adaria 3

عمران ٹرمپ ٹیلیفونک رابطہ، خطے کے مسائل حل کرنے پر اتفاق

افغانستان سے مغربی مغویوں کی رہائی کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس پر ٹرمپ نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افغان مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم اظہار کیا ۔ دونوں رہنماءوں کے مابین قومی اور بین الاقوامی خصوصی طورپر مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا، عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی گئی کاوشوں کوسراہا ۔ اس موقع پر دونوں رہنماءوں نے مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ،اس دوران دونوں رہنماءوں نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم ہاءوس کے مطابق ٹرمپ سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مغربی یرغمالیوں کی افغانستان میں رہائی مثبت پیشرفت ہے، پاکستان کو خوشی ہے کہ رہا ہونے والے مغربی یرغمالی محفوظ اور ;200;زاد ہیں ۔ اس موقع پر امریکی صدر نے اس معاملے پر پاکستان کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور مستحکم افغانستان کےلئے افغان امن اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے مشترکہ مقاصد کے فروغ کےلئے اکٹھے ملکر کام جاری رکھنے سے اتفاق کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ 100 سے زائد دنوں سے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ عوام مسلسل بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں ۔ عمران خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کے پرامن حل کےلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل کوششوں اورثالثی کی پیشکش کو سراہا ۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر پر زوردیا کہ وہ تنازع کشمیر کے پرامن حل کےلئے سہولت کاری کی کوششوں کو ہر صورت جاری رکھیں ۔ دونوں رہنماءوں نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں اپنی گفتگو کا تذکرہ کرتے ہوئے متعلقہ کثیر الطرفہ فورم سمیت دوطرفہ تعاون کومزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے مسلسل رابطوں میں رہنے پر بھی اتفاق کیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بدھ مت جوگے ;200;رڈر کے صدر ;200;ن ہنگ کی قیادت میں ملنے والے وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت میں کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم ;200;ہنگی کےلئے پرعزم ہے اور پاکستان دنیا کی مختلف تہذیبوں کا مرکز ہے، بدھ مت، ہندومت اور سکھ مذہب کے مقدس مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن کی ہر ممکن طریقہ سے حفاظت کی جارہی ہے، پاکستان کو بدھ مت کے ورثے پر بھی فخر ہے اور پاکستان حکومت عام سیاحت کےساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کے فروغ کےلئے بھی بھرپور عملی اقدامات کررہی ہے، جنوبی کوریا کے بدھ مت وفد کا پاکستان کے حالیہ دورہ سے تمام مذاہب کے مابین امن ، ہم ;200;ہنگی اور مفاہمت کےلئے اشتراک و تعاون کا قابل قدر پیغام ملا ہے ۔ پاکستان کو امید ہے کہ جوگے ;200;رڈر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین تاریخی ثقافتی اور مذہبی روابط کو مزید اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگا جس سے بدھ گندھارا تہذہب میں لوگوں کی دلچسپی بڑھے گی اور دونوں ممالک کے مابین دوستانہ روابط کو فروغ ملے گا ۔ جوگے ;200;رڈر کے صدر ;200;ن ہنگ نے بدھ ورثہ کے تحفظ کےلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی امن اور بین المذاہب ہم ;200;ہنگی کے فروغ کےلئے وزیراعظم عمران خان کے کردار پر شکرگزار ہیں ۔ انہوں نے جمہوریہ کوریا میں بدھ ورثے کے فروغ کےلئے حکومت پاکستان کےساتھ ملکر کام کرنےکی خواہش کا بھی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے بدھ زائرین کو پاکستان ;200;نے کی بھی ترغیب دینگے ۔ جمہوریہ کوریا میں بدھ مذہب کے سب سے بڑے فرقہ کے وفد کا صدر جوگے ;200;رڈر کی قیادت میں پاکستان کے دورہ سے مذہبی سیاحت اور مختلف مذاہب کے مابین ثقافتی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا ۔ یہ اعلیٰ سطحی بدھ وفد پاکستان کے مختلف مقامات پر بدھ مت کے مقدس مقامات اور ان کی زیارت کےلئے ;200;نیوالے غیر ملکی وفد کی سیکورٹی کے بارے میں کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا جبکہ پاکستان میں بدھ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کےلئے پاکستان حکام سے بھی بات چیت کرے گا، علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان اور ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بھی بات کی اور ملک میں امن و امان کی صورتحال میں پاک فوج کے کردار کی بھی تعریف کی ۔ نیز وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ۔ جنرل زبیر محمود حیات کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل ندیم رضا 27 نومبر کو بحیثیت سی جے سی ایس سی کاعہدہ سنبھالیں گے ۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا نے انفنٹری 10 سندھ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ، کوہاٹ میں انفنٹری ڈویژن کی کمان بھی کی ۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں چیف آف جنرل سٹاف ، کور کمانڈر راولپنڈی جیسی پوزیشنوں پر بھی تعینات رہے ۔

مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا،

سبزیوں کے بعد بجلی بھی مہنگی

عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے خصوصی طور پر سبزیوں کے حوالے سے تاحال قیمتیں کنٹرول میں نہیں آسکیں ، کوئی بھی سبزی80 اور 100روپے کلو سے کم نہیں ، ٹماٹر اب بھی 250 روپے کلو فروخت ہورہاہے، ایک غریب آدمی جو ہفتے کی سبزی400 سے 500 کے درمیان لے جاتا تھا اب وہی سبزی 7 سے 8ہزار روپے میں آرہی ہے ۔ مہنگائی قابو کرنے میں حکومت قطعی طور پر ناکام ہوچکی ہے، رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب نیپرا نے بجلی ایک روپیہ 82 پیسے مزید مہنگی کردی ۔ نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ ستمبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے ۔ نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں دسمبرکے بجلی بلوں میں اضافہ صارفین سے وصول کریں جب کہ لاءف لائن صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو سہولیات بہم پہنچائے جووعدے وعید کیے تھے انہیں پورا کیا جائے، پانی، بجلی اور گیس کے بل ہی ادا کرتے کرتے غریب فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم ازکم بنیادی سہولتیں تو فراہم کرے ۔ پھر نیز عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے افراد اور سیاسی پارٹیوں نے عوام کو جو سبز باغ دکھائے تو کیا اس کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے متعدد مرتبہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ اس سلسلے میں خصوصی کمیٹیاں بھی بنائی گئیں ، پنجاب میں ماڈل بازار بھی شروع کیے جارہے ہیں جہاں پر سستے داموں سبزیوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ نیز کسان پلیٹ فارم بھی قائم کیا جارہا ہے، کسانوں کو مفت اسٹال دئیے جائیں گے ۔ یہ اقدام احسن ہیں لیکن عملی طورپر اس کا نتیجہ بھی چاہیے ۔ پنجاب تو بہت دور کی بات ہے وفاقی دارالحکومت میں ہی ہوشربا مہنگائی کا راج ہے، اتوار، سوموار، منگل بازار میں بھی اشیاء سستے داموں ناپید ہوچکی ہیں ، غریب عوام کو سمجھ نہیں آرہا پہلے تو لوگ کہتے تھے گوشت مہنگا ہے تو سبزی کھائیں ، اور اب سبزی بھی قوت خرید سے باہر نکل چکی ہے ۔ حکومتی اقدامات کے خاطر خواہ نتاءج سامنے نہیں آرہے ایران سے ٹماٹر منگوانے کے باوجود بھی مارکیٹ میں ٹماٹر کا بھاءو اپنی جگہ قائم و دائم ہے ۔ وزیراعظم اور متعلقہ ادارے اس وجہ کو تلاش کریں جس کی وجہ سے تاحال ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں سستی نہیں ہوسکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں