Home » کالم » فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک(4)
rana-biqi

فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک(4)

rana-biqi

2 نومبر 1917 برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں اور بعد میں لیگ آف نیشنز کے حکم پر دسمبر 1947 تک برطانوی مینڈیٹ فلسطین میں قائم رہا جب اینگلو امریکن منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو دو غیر متوازن ریاستوں اسرئیل اور فلسطین میں تقسیم کر دیا گیا جبکہ فلسطین کی آزاد ریاست کو قائم نہ ہونے دیا گیا اور فلسطین کے بیشتر علاقوں پر اسرائیل نے جنگ مسلط کرکے طاقت کے زور پر قبضہ کرلیا ۔ فلسطینی عربوں پر ظلم و ستم اور برطانوی حکومت کی عربوں کو آزادی دینے کے وعدے کی خلاف ورزی اور فلسطین کی غیر متوازن تقسیم کی پیش گوئی قائداعظم نے 1937 اور 1938 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں خطبہ صدرات پیش کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے ۔چنانچہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے فلسطینیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں اُن بہادر غازیوں کیساتھ ہیں جو غاصبوں کے خلاف حریت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ 15 اکتوبر1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھأو میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت کے حوالے سے کہا تھا : ” اب میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا مسلمانانِ ہند پر گہرا اثر پڑا ہے۔ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے بر طانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے یہودیوں کیساتھ مل کر اپنے آپ کو عربوں پر مسلط کر دیا تھا اور اب یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے اعلان کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اگر اس پالیسی کو نافذ کر دیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خون ہو جائے گا۔ میں صرف مسلمانانِ ہند کی ہی نہیں بلکہ مسلمانانِ عالم کی ترجمانی کر رہا ہوں اور تمام انصاف پسند اور فکرو نظر رکھنے والے لوگ میری تائید کریں گے جب میں یہ کہوں گا کہ اگر برطانیہ نے عربوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ برطانیہ اسلامی دنیا میں اپنی قبر خود کھود رہا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے ۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے میں اُن کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند اس منصفانہ اور جرأت مندانہ جدوجہد میں فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے” ۔26 دسمبر 1938 میں قائد اعظم نے پٹنہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” دوسرا اہم مسئلہ جو سبجیکٹ کمیٹی میں پیش ہو گا وہ فلسطین کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس مسئلے نے مسلمانوں میں کس قدر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عربوں کے ساتھ بے شرمانہ سلوک کیا گیا ہے۔اُنہیں سنگین کی نوک پر مارشل لاء جاری کر کے دبایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عرب قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری تمام ہمدردیاں ان بہادر غازیوں کے ساتھ ہیں جو غاصبوں سے حریت کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں” ۔فلسطین کے موضوع پر اِسی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے قائد اعظم نے 5 جون 1946 میں دہلی میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں فرمایا: ” اینگلو امریکن کمیٹی نے فلسطین میں ایک لاکھ یہودی بھیجنے کی سفارش کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ یہ انتہائی بے ایمانہ فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے۔عربوں کو چاہیے کہ وہ ان غیر منصفانہ سفا ر شات کا مقابلہ کریں اور غیر ملکی یہودیوں کو فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی یہی پالیسی قائم و دائم رہی۔ 19 دسمبر 1947 میں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے غیر منصفانہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوست ملک امریکہ یا دیگر کسی ملک کو ناراض کرنا نہیں چاہتا لیکن ہماری انصاف کی فطرت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم ہر ممکن طریقے سے فلسطین میں عربوں کی کاز کی مدد کریں۔ چنانچہ یمن کے بادشاہ کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے کہا کہ اُنہیں فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کے غلط فیصلے سے حیرت ہوئی ہے اور صدمہ پہنچا ہے۔ میں اپنے عرب بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن مدد کریگا۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان چونکہ خود کشمیر میں جارحیت اور بے انصافیوں کا شکار رہا ہے اور ماضی میں عرب ملکوں کی اکثریت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ اوراسلامی کانفرنس کے ایوانوں میں پاکستان کی بھر پور حمایت کرتی رہی ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی حمایت مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہنے کے علاوہ حق و انصاف کے اصولوں پر ہی مبنی رہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خارجہ پالیسی کی بنیاد تو قائد اعظم نے جراتِ رندانہ اختیار کرتے ہوئے برطانوی حکومت ہند کے دور میں ہی رکھ دی تھی جب برطانوی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھنے پر ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔ چنانچہ قائداعظم کی بنائی گئی اِسی پالیسی کو قیام پاکستان کے بعد بھی عملاً اختیار کیا گیا ۔ بہرحال ، پاکستان میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی کو ہر دورِ حکومت میں جاری و ساری رکھا گیا ہے اور خصوصیت سے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں بھی مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اِسی پالیسی کا بھرپور اعادہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ جب 1969 میں اُس وقت دنیا بھر میں مسلم امّہ کے جذبات انتہائی مجروح ہوئے جب انتہا پسند صیہونیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ میں آگ لگانے کی بھیانک واردارت کی چنانچہ اِس مرحلے پر دیوار گریہ کی کھدائی کے صیہونی منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کے ارد گرد موجود اسلامی ورثہ کی تباہی کا پلان بھی نوٹس میں آیا تو جولائی 1979 میں مراکش کے شاہ حسن دوم کی قیادت میں القدص کمیٹی قائم کی گئی اور ا،س کمیٹی نے عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کی توجہ اسرائیل کے اِن غیر انسانی منصوبوں کی جانب مبذول کرائی تو پھر القدس کی مجموئی صورتحال میں بھی تبدیلی کا عنصر دیکھنے میں آیا ۔ صد افسوس کہ بیت المقدس اور فلسطین کے دوریاستی حل کے حوالے سے معاملہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبلہ اوّل کی پاک سرزمین پر اسرائیلی جارحیت کو مہمیز دینے کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس کی سرزمین پر منتقل کر دیا ہے جس کے فوراً بعد اسرائیل نے پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں کو خون میں نہلا کر رکھ دیا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔ یہ اَمر قابل اطمینان ہے کہ پاکستان کے بجائے اِس مرتبہ خود ترک حکومت نے فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف اسلامی ملکوں کی کانفرنس کا انعقاد ترکی میں کیا جہاں صدر ٹرمپ اور اسرائیل کی فاشسٹ پالیسیوں کی سخت مذمت کی گئی۔حقیقت یہی ہے کہ عراق، شام اور لبنان میں اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کی مداخلت کے سبب عرب ممالک سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور مسئلہ فلسطین پر مضبوط موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ اندریں حالات ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پاکستان کو ترکی کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و امان کی فضا قائم کی جا سکے جس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی ثبت ہوتے رہے ہیں ۔ ختم شد۔

About Admin

Google Analytics Alternative