37

قول ما ہر گز موافق نےست با کردار ما

ےہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم من حےث القوم منافقت کا شکار ہےں ۔ اس کا مظاہرہ عام لوگوں کی طرف سے بھی اور حکمرانوں ،سرکاری محکموں اور اداروں کی طرف سے بھی برابر کےا جاتا ہے ۔ روزانہ اےسے اقدامات اور اعلانات سامنے آتے رہتے ہےں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کہتے کچھ ہےں اور کرتے کچھ ہےں ۔ قول و فعل کے تضاد مےں ہمارا پورا سماج ہی اسےر ہے ۔ جس کو دےکھو مبلغانہ گفتگو کر رہا ہے کہ جھوٹ نہ بولو ،کسی کا حق نہ کھاءو ،بددےانتی خدا کو پسند نہےں ،رزق حلال مےں ہی نجات ہے ،رشوت کا عذاب سخت ہے،رشوت لےنے اور رشوت دےنے والا دونوں دوزخی ہےں ،اےسی احادےث ہماری زبانوں پر اکثر ورد زبان رہتی ہےں ۔ بد عنوانی اوررشوت خوری ضمےر کی موت ہے ،ےہ زہر قاتل ہے ،اےک ناسور ہے ، رزق حلال عےن عبادت ہے،قومی دولت قوم کی امانت ہے لےکن رشوت لےتے اور رشوت دےتے وقت ےہ فرمودات اور احادےث ےکسر فراموش کر دی جاتی ہےں ۔ جھوٹ رےاکاری اور مکر کے جس ماحول مےں ہم سانسےں لے رہے ہےں اس کے اثرات من حےث القوم سب پر ہی حملہ کرتے نظر آتے ہےں ۔ صرف زبانی بےانوں ،خطابوں اور گفتگو پر اکتفا کرتے ہوئے تقدےرےں نہےں بدلا کرتےں ۔ رائے قائم کرنا اور زبانی کلامی کسی دوسرے کو تلقےن کرنا تو آسان ہے لےکن خود کو اس پراسےس کے عمل سے گزارنا مشکل ہے ۔ ان خوبصورت باتوں پر عمل پےرا ہونے اور ان پر عمل درآمد کو بھی ےقےنی بنانے کی ضرورت ہے ۔ کےا وجہ ہے کہ کسی بھی چےز کے ثمرات پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دےتے ہےں ۔ کس قدر عجےب بات ہے سادہ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائےں اور خود گلچھڑے اڑائےں ۔ زندگی مےں شراب کو چھوا تک نہےں کےونکہ اسلام اس کی اجازت نہےں دےتا ۔ ےہ انسانی حواس کو قابو سے باہر کر دےتی ہے لےکن چوری کےا بھونا مرغ سامنے آئے تو طبعےت مکدر ضرور ہوتی ہے لےکن کےا کےا جائے پےٹ کے دوزخ کا بھرنا بھی تو اےک مجبوری ہے ۔ دفتر مےں کسی کا اٹکا ہوا کام کرتا ہوں اور وہ خوش دلی سے کچھ چائے پانی بہ رضا و رغبت جےب مےں ڈال جائے ،کسی کا دل توڑنا بھی تو کسی طور درست عمل نہےں ۔ انصاف کی بالا دستی مےرا مشن ہے لےکن جب گواہان ہی بک جائےں تو قاضی مجبور ہو جاتا ہے اور انصاف کا قےام مشکل ہو جاتا ہے ۔ آج ہم حقےقی امےن کے روپ مےں دوسروں کو دھوکے دےنے مےں مصروف ہےں ۔ کبھی کسی نے دےکھا کہ کوئی اپنی غلطی پر ندامت محسوس کرتے ہوئے خود کو اصلاح کی بھٹی مےں جھونک کر خود کو کندن بنانے کی کوشش کر تا ہو ۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ خود اپنے گرےبان مےں جھانک کر کرے ۔ کسی کو حقوق اور فراءض کی ادائےگی کرنے کی تلقےن کرے اور خود پامالی کرتے کرتے اےک کے بعد اےک نےا تجربہ کرنے پر گردن اکڑائے پھرے ۔ وطن عزےز مےں سےاسی جماعتےں مختلف اوقات مےں اشتہارات پر درج ذےل نعروں کا جلی حروف مےں اندراج کرتی ہےں کہ ہر ہاتھ کےلئے کام ،ہر پےٹ کےلئے روٹی ،ہر کنبے کےلئے مکان ،بےمار کےلئے علاج ،ہر بچے کےلئے تعلےم ،ہر عورت کےلئے احترام ،ہر کمزور کےلئے تحفظ ،قانون کی حکمرانی ،رےاست مدےنہ اور اسلامی معاشرے کا قےام ،معاشی افراتفری اور بحران پر قابو ،انصاف دہلےز پر ،سادگی کو رواج ،کسی کا بھی بےرون ملک علاج نہےں ۔ کےا روٹی مل گئی ،مہنگائی ختم ہو گئی ،عورت کو احترام دےا گےا ،رےاست مدےنہ کا قےام عمل مےں آ چکا ۔ ہمارے ہاں نئی ہوائےں بہاروں کے ہمرکاب حرےفوں کو حلےفوں مےں تبدےل کر دےتی ہےں اور ان ہواءوں کے دوش پر ضمےر نامی حساس چےز بھی رقص کناں ہوتی دوسروں کی جھولی مےں جا گرتی ہے ۔ آج کئی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی جو کبھی پےپلز پارٹی اور ن لےگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے وہ اپنے نظرےات مےں تبدےلی کا سفرسبک رفتاری سے طے کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صفوں مےں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہےں ۔ اسلام نافذ کرنے والے بھی اس کے نفاذ مےں مخلص نہےں رہے ۔ اےک جرنےل کے اقتدار مےں اسلام نافذ کرنے پر زور دےا گےا تو دوسرے کے حکم پر اسے کم کرنے کی افادےت ظاہر کی گئی لےکن نہ وہ اسلام کے نفاذ مےں مخلص اور نہ ےہ اعتدال پسندی کےلئے اخلاص رکھتے تھے حالانکہ پاکستان کے عوام کی اکثرےت مسلمان ہے اور اسے اپنا اسلام ثابت کرنے کےلئے اسٹےبلشمنٹ کے نفاذ اسلام کی ضرورت نہےں تھی ۔ ہمارے ہاں بنےاد پرست بھی مذہب کے نام پر ،غےر ملکی قوتوں کے فنڈز پر مذہب کی دکان چمکانے اور سجانے کے ماہر ہےں ۔ اےک طبقہ مذہب کا ٹھےکےدار ہے تو دوسرا بنےادی حقوق کا چمپئےن ہے ۔ دونوں کے اپنے اپنے طرےقہ ہائے واردات ہےں ۔ دلچسپ حقےقت ےہی ہے کہ دونوں کے پےچھے امرےکہ کی عالمی ضرورتےں ہی جلوہ گر ہےں ۔ اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ملائےت ےہ نہےں کہ کسی نے داڑھی رکھی ہے ےا ٹخنوں سے اوپر شلوار پہن رکھی ہے بلکہ ملائےت اختلاف رائے برداشت نہ کرنے کا نام ہے ۔ قلم اپنی روانی مےں کدھر چلا گےاتو ناظرےن ہمارے ہاں نظم و ضبط اور صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنے کرنے کا پرچار کےا جاتا ہے ،اس ضمن مےں قائد اعظم;231; کا قول دہراےا جاتا ہے لےکن ہم بازار مےں ہوں ، ٹکٹ لےنا ہو ےا بس مےں سوار ہونا ہو تو ےہاں صبرو تحمل کا دامن چھوڑنے مےں ہی آسانی سمجھی جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں لائن مےں کھڑے ہوں ےا پھر بےنکوں سے پنشن ےا ہسپتالوں مےں دوائی لے رہے ہوں ،معاشرے مےں اونچ نےچ اور نا ہمواری کے مظاہر ہی دےکھنے کو ملتے ہےں ۔ سماجی نا انصافےوں کا خاتمہ ،رواداری،ہر خاص و عام کی داد رسی اور مساوات کے بلند بانگ دعوے اور نعرے لےکن زمےنی حقائق حق دار حق سے محروم ،عدم مساوےانہ سلوک اور غربت ختم کرنے کے دعوے اور نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ وطن عزےز مےں جب کسی پل پر سے گزرےں تو لکھا ہوتا ہے کہ پل کی تصوےر لےنا منع ہے لےکن پل کے ارد گرد لوگ تصاوےر بنا رہے ہوتے ہےں کوئی روکنے ٹوکنے والا نظر نہےں آتا ۔ کسی باغےچے کے کنارے بورڈ آوےزاں ہوتے ہےں اور جلی حروف مےں لکھا ہوتا ہے کہ باڑھ پھلانگنا منع ہے لےکن جب ہم پھلانگنے پر آتے ہےں تو بندروں کی قلا بازےوں کو بھی پےچھے چھوڑ دےتے ہےں ۔ رےل کی پٹٹری کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ پٹڑی کراس کرنا قانوناً جرم ہے لےکن قطاروں اور ہجوم کی شکل مےں ےہ عمل جاری و ساری رہتا ہے ۔ گلی کوچوں کے خالی پلاٹوں کے کنارے اےک بورڈ آوےزاں ہوتا ہے کہ ےہاں کوڑا کرکٹ پھےنکنا قانوناً جرم ہے اور خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے حوالہ پولےس کےا جائے گا لےکن ہم وہاں کھلے عام کوڑا کرکٹ کے تھےلے پھےنک رہے ہوتے ہےں حتیٰ کہ ےہ ڈھےر چھتوں تک پہنچ کر پورے محلے مےں تعفن پےدا کر رہے ہوتے ہےں ۔ شہر مےں سڑک کے کنارے سائن بورڈ لگا ہے کہ ےہاں پارکنگ قانوناً جرم ہے لےکن لوگ اس بورڈ کے نےچے اپنی گاڑےاں پارک کر رہے ہوتے ہےں ۔ کسی عام شاہراہ پر بورڈ پر لکھی رفتار 60ےا 70کی حد ظاہر کر رہی ہوتی ہے لےکن ہماری رفتار 100سے تجاوز کر رہی ہوتی ہے ۔ بورڈ پر لکھا ہے کہ آگے خطرناک موڑ ہے رفتار کم کرےں لےکن اس تنبےہہ کا کوئی اثر نہےں ہوتا ۔ اوور ہےڈ برج کے کنارے لکھا ہوتا ہے کہ سڑک پل پر سے عبور کرےں لےکن عوام ہےں کہ سڑک کے بےچوں بےچ دوڑ رہے ہےں ۔ ٹرےفک سگنل پر اشارہ سرخ ہو چکا ہے لےکن پرواہ کئے بغےر خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور اس پر فخر کےا جا رہا اور اتراےا جا رہا ہے ۔ اےمبولےنس کو راستہ دےنا اخلاقی کے ساتھ قانونی فرےضہ بھی ہے لےکن آگے لگی گاڑی کا شاہانہ ڈرائےور اسے حقارت سے دےکھ کر راستہ دےنے پر آمادہ نہےں ۔ ہم دن رات اٹھتے بےٹھتے ےہی پرچار کرتے ہےں کہ ہمےں دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام کرنا چاہیے اور پورے تحمل اور برداشت سے اس پر غور بھی کرنا چاہیے لےکن جمہوری ،معتدل عملی کا مظاہرہ دےکھنے مےں نہےں آتا ۔ شائد ےہ سب باتےں کہنے کےلئے ہی ہےں زندگی پر ;65;pplyکرنے کےلئے نہےں ۔ اےک طرف حقوق انسانی ،جمہورےت ،قانون کی حکمرانی کے بلند بانگ دعوے اور دوسری طرف قانون کی صرےح خلاف ورزی ہی مقصد ہے ۔ معزز قارئےن راقم تو اسی نتےجے پر پہنچا ہے کہ

قول ما ہر گز موافق نےست با کردار ما

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں