Home » کالم » غوری میزائل کا کامیاب تجربہ

غوری میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستان نے اپنا نیوکلیائی پروگرام 1970ء کی دہائی میں شروع کیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے کرم سے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اورآج پاکستان نہ صرف ایک نیوکلیائی طاقت ہے بلکہ اس کے نیوکلیائی میزائل بھی دنیا میں بہترین ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان کی نیوکلیائی اور میزائل ٹیکنالوجی خطے میں بہترین ہے۔گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ نے غوری میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ میزائل روایتی اور نیو کلیئر وار ہیڈ لے جانے سمیت 1300 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔تجربے کا مقصد آرمی اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ کی آپریشنل اور ٹیکنکل تیاری تھا۔ اس کامیاب تجربے کے بعد صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل زبیر محمود حیات نے متعلقہ حکام کو علیحدہ علیحدہ تہنیتی پیغامات دیے۔ نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ امریکہ، روس کے بعد پاکستان کا میزائل سسٹم تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ہے ۔دشمن پاکستان کیخلاف مہم جوئی سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔حتف میزائل ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے۔آئی ایس پی آر کاکہناہے کہ یہ ایک ملٹی ٹیوب بلیسٹک میزائل ہے یعنی لانچ کرنے والی وہیکل سے ایک سے زائد میزائل داغے جا سکتے ہیں۔حتف نبی کریم ؐکی تلوار کانام تھا لہٰذا پاک فوج نے اس راکٹ کا نام حتف رکھا۔یہ ایک آرٹلری راکٹ ہے اور بہت عمدہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ غزنوی ایک ہائپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے جبکہ اس کی رینج 290کلومیٹر تک ہے۔اس کی لمبائی 9.64میٹر،چوڑائی 0.99میٹر اور وزن 5256کلوگرام ہے۔ ابدالی بھی سوپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل ہے جبکہ اس کی رینج 180 سے 200کلومیٹر تک ہے۔غوری میزائل کا نام عظیم فاتح محمد غوری کے نام پر رکھا گیا ہے۔یہ میڈیم رینج کا میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مارکرتا ہے اور700کلوگرام وزن اٹھا کر 1500 کلومیٹر تک جاسکتا ہے۔شاہین Iبھی ایک سپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والابلیسٹک میزائل ہے جو روایتی اور نیوکلیائی مواد 750کلومیٹر تک لے جاسکتا ہے۔ غوری II ایک میڈیم رینج بلیسٹک میزائل ہے جس کی رینج 2000کلومیٹر ہے۔اس کی موٹائی 18میٹر، موٹائی1.35میٹراورلانچ کے وقت وزن 17800کلوگرام ہے۔ شاہین II زمینی بلیسٹک سپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے اور اس کی رینج بھی 2000کلومیٹر ہے۔یہ دوسٹیج والاراکٹ ہے جس کا وزن 25 ٹن، لمبائی17.5میٹراور چوڑائی 1.4میٹر ہے۔ شاہین IIIمیزائل 9مارچ2015ء کو ٹیسٹ کیا گیا۔اس کی مار 2750کلومیٹر تک ہے اور اس کی بدولت پاکستان کا ہر دشمن اب پاک فوج کی رینج میں آگیاہے۔یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا میڈیم رینج کا بلیسٹک میزائل ہے۔بابراس کا نام مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے نام پر رکھا گیا ہے۔یہ پاکستان کاپہلا کروزمیزائل ہے اور اس کی رینج 700کلومیٹر ہے۔ یہ دشمن کے ریڈار سے بچ کر اس کے ائیڑ ڈیفنس کو تہس نہس کرسکتا ہے۔ پاکستان نے لانگ رینج کے علاوہ شارٹ رینج میزائل سسٹم بھی بنارکھا ہے جو بھارت کے جوہری روایتی ہتھیاروں میں بھارت سے بہتر ہے۔ اس کے باوجود جنوبی ایشیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ بھارتی عسکری ماہرین اور تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے میزائل سسٹم اگنی میں ابھی وہ آگ نہیں جو پاکستان کا مقابلہ کرسکے۔ بھارت کا آکاش، ترشول اور پرتھوی میزائل سسٹم بھی مقابلتاً تکنیکی طور پر پیچھے ہیں۔ پاکستان کے ریڈار سرویلین سسٹم میں نظر آئے بغیر بھارتی فضائیہ کے طیارے پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرکے واپس جانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہندوستان کو پاکستانی میزائلوں سے چوکنا رہنا ہے۔ کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی شکست کی نہیں ہندوستان کی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگا۔ حتف میزائل کا سلسلہ غزنوی، ابدالی، غوری، شاہین، بابر سے ہوتا ہوا 2750 کلومیٹر رینج کے حامل شاہین 3 تک پہنچ چکا ہے جو بھارت کے مشرق میں خلیج بنگال تک مارکرسکتا ہے اور رعد کی بات کریں تو بحر ہند کے پانیوں میں پاکستان نہ صرف اپنے تحفظ کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ سمندری حملے کی اتعداد بھی حاصل کررہا ہے۔پاکستان کا میزائل پروگرام بیلسٹک اور لانچنگ دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ نیشنل کمانڈاتھارٹی اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویڑن کے اشتراک عمل سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم وضع ہوچکا ہے۔ بھارت کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر شک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے پاس گو ایٹمی ہتھیار مقدار میں زیادہ ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے پاس بھارت کے تناظر میں ایٹمی ہتھیاروں کی کمی نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔الحمداللہ پاکستان ایٹمی طاقت بھی ہے، میزائلوں سے بھی لیس ہے۔ ایک بہترین پیشہ ور فوج بھی موجود ہے، اس لحاظ سے کسی جارح کیلئے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی اپنے دفاعی تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور پاکستان نے پچھلے چند عشروں میں اس حق کو کامیابی اور ذمہ داری سے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے اور دہشت گردوں یا انتہاپسندوں کی اس تک رسائی ہو سکتی ہے تاہم پاکستان نے ایک طرف تو کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی تشکیل کی ہے اور دوسری طرف کئی اقدامات کر کے دنیا کا منہ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام صرف اور صرف پاکستان کی دفاعی ضروریات کیلئے ہے۔ پاکستان کے نہ تو کوئی استعماری عزائم ہیں اور نہ ہی پاکستان اپنی سرحدوں سے باہر کسی دوسرے ملک کی خاطر ہتھیار اٹھانے کے شوق میں مبتلا ہے۔ پاکستان کی دفاعی طاقت اور صلاحیت سے جارحیت کے جنون میں مبتلا قوموں کی از خود حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

About Admin

Google Analytics Alternative