Home » کالم » فیاض الحسن چوہان بمقابلہ شیخ رشید
uzair-column

فیاض الحسن چوہان بمقابلہ شیخ رشید

uzair-column

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں اسپیکر کیلئے اپنا امیدوار کھڑا کرنا ،مقابلہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کپتان نے این اے 122کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرلیا ہے اور اب عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو اسی طرح پٹڑی پر رواں دواں رہنے دیں مگرابھی وہ یہ کہتے سنے جارہے ہیں کہ مجھے این اے 122میں تیسری مرتبہ انتخابات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ یہاں پر الیکٹرول دھاندلی ہوئی ہے ۔پہلی مرتبہ بھی پی ٹی آئی کو یہاں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر دوسری مرتبہ بھی اسی طرح کے نتائج نکلے ۔جیت ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے جیت جیت ہوتی ہے پھر پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ یہ بات ایاز صادق سے نہ کہنا وہ تو تیسری مرتبہ بھی مقابلے کیلئے تیار ہوجائیں گے کیونکہ اب یہ بات ایاز صادق کو معلوم ہے کہ عوام نے جو فیصلہ دیا ہے پھر بھی وہ یہی فیصلہ دینگے ۔پاکستان تحریک انصاف اس انتخاب کے بعد بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں بھی اوندھے منہ گر پڑی ہے ۔ایک امیدوار جس کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ اس کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے وہ بھی فتح حاصل کرنے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوگیا۔ابھی تک باقی دیگر آزاد امیدواروں کی جانب سے بھی کچھ ایسی ہی آوازیں آرہی ہیں کہ وہ بھی ن لیگ ہی کی حمایت کریں گے ۔سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی تقریباً سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق ہی کی حمایت کی اور وہ دو تہائی اکثریت سے فتحیاب ہوکر سپیکرقومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں ۔اس کے بعد شفقت محمود نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ان سے تعاون کریں ۔اب پی ٹی آئی کے پاس تعاون کرنے کے علاوہ اور کون سا راستہ اب تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ہی پی ٹی آئی کوسیاست کرنا پڑے گی ۔پی ٹی آئی جو اپنے آپ کو اس وقت ملک کی دوسری سیاسی جماعت کہتی ہے ہوسکتا یہ صحیح بھی ہو بہرحال دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔پی ٹی آئی کا ایک بڑا ہی جذباتی سپوکس مین جو کہ اکثروبیشتر نجی ٹی وی چینلز پر بڑی ہی دھواں دار گفتگو کرتا تھا اور پی ٹی آئی کا نقطہ نظر بھرپور انداز سے پیش کرتا تھا ۔اس کے پاس ثبوت بھی تھے وہ آﺅٹ سپوکن بھی تھا مگر نامعلوم کون سی ایسی وجوہات ہوئیں کہ اس کو ایک دن اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا وہ بے چارہ اس معاملے میں بڑا پریشان تھا اس نے تو ایک طویل اننگ کھیلنے کا سوچ رکھا تھا جہاں بھی جاتا تھا کپتان کی پگڑی کو بلند رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا ۔پھر جب ایک ایسا انہونا فیصلہ سامنے آیا تو وہ گویا کہ جیسے پھٹ پڑا کہتا رہا کہ میرا کیا قصور ہے پھر آخرکار اس نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں اس نے حلف اٹھایا اور یہ کہا کہ میرے خلاف شیخ رشید نے یہ سارا جال بنایا ہے ۔اب قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف فیاض الحسن چوہان ہے ۔فیاض الحسن چوہان ایک انتہائی ایکٹو سیاسی کارکن ہے ۔یہ بہت پہلے شباب ملی میں رہا ،پھر راولپنڈی میں ایک آسیہ ایوب کیس ہوا اس میں فیاض الحسن نے آواز ٹھا کر بہت شہرت پائی پھر یہ آہستہ آہستہ سفر چلتا رہا،چونکہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی پھر جب فیاض الحسن چوہان نے یہ دیکھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کا بول بالا ہونے والا ہے تو اس نے چھلانگ لگا کر پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا کیونکہ اس نوجوان سیاستدان کے اندر ایسی صلاحتیں موجود تھیں جس کی وجہ سے یہ ترقی کرتا چلا گیا مگر چونکہ اس کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر بہت کٹھن ہے اوراس میں آگے نکلنے کیلئے بہت ٹھنڈے ٹھنڈے اور دھیمے دھیمے چلنا پڑتا ہے گرم گرم نوالہ کھا لینے سے اپنا ہی منہ جل جاتا ہے اور تیز چلنے سے اگر آدمی گر پڑے تو اس کے اپنے ہی دانتوں کو نقصان پہنچتا ہے اب دیکھنے کی یہ بات ہے کہ فیاض الحسن نے جو یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا شیخ رشید کا تھا تو اس میں کتنی حقیقت ہے ۔دوسری جانب سے اس کی نہ کوئی تردید آئی ہے اور نہ ہی تصدیق ہوئی ہے ۔کچھ واقفان حال اور بھی کہانی سناتے ہیں کہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ درپیش آیا۔کچھ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات تھے ،کوئی کچھ چاہ رہا تھا کوئی چاہ رہا تھا ۔ان کی تقسیم کی وجہ سے بھی مسائل درپیش ہوئے ۔بہرحال اب تو کپتان نے فیصلہ کرلیا ہے اور ابھی کے پی کے حکومت میں بھی ایک ممبر کے لیے نوٹیفکیشن تقریباً تیار ہوچکا ہے اسے بھی تحریک انصاف سے اللہ حافظ کہہ دیا جائیگا ۔اب کپتان جب اس قسم کے ایکشن لے رہا ہے تو اس کو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی کی ٹرین میں کون کون سوار ہورہاہے اب پھر پارٹی سے نکالنے پر یہ لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کریں گے ۔پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی اتنا نقصان ا ٹھا چکی ہے اور اب پھر ان فیصلوں کے بعد 2018ءکے انتخابات میں بھی نئے نقصان کیلئے تیار رہے ۔ابھی تو دوسرا باب کھلا ہی نہیں ہے ۔ریحام خان نے پاکستان واپس آنا ہے اوراس کے بعد وہ سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گی اور بہت زیادہ امکانات یہ غالب ہیں کہ انہیں کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت شمولیت کی دعوت دے گی اور پی ٹی آئی بہت خوب جانتی ہے کہ کون سی جماعت ریحام کو شمولیت کی دعوت دے سکتی ہے اس کے بعد پی ٹی آئی کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین بھی برباد ہوجائیگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative