Home » کالم » قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں!
rana-biqi

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں!

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے تدبر ، سیاسی فراست او ر مشکل ترین وقت میں بھی قول و فعل میں یکسانیت کے علم کو بلند کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی بے لوث جستجو کے سبب ہی ہندو اکثریت اور برطانوی حکومت ہند کے گٹھ جوڑ کے باوجود قائد کی جمہوری تحریک کے تسلسل سے ہی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد و خود مختار اسلامی جمہوری ملک کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا تھا۔ پاکستان کا وجود اِس لئے ممکن ہوا تھا کہ برّصغیر کی مسلم قوم نے قائداعظم کی تحریک پر یقین کامل رکھتے ہوئے 1946 کے انتخابات میں اُنہیں غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ وعدوں اور معاہدوں کی پاس داری کے حوالے سے قائداعظم کا ریکارڈ سیاسی لغزشوں سے پاک ہی نظر آتا ہے۔ سب سے زیادہ اُن کی فراست پنجاب باؤنڈری کمیشن میں غیر قانونی فیصلے کے حوالے سے سامنے آتی ہے جب اُنہوں نے اپنے تقسیم ہند کے وقت پنجاب کی سرحدوں کے تعین کیلئے ریڈکلف کی ثالثی کو تسلیم کر لیا تھا اُس وقت اُنہیں علم نہیں تھا کہ ریڈ کلف لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دباؤ پر پنجاب باؤنڈری کمیشن میں ہیر پھیر سے کام لیں گے۔ چنانچہ قائداعظم نے تقسیم ہندکے بعد اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیسی کیسی بے انصافیاں ہوئی ہیں ، تقسیم کا کام ختم ہوگیا ہے باؤنڈری کمیشن کا فیصلہ غیر منصفانہ اور بدنیتی پر مبنی ہے جسے قانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ کہا جا سکتا ہے ۔ لیکن بہرحال اب یہ فیصلہ ہو چکا ہے لہذا ہم نے جو وعدے کئے تھے اُنہیں پورا کرنا ہے۔پاکستان نے چونکہ یہ ثالثی قبول کی تھی لہذا صول کا تقاضا یہی ہے کہ یہ فیصلہ کتنا ہی الم انگیز اور تکلف دہ کیوں نہ ہو اِسے قبول کیا جائیگا۔ آج ملک انتخابات کی دہلیز پر ہے لیکن صد افسوس کہ گزشتہ کئی عشروں سے قائداعظم کی میراث کی داعی ہونے کے باوجود ملکی ن لیگ کی سیاسی قیادت نے بانی پاکستان کی تحریک کے افکار کو جس بیدردی سے بائی پاس کرتے ہوئے سیاست میں کرپشن کا بازار گرم کر دیا ہے ، کی مثال کم از کم تحریک پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں عوامی راج کی فکر کو مہمیز دینے کے بجائے پہلے تو ڈیل کی سیاست کی بنیاد پر نگران حکومتوں میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کیلئے ایک ایسے طریقہ کار وضح کیا گیا ہے جس سے انتخابات کے دوران بھی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے ہی نگران حکومتوں میں سامنے آئیں تاکہ بظاہر کرپشن کے شواہد کو عوام تک پہنچنے سے روکا جاسکے ۔ البتہ جب حکمران ملک کو ذاتی جاگیر سمجھ کر سیاسی طاغوت بن جاتے ہیں اور قتدار کا سرچشمہ عوام کو سمجھنے کے بجائے اپنے مخصوص مفادات کے تحت خدا کی مخلوق کو انتہائی دگرگوں حالت میں لا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں تب انگریزی کے ایک محاروے (Man proposes God disposes) کیمطابق قادر مطلق اِن سیاسی و سماجی چالاکیوں کو اُن کے بنانے والوں پر ہی پلٹ دیتے ہیں۔ بقول اقبالؒ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ….. ؂
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے ملکی سیاسی قیادت کئی عشروں سے حکمرانی کرنے ، سیاست کو کاروبار بنانے ، کرپشن کو زندگی کا مقصد بنانے جس کی جھلک اب سپریم کورٹ آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو کی تفتیشی انکوائریز اور مقدمات میں روز بروز عیاں ہوتی جا رہی ہے، اِس پر طرہّ یہ کہ عوام کی گردن غیرمعمولی بیرونی اور گردشی قرضوں کے جال میں پھنسانے کے بعد بھی جھوٹ ، کپٹ میں لپٹی طاقت گفتار سے ایک مرتبہ پھر سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چنانچہ ن لیگ کی نااہل سیاسی قیادت باعزت طور پر اقتدار سے دستبرادار ہونے کے بجائے طاغوتی طاقتوں کی مدد سے جرائم کو سیاسی رنگ دے کر نہ صرف سیاست کو ہی جرائم سے آلودہ کرنے میں پیش پیش ہے بلکہ منصب وزیراعظم اور ن لیگ کی قیادت سے تاحیات نااہل قرار دئیے جانے کے باوجود یہی نااہل شخصیت عقل کل بن کر قوم کو درس انسانیت دینے میں مصروف نظر آتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ن لیگ سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں مخالف سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے مل کر طے کی جانے والی آئینی ترمیم اور قواعد کو تسلیم کرنے کے باوجود نگران حکومتوں کے قیام کے حوالے سے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی تعیناتی سے روگردانی کرتی نظر آتی ہے۔ طے شدہ طریق کار کیمطابق مرکز اور صوبوں میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ حزب اختلاف کے لیڈر کی مشاورت سے نگران وزیراعظم اور نگران صوبائی وزیراعلیٰ کا تعین کرتی ہیں لیکن اگر تعین پر اتفاق نہ ہوسکے تو پھر معاملہ اسمبلی کی کمیٹی متفقہ طور پر کرتی ہے اور اگر یہااں بھی اتفاق رائے نہ ہوسکے تو پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان دونوں جماعتیں کے طے کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو اپنی صوابدید پر اہم منصب پر تعینات کر دیتے ہیں۔
اِسی اصول کیمطابق مرکز میں دونوں بڑی جماعتوں نے نگران وزیراعظم کا انتخاب متفقہ طور پر کر لیاجسے تمام دوسری جماعتوں نے بھی قبول کیا۔ صوبہ سندھ میں بھی یہ معاملہ دونوں بڑی جماعتوں کی مشاورت سے طے ہوگیا یہاں بھی کوئی منفی آواز سنائی نہیں دی۔ جبکہ صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبر پختون خواہ اور صوبہ بلوچستان میں یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر چلا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی صوابدید پر متفقہ طور پر کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ افراد کے بجائے حزب اختلاف کے نامزد کردہ افراد میں سے سابق جسٹس دوست محمد کو وزیراعلیٰ مقرر کر دیا جس پر کوئی منفی آواز بلند نہیں ہوئی، بلاوچستان میں بھی ایسا ہی ہوا لیکن جب صوبہ پنجاب میں الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کے نمائندے کے بجائے متفقہ طور پر حزب اختلاف کے نامزد کردہ دیانت دار پڑھے لکھے پروفیسر حسن عسکری کو جو پنجاب یونیورسٹی میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تو سابق نااہل وزیراعظم سے لیکر اُن کو اپنا وزیراعظم ماننے والے سابق قانونی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور اُن کے حاشیہ برداروں نے ہاہاکار مچا دی ہے کہ حسن عسکری کی تقرری سے الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہوگی، کیوں؟کہنے والے کہتے ہیں کہ اِس اہم تعیناتی سے الیکشن کمیشن کی ساکھ تو متاثر نہیں ہوگی لیکن سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے صوبہ پنجاب میں 56 پرائیویٹ کمپنیوں، صاف پانی کے ادارے اور آشیانہ ہاؤسنگ کے ذریعے جس لوٹ مار کا بازار گرم کیا تھا اُس کے ریکارڈ تک قومی احتساب بیورو کی پہنچ ضرور ہو جائیگی۔ یہی تکلیف بظاہر قومی احتساب بیورو کی جانب سے شاہد خاقان عباسی، میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے حوالے سے انکوائریز کی منظوری سے بھی سمجھ میں آتی ہے۔ در حقیقت، اِس سے قبل اِن دونوں بڑی جماعتوں نے اتفاق رائے سے قومی احتساب بیورو کے لاڈلے سابق نیب چیف قمر الزمان کی جگہ جسٹس جاوید اقبال کو نیب چیف کے منصب پر تعینات کیا تو سب کچھ ٹھیک ہی تھا لیکن جب جسٹس جاوید اقبال نے قومی مفادات کے تحت ملک سے کرپشن ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تو ن لیگ اُن کی تعیناتی کے خلاف درخواست لے کر سپریم کورٹ میں پہنچ گئی جسے گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا ہے۔ ایسی ہی ن لیگی سیاسی قیادت کی چالاکی اُس وقت دیکھنے میں آئی جب عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ (ق) کے سابق سیاسی رہنما سید مشاہد حسین جنہوں نے نواز شریف کی حمایت سے ن لیگ کی سینیٹر شپ قبول کرکے ق لیگ سے اپنی وفاداری تبدیل کرلی تھی کی جانب سے ماضی میں میگا پروجیکٹس میں ن لیگی قیادت کی کرپشن کے حوالے درخواست فیصلے کیلئے عدالت عظمیٰ کے سامنے آئی جس میں سیسی وفاداری تبدیل کرنے کے حوالے سے سید مشاہد حسین نے عدالت عظمیٰ میں حاضری سے گریز کیا لیکن اُنہیں عدالت عظمیٰ میں تو پیش ہونا ہی پڑیگا۔کیا سید مشاہد حسین نے مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر ن لیگ کی قیادت کی جانب سے پانچ برس کیلئے سینیٹر بننا اِسی لئے قبول کیا تھا تاکہ وہ ن لیگ کی میگا کررپشن کے حوالے سے اپنے کیس سے دستبردار ہو جائیں ا،س کا فیصلہ تو عدلات عظمیٰ میں ہی ہوگا؟ ویسے تو ن لیگ کی قیادت نے اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والے جنوبی پنجاب کے سیاسی رہنماؤں کے علاوہ بیشتر دیانتدار لیڈروں بشمول سابق وزیراعظم جمالی ، نواب آف بہاولپور ، ذوالفقار کھوسہ وغیرہ کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے پر لوٹا کریسی کے الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کیا ہے لیکن خود میاں نواز شریف کی صفوں میں بیشتر حاشیہ بردار وہی ہیں جو سابق صدر مشرف اور ق لیگ کی حکومتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور اب نواز شریف کے ایجنڈے پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال ن لیگ کیلئے صداقت اور امانت کے حوالے سے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ہے بقول اقبالؒ ……. ؂
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تمھیں پاس نہیں
*****

About Admin

Google Analytics Alternative