Home » کالم » اداریہ » فوجی عدالتوں میں توسیع کابل، اتفاق رائے کی ضرورت
adaria

فوجی عدالتوں میں توسیع کابل، اتفاق رائے کی ضرورت

گزشتہ روز وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دوسالہ توسیع کیلئے دستور میں 24 ویں ترامیم کابل قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کی پیپلزپارٹی اور حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام(ف) نے مخالفت کی جس کے بعد یہ بل اتفاق رائے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ۔ نئی ترامیم کے تحت ریاست کیخلاف سنگین کارروائیاں کرنے والوں کیخلاف مقدمات بلا تفریق فوجی عدالتوں کے سپرد کیے جاسکیں گے ۔ان دو الگ الگ بلزکو ذیل کے تناظر میں یوں دیکھا جاسکتا ہے۔وزیر قانون نے پاکستان آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل 2017 پیش کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے خاتون رکن شگفتہ جمانی نے دونوں بلز کی مخالفت کی جبکہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے اراکین واک آؤٹ کے باعث ایوان میں موجود نہیں تھے پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحادی جمعیت علماء اسلام (ف) نے آئین و قانون میں ان ترامیم کو امتیازی قرار دے دیا ہے۔ اتحادیوں میں مولانا فضل الرحمان نے باقاعدہ طور پر عدم اتفاق کیا ہے ۔ایوان میں پیش آئینی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی واقعات اور حالات اب بھی موجود ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ بعض جرائم جو دہشت گردی پاکستان کے خلاف جنگ یا بغاوت سے متعلق ہیں کی فوری سماعت کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور ان محرکات کو روکا جائے جن سے دہشت گرد یا دہشت گرد جماعتیں یا مسلح گروہ‘ جتھے اور جنگجو یا ان کے کے ارکان جو مذہب یا فرقہ کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے یا ریاست کے خلاف سنگین اور انتہائی شدید دہشت گردی کے فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کررہے ہیں اور ہرگاہ کہ پاکستان کی سلامتی اور مقاصد کو جو دستور سازوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے ابتدائیہ میں بیان کئے گئے ہیں بعد ازایں جس کا حوالہ دستور کے طور پر دیا گیا ہے کو دہشت گرد جماعتوں سے جنہوں نے مذہب یا فرقہ کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے یا ریاست کے خلاف سنگین اور انتہا شدید دہشت رگردی کے فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے یا بیرونی اور مقامی غیر ریاستی عناصر کے سبب فراہم کردہ فنڈ سے ہتھیار اٹھانے اور بغاوت کا شدید اور غیر متوقع خطرہ اب بھی موجود ہے ۔ مذکورہ دہشت گرد جماعتیں بشمول کوئی بھی ایسی دہشت گردی کی لڑائی جبکہ وہ مذہب یا فرقہ کے نام کا غلط استعمال کررہی ہوں یا ریاست کے خلاف سنگین اور انتہائی شدید دہشت گردی کے فعل کا ارتکاب کررہی ہوں مسلح افواج یا بصورت دیگر کے ساتھ لڑائی پر گرفتار ہوتا ہے یا گرفتار کیا جاتا ہے تو دفعہ 3 میں بعد ازیں متذکرہ ایکٹس کے تحت قائم کردہ عدالتوں کی جانب سے سماعت کیا جاتا ہے اور ہرگاہ کہ پاکستان کے لوگوں نے اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستان سے مستقل طور پر پوری طرح سے ختم اور جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے یہ قرین مصلحت ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور سا لمیت کے مفاد میں حسب ذیل خصوصی اقدامات لینے کیلئے ان کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور فوجی عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کو ممکن بنایا جائے۔ آئین میں ترمیم کی اغراض و وجود میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات و واقعات جنہوں نے ملک کی سلامتی اور سالمیت پاکستان کو مختلف دہشت گرد جماعتوں‘ مسلح گروہوں‘ ونگز اور مسلح جتھوں اور ان کے ارکان سے پیدا ہونے والے سنگین خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے دستور اکیسیویں ترمیم ایکٹ 2015 نمبر بابت 2015دو سالہ انقضاء کی شق کے ساتھ منظور کیا گیا تھا جس نے پاکستان بری فوج ایکٹ 1952کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت کے قابل بنایا۔ ان اقدامات نے دہشت گردی کی بیخ کنی میں مثبت نتائج فراہم کئے لہذا اسی لئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ دستوری ترمیم کے ذریعے ان خصوصی اقدامات کو مزید دو سالہ مدت کے لئے بدستور رکھا جائے۔ پارلیمانی کمیٹی پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان بلز پر سنجیدہ غوروفکر کرے اور پارلیمانی جماعتوں کے تحفظات دور کرے تاکہ منظوری کے بعد اسے سینیٹ میں بھیجا جائے ۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع وقت کی ضرورت ہے یہ عدالتیں انسداد دہشت گردی میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں ۔ حکومت اور اپوزیشن کوچاہیے کہ وہ اس معاملہ پر مل بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ ایک دوسرے کے تحفظات دورہوں اور معاملہ ادراک کی طرف بڑھے ۔
گستاخانہ مواد کی تشہیر کیخلاف سینیٹ میں متفقہ قرارداد
سینیٹ میں سینیٹر کامل علی آغا نے سوشل میڈیا پر نبی کریمﷺ ‘ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے حوالے سے توہین آمیز مواد کی مذمت کے لئے قرارداد ایوان میں پیش کی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا۔ تمام انبیاء اور بالخصوص امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت عظام کے ناموس کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ناموس رسالت اور صحابہ کرام کے حوالے سے توہین آمیز مواد کے ذریعے بعض عناصر مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام کسی بھی مقدس ہستی کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ متعلقہ محکمہ 295سی کے تحت ایسے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائے اور سوشل میڈیا سمیت تمام ایسے ذرائع کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کا قانون ناموس رسالت، ناموس انبیاء اور ناموس صحابہ کو تحفظ دیتا ہے، ہم انبیاء کی توہین کی اجارت نہیں دے سکتے، حالیہ دنوں میں کچھ عناصر نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شان رسالت میں گستاخی کی، حکومت ایسے گستاخانہ مواد کو روکے، گستاخانہ مواد پھیلانے والے اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنادیں۔ جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد ڈالنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کیخلاف سخت اقدامات کرے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی مذموم جرأت نہ کرپائے۔ یہی وقت کی پکار ہے۔
پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ نہیں ہونا چاہیے
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملکی خودمختاری اور قومی وقار پر آنچ آئے بغیر پاک امریکہ تعاون اور اشتراک کو مزید وسعت دی جائے ، دہشت گردی جیسے اہم مسئلے کی موجودگی میں پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ یا نئے تجربات کی روش مشترکہ مفادات کے حصول کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان کی پالیسی اور نقطہ نظر امریکی ایوانوں، اداروں اور شخصیات تک موثر انداز میں پہنچایا جائے جنہوں نے پاکستان پر تنقید اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بطور پاکستان سفیر آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی کی پاکستان کی پالیسی اور نقطہ نظر امریکی ایوانوں، اداروں اور شخصیات تک موثر انداز میں پہنچایا جائے جنہوں نے پاکستان پر تنقید اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بجا فرمایا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور قومی وقار پر آنچ نہیں آنی چاہیے اور پاک امریکہ تعلقات کو وسعت دینی چاہیے۔ پاکستان کی پالیسی اور نقطہ نظر امریکی ایوانوں اور اداروں تک موثر انداز میں پہنچنا چاہیے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative