Home » کالم » فلاحی ریاست کی جانب پہلاعملی قدم
adaria

فلاحی ریاست کی جانب پہلاعملی قدم

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا افتتاح کر دیا ہے، پروگرام کے تحت نادار اور ضرورت مند افراد کو مفت کھانے کی سہولت میر ہوگی،لنگر سکیم حکومت کی جانب سے جاری کردہ سماجی و فلاحی بہبود کے جامع پروگرام احساس کا اہم جزو ہے، اسلام ;200;باد سے شروع کی جانے والی اس سکیم کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا ۔ پاکستان تحریک انصاف نے ’احساس سیلانی لنگر‘سکیم کا آغاز کرکے یقینی طورپرایک غریب شخص کے احساس کرنے کاثبوت دیاہے ،اس پروگرام پر عملدرآمد سے ملک بھر میں غربت کاخاتمہ ہوگا، گوکہ بظاہرحالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ہے لیکن اس مشکل وقت کے بعد اچھے وقت کی امید ہے ،کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپناذاتی مفاد زیادہ اور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا، وزیراعظم عمران خان نے نادار افراد کا معیار زند گی بلند کرنے کےلئے ’احساس سیلانی لنگر‘ پروگرام کے تحت غربت میں کمی کی حکمت عملی کا ;200;غاز کیاہے ۔ دنیا کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ خاص کرپاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس بنا پر عوام نہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور نہ جمہوریت اور آمریت میں ان کی دلچسپی ہے ان کیلئے وہی لیڈر اچھا ہے جو ان کے بنیادی مسائل حل کرسکے ۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ لوگ صبر نہیں کرتے اور13 ماہ میں کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان، شروع میں ریاست مدینہ کے بھی مشکل حالات تھے، حکومت کاروباری، صنعتی اور امیر طبقے کی مدد کر رہی ہے، ان سے ٹیکس اکٹھا کرکے غریبوں پر خرچ کریں گے، پاکستان بدلے گا لیکن تبدیلی آہستہ آہستہ آئے گی ، پولیس کا نظام تبدیل کررہے ہیں تاکہ تھانوں میں ظلم نہ ہو ۔ نیکی کے کام سے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے، پہلے فیز میں 112 لنگر خانے شروع کئے گئے ہیں ، احساس پروگرام غربت کم کرنے کا پروگرام ہے ۔ یہ ملک کی تاریخ کا غربت میں کمی کا سب سے بڑا پروگرام ہے جسے چھوٹے شہروں تک بھی پہنچایاجائے گا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے امریکی ارکان سینیٹ کرس وان ہولین اور میگی حسن نے ملاقات کی جس میں امریکی رکن کانگریس طاہر جاوید، ناظم الامور پال جونز بھی شامل تھے ۔ ا مریکی وفد نے آزاد کشمیر کے دورے کے بعد ذاتی مشاہدے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرپرتعاون کرنے پرسینیٹرز سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بھارت نہیں جو میں سمجھتا تھا، مودی نے بھارت کا چہرہ پوری دنیا میں تبدیل کردیا ہے، میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا حامی تھا لیکن اب جب تک بھارت کشمیر کے حالات بہتر نہیں کرتا مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتاءج ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں ، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی ۔ افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر مرحلہ وار بات چیت ہونی چاہیے، طالبان چاہتے ہیں کہ امن ہو اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو ۔ اس موقع پرامریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر کشمیراورافغان امن عمل آگے بڑھانے پرزوردیں گے ۔ وزیراعظم نے بالکل واضح اوردوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے سینیٹرز کا اس حوالے سے شکریہ بھی ادا کیاکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر سے متعلق آوازاٹھائی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر خدانخواستہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو پوری دنیا کے لئے یہ ایک ہولناک مسئلہ ثابت ہوگا چونکہ عمران خان نے کہاتھا کہ وہ کشمیریوں کے سفیربنیں گے انہوں نے یہ حق ادا کردیا ۔ پوری دنیا کے سامنے ہٹلر کے پیروکار فسطائیت پرعمل کرنے والے دہشت گرد نام نہاد جمہوریت کے دعویدار مودی کاچہرہ بے نقاب کردیا ہے اوربھارت کابھی وہ مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا ہے جہاں پراقلیتوں کی زندگیاں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزررہی ہیں دہشت گرد تنظیم آرایس ایس کے مقاصد اوراس کی مناظرکے حوالے سے دنیا کوآگاہی کرائی اوربتایا کہ مودی فاشسٹ کس طرح اکھنڈبھارت بنانے کے فارمولے پرعمل پیرا ہے لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا اب صرف کشمیر ہی آزاد نہیں ہوگابھارت کے اندربھی آزادی کی تحریکوں کا آغاز ہوچکا ہے مودی جواپنے تئیں کوئی نئی تاریخ لکھنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن مورخ لکھے گا کہ اس مودی ہی کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اوراس ایک بھارت میں سے کئی نئی ممالک ابھریں گے ۔ ادھروزیراعظم نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دےدی ۔ وزیر اعظم نے پلان حتمی منظوری کےلئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ ترقیاتی اتھارٹی کی تنظیم نو کا مقصد خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے ۔ چیئرمین سی ڈی اے نے گذشتہ چھ ماہ کی پیشرفت رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی ، بریفنگ میں بتایاگیاکہ پہلی بار ، سی ڈی اے کے مالی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے سیکٹر کی ترقی تعطل کا شکار رہی،سی ڈی اے اب تعطل کا شکار شعبوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ وزیراعظم کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں پیشرفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔ ماسٹر پلان میں نظرثانی کے لئے کمیشن کی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے دارالحکومت میں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بروقت منصوبہ بندی کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے دارالحکومت کے ماسٹر پلان کا جائزہ لینے کے لئے کمیشن کی کوششوں کو سراہا ۔ شہری آبادی میں اضافے کے پیش نظر نئے بلڈنگ کوڈ پر جلد عملدرآمد کیا جائے، بڑھتی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے پانی کی دستیابی یقینی بنائے جائے ۔ دارلحکومت کے گرین بیلٹس کو محفوظ بنانے کےلئے اقدامات بھی کئے جائیں ۔

آزادی مارچ،جے یو آئی کی جانب سے مثبت قدم

مولانافضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی سیاست حالات اورواقعات کومدنظررکھتے ہوئے کی اور جیسے ہی وہ سیاسی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں توانہیں بخوبی علم ہوجاتا ہے کہ سیاسی مہرے کیاچال چل رہے ہیں ، آزادی مارچ کا اعلان کیا اس سے قبل بیک ڈورڈپلومیسی کی، سب کوراضی کیامگر آخر میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے تحفظات سامنے آگئے انہی تمام معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے رہبرکمیٹی کے تحت اے پی سی اجلاس بلانے پراتفاق کیاگیا اور اس کے بعدجمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی جماعت کا اسلام آباد کے لاک ڈاوَن یا دھرنے کا کوئی پروگرام نہیں ، لاک ڈاوَن اور دھرنے کے الفاظ جلتی پہ تیل کا کام کر رہے ہیں ، جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج کا نام صرف ’آزادی مارچ‘ ہے، یہ مارچ کتنا طویل ہونا چاہیے اس کا فیصلہ وقت اور حالات کے مطابق کیا جائے گا، ہم اپنے پَتے وقت سے پہلے شو کرنا نہیں چاہتے ۔ ;200;مدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات اور ہاءوسنگ فاونڈیشن کے دو منصوبوں ٹھیلیاں اور بہارہ کہو پراجیکٹ سے متعلق سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی سے نیب راولپنڈی کی ٹیم نے چار گھنٹوں سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی، اکرم خان درانی کو نیب کی جانب سے سوالنامہ بھی تھما یا گیا ہے، اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ جس انکوائری میں انھیں طلب کیا گیا ہے اس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ،نیب جب بلائے گا پیش ہوں گے، ;200;زادی مارچ پر بات کرتے ہوئے اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم ;200;زادی مارچ ضرور کرینگے، کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ رکھی گئی ہے،لاک ڈاون اور دھرنا کی بات ہم نے نہیں میڈیا نے کی، تمام اپوزیشن جماعتوں کا احترام کرتے ہیں ،مولانا فضل الرحمان کی مشاورت کے بعد دو تین روز میں رہبر کیمٹی کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت کیخلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق 27 اکتوبر سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع ہوجائے گا، ملک بھر سے قافلے اس مارچ میں شریک ہوں گے، مولانا کے مطابق اس حکومت کو چلتا کرکے دکھائیں گے ۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتاءج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ۔ 19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ مولانافضل الرحمن کاکہناہے کہ حکمرانوں کو مزید وقت دیا گیا تو وہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے ۔ ہماری جنگ ملک دشمن پالیسی سازوں سے ہے، احتجاج آئین و قانون کے دائرے میں پرامن ہوگا، آئین کی اسلامی شقوں کا تحفظ، دوبارہ انتخابات اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مشترکہ ومتفقہ بیانیہ ہے ۔

ایف اے ٹی ایف،بھارت کوایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بیان مسترد کر دیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا بھارت ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے خلاف سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارت ایف اے ٹی ایف کی پاکستان سے متعلق کارروائی پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ بھارت ایشیا پیسفک گروپ میں اپنی معاون چیئرمین شپ کا غلط استعمال کر رہا ہے، پاکستان اس سلسلے میں اپنے تحفظات رکن ممالک کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ توقع ہے کہ ارکان بھارت کی ان گمراہ کن سازشوں میں نہیں آئیں گے اور ارکان بھارت کی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کو مسترد کر دیں گے ۔ بھارتی وزیر دفاع کا ایف اے ٹی ایف پر بیان حقائق کے منافی ہے ۔ بھارت کے اس جانبدار طرز عمل کو ٹاسک فورس کے سامنے رکھیں گے ۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا پاکستان کسی بھی وقت بلیک لسٹ ہو جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھارتی خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا پاکستان اس حوالے سے تمام وہ شرائط جو ملک وقوم کے مفاد میں ہوں انہیں پورا کرنے کے لئے ہمہ تن گوش ہے تاہم چونکہ بھارت ہمارا اذلی دشمن ہے اوروہ کبھی بھی ،کہیں بھی یہ نہیں چاہتاکہ پاکستان کو کسی طرح کوئی بھی فائدہ حاصل ہو ۔ گزشتہ تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو ہر فورم پر اس نے پاکستان کی مخالفت کی لیکن اس کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی اب بھی وہ ایف اے ٹی ایف میں پوررا زورلگارہاہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان شکنجے میں آجائے لیکن تاحال ایسا ہوتانظرنہیں آرہا ۔ البتہ اس امر پر ضرورفکرمندی ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جوشرائط پاکستان کے سامنے رکھی تھیں اس کو مکمل طورپرپایہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی وجہ سے فیٹف نے بھی تحفظات کا اظہار کیاہے ۔ امیدقوی ہے کہ پاکستان انہیں ہرممکن پورا کرلے گا اور یہاں پربھی حسب روایت بھارت کو ایک اورہزیمت کاسامناکرناپڑے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative