرور مدنظر رکھنا ہوگا۔

About Admin

Google Analytics Alternative