Home » کالم » اداریہ » قومی اسمبلی اجلاس طلب،حلف برداری، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب
adaria

قومی اسمبلی اجلاس طلب،حلف برداری، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب

adaria

صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس13 اگست کو طلب کرلیا جبکہ گورنر نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی اسی روز طلب کیا ہے، قبل ازیں نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک نے صدر مملکت کو سمری ارسال کی تھی جس میں اجلاس طلبی کی سفارش کی گئی تھی، قومی اسمبلی کے منعقدہ اجلاس میں نئے ارکان حلف اٹھائیں گے، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگا جبکہ قائد ایوان کا چناؤ 14اگست کے بعد متوقع ہے، انتقال اقتدار کا مرحلہ حتمی مرحلہ کی طرف رواں دواں ہے، قومی اسمبلی میں اس وقت پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 180 جبکہ پنجاب میں186 تک پہنچ چکی ہے، آزاد ارکان، جی ڈی اے اور دیگر ارکان کی حمایت سے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پوزیشن مستحکم دکھائی دیتی ہے جس سے عمران خان آسانی سے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے، گزشتہ روز بنی گالا میں سندھ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ تلواریں نیام میں رکھیں حکومت بنانی اور کرنی ہے، عمران خان کی یہ سوچ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ وہ ملک و قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کیلئے پرعزم ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا کہ ہم صدر مملکت ممنون حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک دن کے لیے اپنا بیرونی دورہ منسوخ کردیں تاکہ عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا سکیں۔ ہماری کوشش ہے کہ عمران خان جلداز جلد حلف اٹھائیں اور الیکشن کمیشن کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے تاہم ان کی حکومت کوشش کرے گی کہ اقتدار میں آکر اپوزیشن کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائیں گے تاکہ آئندہ انتخابات میں سقم کی گنجائش کم ہو۔ دھاندلی سے متعلق اپوزیشن جماعت کی شکایت پر بھرپور قانونی مدد فراہم کریں گے تاہم حلقے کھلوانا اور دوبارہ گنتی کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے قوائد بہت پرانے ہو چکے ہیں جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوموں کو گرداب سے نکالنے اور مختلف چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب سے بڑا کردار قیادت کے اخلاص اور پختہ عزم کا ہوا کرتا ہے، نئی قیادت سے عوام کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور نئی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور اپنے پارٹی منشور پر عمل پیرا ہوکر ملک کو بحران سے نکالے ، ترقی و خوشحالی کیلئے عملی اقدامات کرے۔ حکومت کے انداز فکر اور عملی اقدامات سے ہی عوام کی حالت بدلی جاسکتی ہے، امید ہے کہ نئی قیادت ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب قرار پائے گی، یہاں اپوزیشن کا بھی اہم کردار ہوگا، سیاسی تدبر، بصیرت اور رواداری کے ذریعے ہی سیاسی استحکام پیداہوسکتا ہے اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ مل جل کر برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی و خوشحالی کی راہیں کھل پائیں۔ ماضی کی طرح ایوانوں کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے ، سیاست میں برداشت کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اپوزیشن پرامن احتجاج کرے لیکن گالم گلوچ کی سیاست سے گریز کیا جائے، حکومت کے اچھے اقدام کو سراہنا چاہیے اور جن اقدام پر اپوزیشن کے تحفظات ہوں ان پر مثبت انداز میں تنقیدکی جائے تاکہ حکومت اصلاح کر پائے۔سیاست میں تناؤ جمہوریت کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتا، ماضی کے تجربات اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے لڑائی جھگڑوں سے جمہوریت ہی کو کاری ضرب لگی ، ترقی و خوشحالی کی راہیں متاثر ہوئیں،اب اس پریکٹس کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے ایک نئے عزم کے ساتھ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنا ہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
نندی پور منصوبہ، تاخیر پر سپریم کورٹ برہم
سپریم کورٹ نے نندی پور کرپشن کیس میں سابق چیئرمین نیب قمر زمان چودھری کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے نندی پور منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس ثاقب نثارنے نیب کی تحقیقات میں تاخیر پر اظہاربرہمی کیا،سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹرجنرل کوپیش ہونے کا حکم دے دیا۔نندی پورمنصوبے پررحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو 113 ارب روپے کانقصان ہوا۔عدالت نے کہا کہ جس شخص کی رائے سے منصوبہ تاخیرکاشکارہوااس پرریفرنس کیوں نہیں بنا؟۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوریفرنس بنتے ہیں بنائیں ورنہ فارغ کریں،2012 سے مقدمہ زیرالتواہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سابق چیئرمین اورپراسیکیوٹرجنرل نیب کو بلائیں،اس مقدمے کونمٹانے کیلئے ٹائم فریم دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اہم کیس الماریوں میں رکھ کر بھول گئے ،کیا نیب کو کھلی چھٹی دے دیں ؟۔سابق چیئرمین نیب کیا کرتے رہے ہیں،غلط تفتیش پر تحقیقاتی افسر کیخلا ف کارروائی ہو گی ،عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل اور نیب کے سابق چیئرمین قمر زمان چودھری کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کارکردگی دکھائے ،ریفرنس بنتا ہے تو بنائیں لوگوں کو سولی پر نہ لٹکائیں ،سالوں سے تحقیقات چل رہی ہیں نیب نے کچھ نہیں کیا،پتہ نہیں نیب کو شواہد ثابت کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نوٹس لے تو نیب کو گیئر لگ جاتا ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نندی پور منصوبہ کیس کی سماعت کی،عدالت نے نندی پور منصوبے کی تحقیقات6 ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
سعودی حکومت کا قرض دینے کا گرین سگنل
امریکہ نے قرض کے حصو ل کیلئے پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکائے تو اسلامی ملک امداد کیلئے آپہنچا، سعودی عرب نے اسلامی ترقیاتی بینک کو4 ارب ڈالر سے زائد قرض دینے کا گرین سگنل دیدیا۔ جدہ میں قائم بینک نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اسلام آباد کو قرضہ دینے کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے ۔متوقع وزیر خزانہ اس قرضے کو قبول کرلیں گے ۔اس سلسلے میں کاغذی کارروائی جاری ہے اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اس قرضے کی منظوری دینے کیلئے پاکستانی حکومت کے چارج سنبھالنے کا انتظار کررہا ہے ۔رواں معاشی سال میں یہ قرضہ 25بلین ڈالر کے فنانسنگ گیپ کو مکمل نہیں کرسکتا لیکن اس سے سہارا ملے گا ۔وزارت اعظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان کیلئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اپنے اخراجات کے مسائل کو متوازن کیا جا سکے ،بہت زیادہ در آمد ات اور جمود کا شکار برآمدات مسائل کی وجہ بن رہی ہے ۔اس قرضے سے درآمد ہونے والے تیل کی قیمت ادا کرنی ہے ۔یہ قرضہ سعودی حکومت کی حمایت سے حاصل کیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کو موجودہ مسائل سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجے جانے کے بعد اب پاکستان اور سعودی عرب قریب آگئے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے میں اپنا کردارادا کرنا چاہتا ہے جو لائق تحسین امر ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative