تازہ ترین
Home » کالم » اداریہ » عمران خان کاپنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے مدلل خطاب
adaria

عمران خان کاپنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے مدلل خطاب

adaria

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور نامزد وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب تیار رہیں کیونکہ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا، صوبے میں ایسا نوجوان اور کلین وزیراعلیٰ لاؤں گا جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہوگا، پنجاب میں حالیہ انتخابات پانی پت جنگ جیسے تھے لیکن اس انتہائی مشکل انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہمیں پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے جبکہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اورخودمختار بنائیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ قابلیت اور اہلیت ریاست مدینہ کا پہلا اہم جزو تھا، قانون کی بالا دستی ریاست مدینہ کا دوسرا اہم جزو تھا، انہوں نے مزید کہا مجھے کیوں نکالا کا پورا خلاصہ یہ ہے کہ مجھ سے پوچھنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ 1970ء کے بعد پہلی مرتبہ عوام نے نظریے کو ووٹ دیا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ تھا۔ کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور وہ آزاد جیت گئے۔ملک میں دو قسم کی سیاست ہے، پہلی ذاتی سیاست جو صرف پیسہ کمانے کیلئے ہے، اس نے لوگوں کو ذلت دی کیونکہ لوگ عوام کا نام لے کر اقتدار میں آ کر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی، سارے پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔ عمران خان نے کہاکہ میں چاہتا ہوں پی ٹی آئی ایک ادارہ بنے، ہمیں ٹکٹ دینے کے عمل کو بہتر بنانا ہو گا، ہم میرٹ پر ابھی سے آئندہ الیکشن کی تیاری کریں گے جبکہقائم مقام امریکی سفیر جان ایف ہوور کی قیادت میں امریکی سفارتی وفد نے بنی گالہ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر جان ہوور کا ملاقات میں کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات کو مزید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر عمران خان نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں مکمل استحکام کا خواہش مند ہے، میں نے ہمیشہ افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ جنگ اور قوت کا استعمال افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں، افغانستان کا استحکام پاکستان، امریکا اور خطے کے مفاد میں ہے، خوشی ہے کہ آج امریکا سے بھی سیاسی حل کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔پاک امریکا تعلقات نے تاریخ میں کئی اتار چڑھا دیکھے، تعلقات میں اتار چڑھا کی بنیادی وجہ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے، تحریکِ انصاف امریکا کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کیلئے پرعزم ہے، ہم امریکا کے ساتھ مستحکم تجارتی اور معاشی تعلقات کو نہایت اہم سمجھتے ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید سرگرمی وقت کا تقاضا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے وزارت عظمی کے عہدے کیلئے نامزد عمران خان کو ٹیلی فون کرکے پاک ایران تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسائے ہی نہیں مذہبی اور ثقافتی بندھن سے جڑے ہیں جب کہ پاک ایران تعلقات میں مزید پختگی اور اضافے کے خواہاں ہیں۔حسن روحانی کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کو ایران کے دورے کی دعوت دی گئی جسے قبول کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہی دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ دورے کو حتمی شکل دے گی۔ پاکستان ایران سے خصوصی تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید پختگی کا بھی خواہشمند ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس امر کے عکاس ہیں کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ کرپشن سے پاک پاکستان بنا کر دم لیں گے، بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس وقت عوام کی نظریں نئی حکومت پر لگی ہوئی ہیں اور ان سے بہت سی توقعات وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ امید ہے کہ نئی حکومت اپنے منشور پر عمل پیرا ہوکر ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کرنے میں کامیاب قرار پائے گی ۔
دھاندلی کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج
الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن نے عام انتخابات 2018ء میں مبینہ دھاندلی کیخلاف الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے لیگ ن کے صدر شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سرج الحق اور اے این پی کے قائد اسفند یارولی شریک نہ ہوئے ، مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے اور انتخابات نہ منظور الیکشن نہ منظور کے نعرے لگائے، اپوزیشن رہنماؤں اچکزئی، شیری رحمان، ظفر الحق، سید یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمن، احسن اقبال اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کٹھ پتلی وزیراعظم قبول ہے نہ عمرا ن خان کی حکومت چلنے دینگے ، الیکشن کے نام پر جو ناٹک رچایا گیا اسے زمین بوس کرینگے ، اداروں کو اپنے رویوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔دوسری جانب مبینہ دھاندلی کے خلاف جے یوآئی کی جانب سے بلوچستان اور کے پی کے مختلف شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے، بنوں، مستونگ اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاج کیا ۔ احتجاجی سیاست جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں، الیکشن کی شفافیت پر اپوزیشن کا احتجاج اپنی جگہ لیکن انتخابی نتائج کو قبول کرلینا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت ہے۔دھاندلی کی گردان کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔
گلگت بلتستان آرڈر 2018 ء کی بحالی
سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 بحال کر دیا ہے، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی عدالت کافیصلہ معطل کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسرے شہریوں کو ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ حکومت یقینی بنائے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کوبھی بنیادی حقوق میسرہوں۔سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی عدالت کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل منظورکرتے ہوئے اس کافیصلہ معطل کر دیا۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کا نفاذ رواں سال کیا گیا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اب گلگت بلتستان اسمبلی کہلائے گی۔گلگت بلتستان میں آئین پاکستان کے تحت سٹیزن ایکٹ 1951 بھی لاگو کردیا گیا ہے، 5سال کیلئے اسے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان چیف کورٹ کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان ہائیکورٹ رکھ دیا گیا ہے۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کے نفاذ سے گلگت بلتستان اسمبلی کو صوبائی اسمبلیوں کی طرح قانون سازی سمیت تمام اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کونسل کے مکمل خاتمے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اسے مشاورتی کونسل کی حیثیت دیدی گئی، وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان پر وہی اختیارات ہوں گے جو دیگر صوبوں سے متعلق حاصل ہیں۔گلگت بلتستان آرڈر کے بعد گلگت بلتستان چیف کورٹ گلگت بلتستان ہائی کورٹ میں تبدیل ہوگئی اور اس کے ججوں کی تعداد 5سے بڑھا کر 7ہو گئی جبکہ اب گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کا چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا ریٹائرڈ جج ہوگا۔

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative